قطری شہزادہ، تلور کا شکار اور شہد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"

وفاقی حکومت کی جس طرح کوئی کل سیدھی نہیں ہے۔ اِسی طرح کوئی سیاسی یا انتظامی فیصلہ بھی درست نہیں ہوتا۔ پانامہ لیکس کو ہی لے لیجیے۔ سپریم کورٹ اور عمران خان کے وکلاء سے سخت ہزیمت اُٹھانے کے بعد بھی عقل ٹھکانے نہیں آئی اور بغیر سوچے سمجھے، حکومت خیبر پختون خواہ سے درخواست کردی کہ قطری شہزادے کو ڈیرہ اسمٰعیل خان میں تلور کی شکار کی اجازت دی جائے اور سرکاری مہمان تصّور کیا جائے۔ حکومت خیبر پخونخواہ کے سیاسی مشیر اشتیاق ارمڑ صاحب کافوری ردّعمل تو یہی آیا ہے کہ تلور نایاب پرندہ ہے اور خیبر پختون خواہ میں تو تلور کی نسل معدومی کا شکار ہے۔ اس لیے قطری شہزادے کو شکار کی اجازت نہیں دی جائے گی بلکہ یہ یاد دہانی بھی کرائی کہ ہماری حکومت اس سے قبل بھی ایک قطری شہزادے پر نایاب پرندوں کے شکار کھیلنے پر 80 ہزار روپے جرمانہ عائد کرچکی ہے۔

وفاقی حکومت کو، خیبر پختون خواہ کی حکومت سے درخواست کرتے وقت ذرا بھی خیال نہیں آیا کہ وہاں تحریک انصاف کی حکومت ہے اور تحریک انصاف قطری شہزادے کو لے کر کس قدر خائف و سنجیدہ ہے۔ ہم کو تو یہ وفاقی حکومت کی بدحواسی محسوس ہوئی لیکن ہمارے ایک دوست، جن کو اپنی سیاسی و سماجی بصیرت پر ناز ہونے کے ساتھ سیاسی و سماجی مسائل پر دور کی کوڑی لانے پر ملکہ حاصل ہے۔ فرمانے لگے، آپ کے علم میں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پاس ذہین و فطّین سیاسی مشیروں کی فوج ظفر موج ہے اور وہ کوئی ا یسا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جس سے عمران خان اور وزیراعلی خیبر پختون خواہ کی ہرزہ سرائی ہو اور وہ زچ نہ ہوں۔ آپ مانیں یا نہ مانیں، یہ خط بھی انہی ذہین و فطّین سیاسی مشیروں کے مشورے سے لکھا گیا ہوگا۔ تاکہ تلور کے شکار کی درخواست دے کر حکومت خیبر پختون خواہ کو دق اور بر انگیخت کیا جائے۔

لیکن ہم اپنے دوست کی رائے کو درست نہیں سمجھتے۔ ہمارا یہی خیال ہے کہ وفاقی حکومت عقل و ہوش کے ساتھ حواس بھی کھو بیٹھی ہے۔ وفاقی حکومت کو احساس نہیں ہے کہ جب سے تحریک انصاف نے خیبر پختون خواہ کی حکومت سنبھالی ہے۔ وہاں دودھ کی نہریں بہنی شروع ہوگئیں ہیں اور ماہ اکتوبر کے اواخر میں تو ایک ایسا واقعہ منظر عام پر آیا، جس سے ا حساس ہوا کہ اب صوبے میں شہد کی بھی فراوانی ہے۔ واقعہ کچھ یوں ہے کہ حکومت خیبر پختون خواہ کے ایک صوبائی وزیر، وفاقی دارالحکومت میں شہد کی نہریں بہانے کے لیے، تبرّک کے طور پر اپنے صوبے کا شہد، ایک پاکیزہ بوتل میں بھر کر اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھے۔ لیکن اُن کی اِس نیک خواہش کو کم عقل پنجاب پولیس نہ سمجھ پائی، بلکہ اُلٹی اُن کی دوڑیں لگوادیں۔ اگر آج وہ شہد اسلام آباد پہنچ جاتا تو رواں ماہ کے اواخر اور نئے سال کی آمد پر وفاقی دارالحکومت میں شہد کی فراوانی ہوتی اور اہل ذوق حضرات صوبائی حکومت کو کتنی دعائیں دیتے۔

بہرحال وقت اب بھی نہیں گذرا ہے۔ قطری شہزادہ تو ابھی بھی ملک میں موجود ہے۔ اِس لیے وفاقی حکومت کو چاہیے، درخواست میں جہاں تلور کے شکار کی اجازت کاجملا تحریر ہے۔ اُس کوحذف کرکے یا نئے ِ سرے سے درخواست دی جائے کہ قطری شہزادہ، مشہور زمانہ صوبائی شہد کے ذائقے سے لطف اندوز ہونا چاہتا ہے تو ہم کو یقین کامل ہے کہ صوبائی حکومت، جنگلی حیات اور شہد سے متعلق تمام صوبائی

قوانین کو بالائے طاق رکھ کر، قطری شہزادے کو صوبے میں تلور کے شکاراور شہد سمیت تمام دستیاب سہولیات سے لطف اندوز ہونے کا بھرپور موقع فراہم کرے گی۔ اس کو کہتے ہیں، ایک پنتھ دو کاج!

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •