جاپان 12 کورین جنسی کنیزوں کو ہرجانہ ادا کرے، سیول عدالت کا حکم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیول میں جاپانی سفارت خانے کے قریب دوسری جنگ عظیم کے دوران جنسی غلامی سے متعلق ایک مجسمے کی نمائش، 8 جنوری 2021

جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے جمعے کے روز یہ فیصلہ دیا ہے کہ جاپان ان 12 کورین خواتین کو ہرجانہ دے جنہیں دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانی فوجیوں نے جبری طور پر جنسی کنیز بنائے رکھا تھا۔

یہ دوسری جنگ عظیم کے حوالے سے پہلا ایسا فیصلہ ہے جس سے توقع کی جا رہی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کو دوبارہ سے ہوا مل سکتی ہے۔

جاپان نے اس فیصلے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہرجانے سے متعلق تمام معاملات 1965 کے معاہدے میں طے پا گئے تھے، جس کے تحت دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔

سیئول کی ایک عدالت نے جاپان کو حکم دیا ہے کہ وہ ان 12 عورتوں کو 91 ہزار 360 ڈالر کے برابر رقم دے، جنہوں نے اس جبری جنسی غلامی کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ان خواتین کے ساتھ جاپانی فوجیوں کا سلوک انسانیت کے خلاف جرم تھا۔ جس کا ارتکاب اس وقت ہوا تھا جب جاپان نے جزیرہ نما کوریا پر 1910 تا 1945 قبضہ کیا۔

عدالت کے مطابق یہ خواتین جنسی جرائم، بیماریوں، حمل اور ذہنی اذیت کا شکار ہوئیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ جاپان جنوبی کوریا کی عدالت کے حکم پر عمل کرے گا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں نے دسمبر 1941 میں امریکی بندرگاہ پرل ہاربر پر حملہ کیا تھا۔
دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں نے دسمبر 1941 میں امریکی بندرگاہ پرل ہاربر پر حملہ کیا تھا۔

ان کورین خواتین کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ وہ جاپان کے جنوبی کوریا میں اثاثے منجمد کرنے کے لیے قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

جاپانی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ جاپان کے نائب وزیر خارجہ تائیکو اکیبا نے جنوبی کوریا کے سفیر نام گوان پیو کو بلا کر ان سے اس عدالتی فیصلے پر احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں آیا ہے، جب جنوبی کوریا جاپان کے سابق وزیر اعظم شنزو آبے کے بعد جاپان کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر کرنا چاہ رہا ہے۔ جاپان کے سابق وزیراعظم شنزو آبے کے بارے میں جنوبی کورین یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ جاپان کے نو آبادیاتی کردار پر خوشنما چادر چڑھاتے تھے۔

اس سے پہلے 2018 میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات میں تلخی آ گئی تھی جب جنوبی کوریا کی ایک عدالت نے جاپانی کمپنیوں کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ تمام ایسے عمر رسیدہ جنوبی کوریا کے باشندوں کو ہرجانے ادا کریں جن سے جنگ کے دوران جبری مزدوری کروائی گئی تھی۔

یہ تلخی اس وقت کشیدگی میں بدل گئی جب دونوں ممالک نے ایک دوسے کے ساتھ تجارتی جنگ شروع کر دی اور پھر جنوبی کوریا نے یہ دھمکی دی تھی کہ وہ جاپان کے ساتھ فوجی انٹیلی جنس شیئرنگ کے 2016 کے معاہدے سے نکل جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 997 posts and counting.See all posts by voa