کیا قتل ناحق ہماری ثقافت بن چکا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم پاکستانی ہیں، ہم مسلمان ہیں، ہم قابل فخر ہیں۔

کیا کہا؟ کوئی خاص وجہ؟ ارے بھئی، بلا وجہ قابل فخر نہیں ہیں، ہم  نے اس فخر کو کمایا ہے۔ دیکھیں، ہم صرف ایک اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پر یقین رکھتے ہیں، ہم اکثر نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں اور زکوة دیتے ہیں۔ بلکہ ہم صرف اسلام کے ان پانچ اراکین کی پابندی پر ہی اکتفا نہیں کرتے، ان تمام فرائض کو تن دہی سے پورا کرتے ہیں جو مسلم اور پاکستانی ہونے کے ناتے ہم نے خود پر فرض کیے ہیں۔

کون سے فرائض؟ ہاں، اب صحیح سوال پوچھا ناں آپ نے۔ ہمارا سب سے بڑا فرض ہے اسلام کو پاکستان میں نافذ کرنا۔ اب آپ پوچھیں گے کہ کیسے کرتے ہیں ہم یہ؟ تو مزے کی بات بتاتے چلیں آپ کو، ہم یہ اپنے پسندیدہ مشغلے کے ذریعے کرتے ہیں  اور وہ ہے قتل۔

جی ہاں، جی ہاں، قتل۔ ہم نے سیکھا ہے کہ قتل میں عظمت ہے اور کافر قرار دے کر قتل کرنے میں تو جنت ہے اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہو گی کہ ہم صنف، عمر اور رشتے ناتوں کی بنیاد پر اپنے شکاروں میں کوئی فرق نہیں کرتے بلکہ سب میرٹ کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ ہم  نے میرٹ کے کئی پیمانے بھی طے کر رکھے ہیں، جیسے کہ غیرت، مذہبی تفریق، اختلافات، غصہ ، انا، لالچ اور دیگر جسمانی ضروریات وغیرہ۔

جناب ہم نے اس پچھلی دہائی میں ہی بہت سے کارنامے سر انجام دیے ہیں، 2010 میں ہی سیالکوٹ میں دو بھائیوں کوسرعام قتل کیا، ڈاکہ ڈالنے کا شک تھا جناب ان پر، 2016 میں لاہور میں ایک بیٹی کو چارپائی سے باندھ کر زندہ جلایا، اپنی پسند سے شادی کر لی تھی اس نے اور وہ بھی کسی دوسری ذات کے ٓادمی سے، 2017 میں مشال خان کی لاش تک کو مارا، سنا تھا کہ ہمارے رسول (ﷺ) کی شان میں گستاخی کی تھی اس ‘مرتد’  نے، اور ہاں یاد آیا، 2011 میں سلمان تاثیر کو بھی تو اسی وجہ سے قتل کرنا پڑا تھا۔

2019 میں ساہیوال میں ایک خاندان کو مارنے کا موقع ملا اور یہ تو بہترین کارناموں میں سے ہے جناب، وہاں موجود 3 بچے اس واقعے کے عینی شاہد ہونے کے ناتے ہمارے اس بہترین مشغلے سے متعارف ہوئے۔ بچوں سے یاد آیا کہ 2018 میں 7 سالہ بچی زینب کو بھی تو زیادتی کے بعد قتل کیا اور 2020 کے آخری 3 ماہ میں ایک سات سالہ اور دو آٹھ سالہ بچوں کو بھی تو زیادتی کے بعد قتل کرنا پڑا، جناب ہماری بھی تو جسمانی ضروریات ہیں ناں۔

ارے ہاں، 2020 میں ڈاکٹر طاہر احمد کو بھی تو قتل کیا تھا، ‘کافر احمدی’  جو تھا اور 2021 کا آغاز تو ہم نے بہت ہی شان دار انداز میں کیا ہے جناب۔ اسلام آباد میں 21 سالہ اسامہ کہ گولیوں سے چھلنی کیا، بدتمیزی کی تھی اس نے پچھلے دن پولیس کے ساتھ۔ اور ہاں، وہ ‘کافر’ شیعہ لوگ ہیں نا ہزارہ میں، انہیں بھی تو قتل کیا۔ کیا کہا؟ ان کو ہمسائے ملک نے قتل کیا؟ ارے جناب، آپ بھی سمجھے نہیں، بعض اوقات ہمیں اس مشغلے سے لطف اندوز ہونے کے لیے صرف خاموشی اور لاشوں پر سیاست کی ضرورت ہوتی ہے۔ اب بتائیں، ہمارا فخر جائز ہے نا؟ ٓاخر ہم پاکستانی اور مسلمان ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ذکیہ زینب کی دیگر تحریریں