دادو مجھے آپ کی بہت یاد آتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری دادو کے ساتھ میرا رشتہ بہت گہرا تھا مگر اس بات کا احساس مجھے 11 جنوری 2016 تک نہیں ہوا۔ میری دادو ہمارے گھر میں رہتی تھیں اور شکر خدا کا کہ ہم اکٹھے رہتے تھے ورنہ جو چند لمحات میں نے ان کے ساتھ گزارے، میں شاید وہ بھی نہ گزار پاتی۔ وہ بہت سادہ اور دھیمے مزاج کی مالک تھیں۔ میں نے کبھی انہیں غصے میں نہیں دیکھا۔ ہفتے اور اتوار کے دن جب مجھے سکول سے چھٹی ہوتی تھی میں تب بھی صبح سویرے اٹھ جاتی۔ اتنی صبح گھر میں صرف دادو جاگ رہی ہوتی تھیں اور میں اٹھتے ہی ان کے پاس چلی جاتی۔

ایک دفعہ ہمارے سکول میں کوئی مقابلہ ہوا اور میں اس میں جیت گئی۔ میں گھر آئی تو جو کپ جیتنے پر مجھے ملا تھا وہ میں لے کر فوراً دادو کو دکھانے گئی۔ وہ بہت خوش ہوئیں اور مجھے بہت مبارک باد دی اور پھر سجاد چاچو سے کہا کہ مجھے انعام دیں۔ انہوں نے مجھے کچھ پیسے دیے اور میں خوش ہو گئی۔

دسمبر 2015 میں ہم چھٹیاں گزارنے راولپنڈی گئے ہوئے تھے۔ میں واپس آئی تو دادو سے ملی۔ دادو جیسی ہمیشہ ہوتی تھیں ویسی نہیں لگ رہی تھیں۔ غالباً وہ سیڑھیوں سے گر گئی تھیں اور انہیں چوٹ لگ گئی تھی۔ چند دن بعد دادو کی طبیعت بگڑنے لگی۔ ایک ڈاکٹر گھر پر بلایا، اس نے دادو کو چند دوائیاں دیں مگر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔

دادو کی طبیعت مزید بگڑنے لگی اور گھر والے دادو کو ہسپتال لے جانے لگے۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ جانے سے پہلے سارے گھر کو کیسے دیکھ رہی تھیں۔ وہ جان گئی ہوں گی کہ وہ اس گھر کو آخری مرتبہ دیکھ رہی تھیں۔ دادو کو ہسپتال میں داخل کر لیا گیا۔

مجھے پورا اطمینان تھا کہ دادو ٹھیک ہو کر واپس آ جائیں گی پر میں غلط تھی۔ گھر میں عجیب سی خاموشی تھی۔ 11 جنوری 2016 کو 9 بجے خبر آئی اور قیامت ٹوٹ پڑی۔ میری بہترین دوست ہمیشہ کے لیے چلی گئی تھیں۔ سات سال کی چھوٹی سی مشال بے حد روئی اور آج بھی دادو میں یونہی روتی ہوں۔

آپ کو گئے پانچ سال ہونے والے ہیں۔ میں بہت رونا چاہتی ہوں۔ دادو آپ کی آواز یاد آتی ہے۔ ہر بار سوچتی ہوں کاش آپ ہوتیں۔ کاش آپ ہوتیں ابھی دادو۔ افسوس جب آپ ہمارے ساتھ تھیں تب میں نے آپ کو کبھی نہیں کہا پر دادو مجھے آپ سے بے انتہا محبت ہے۔

مجھے یاد ہے کہ ایک بار میری ایک سہیلی کی دادی اسے سکول سے چھٹی پر لینے آئیں۔ تب دادو کو گئے چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے اپنی دادو کی بے حد کمی محسوس ہوئی تھی۔ اداس گانے، اداس شعر سب سن کر، دادو مجھے آپ کی یاد اور بھی زیادہ شدت سے آتی ہے۔

ہم نے ایک ساتھ کم وقت گزارا پر اس میں ہی میرا دادو سے رشتہ اتنا گہرا ہو گیا۔ آج جن لوگوں کے پاس ان کے بڑے ہیں وہ انتہائی خوش قسمت ہیں۔ میرے پاس بھی دادو تھیں مگر یہ زندگی ہے۔ اک پل میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔ جن لوگوں کے بارے میں ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گے وہ کبھی بھی جا سکتے ہیں۔ دل کے قریب کسی انسان کو کھو دینا ایسا غم ہے جو کبھی کم نہیں ہو سکتا۔

مجھے وقت سے ہمیشہ یہ گلہ رہے گا کہ اس نے میری دادو اتنی جلدی مجھ سے چھین لیں۔ پر دادو، آپ جہاں بھی ہیں، بس میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ ہم سب ہمیشہ آپ کو یاد کریں گے۔ آنسو بہاتے رہیں گے۔ گھر میں آپ کی کمی ہمیشہ ایک تکلیف دہ احساس دلاتی رہے گی۔

میں نے آپ کے ساتھ جو پل گزارے وہ زندگی کے سب سے انمول لمحے تھے۔ ان لمحوں کو دوبارہ جینے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں۔ ہماری وہ باتیں، میرا وہ آپ کے کچن میں کھانے کی چیزیں بنانے کی ناکام کوشش کرنا، وہ میرا اور آپ کا ٹیرس پر بیٹھ کر باتیں کرنا، لوگوں کے بارے میں اپنے خیالات بتانا۔ آپ کا وہ مجھے سمجھانا، سب کچھ بہت یاد آتا ہے۔

بس دادو میں اس سے زیادہ نہیں لکھ سکتی پر آپ کے لیے میرے الفاظ کبھی بھی ختم نہیں ہوں گے۔ میرے لیے یہ ایک اعزاز ہے کہ میں اپنی دادو کی پہلی پوتی تھی اور ان کے پوتے پوتیوں میں سب سے زیادہ اور قیمتی وقت میں نے ان کے ساتھ گزارا۔ انہوں نے مجھ سے جو پیار کیا وہ پیار کا سب سے خالص روپ تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
مشال ادریس کی دیگر تحریریں

مشال ادریس

مشال ادریس کی عمر بارہ برس ہے اور وہ لاہور کے ایک انگلش میڈیم سکول کی طالبہ ہیں

mishal-idrees has 2 posts and counting.See all posts by mishal-idrees