دوست اچھے ہوں تو زندگی خوبصورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بزرگوں سے سنا ہے کہ ’کلا تے رکھ وی نہیں ہونا چاہیدا‘ یعنی اکیلا تو درخت بھی نہیں ہونا چاہیے ایسے ہی انسان کو بھی اکیلا نہیں ہونا چاہیے ورنہ وہ اپنے سے منسلک ماحول میں موجود دلچسپی کی سب چیزوں سے بیزار اور اپنی دسترس ہونے کے باوجود سب سے لاتعلق ہو جائے گا۔

یکسانیت زدہ ماحول سے اکتا جانا تو ازل سے حضرت انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ حالی صاحب کے ارشاد کے مطابق خوب سے خوب تر کی تلاش اسے سرگرداں رکھتی ہے اور اپنے ماحول کو زیادہ آرام دہ، پائیدار اور دلکش بنانے کی جستجو اسے بھٹکائے رکھتی ہے۔

پچھلے دنوں ایک طبی ابتلا آن پڑی اور اکیلے ہی سب بھاگ دوڑ کرنا پڑی لیکن جب معاملہ اپنی بساط سے باہر جاتا ہوا محسوس ہوا تو پھر ایک دوست کو آواز دینا ہی پڑی۔ ضمناً بات یاد آ گئی کہ نعیم بخاری صاحب ایک دفعہ اپنے ایک انٹرویو میں دوست کی مختلف تعریفیں بیان کر رہے تھے، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ دوست وہ ہوتا ہے جو ہمہ وقت آپ کے لیے اپنا انٹرسٹ چھوڑنے پہ تیار رہے۔ تو وہ دوست اپنا سب چھوڑ چھاڑ اور لپیٹ لپاٹ کے میرے پاس پہنچ گیا اور بقول محترم نقاب خان صاحب کے زیادہ دور نہیں، بس 1500 کلومیٹر دور ہی سے آیا تھا۔

شروع کے دن تو ہسپتال کے گھن چکر میں گزر گئے اور آتے جاتے ہر نئے شعبے کے دروازے پہ درجہ حرارت کی نگرانی اور اپنے مندرجات بتاتے اور خدمت میں گزر گئے۔ مشکل کچھ آسان ہوئی تو دعوت شیراز کا یاد آیا اور پھر ساری توجہ اسی طرف مبذول رہی کہ مہمان داری میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا جائے۔

اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مترادف دوست کی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا۔ گاڑی میں ایک نیا صوتی و بصری نظام لگایا تو اس میں کچھ مزید تبدیلی درکار تھی۔ اس کے ذمے لگایا کہ ’ششکاجات‘ میں ایک یہ اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ جب مخصوص مہارت کی ضرورت پیش آئی تو متعلقہ جگہ پہنچ گئے۔ چند گھنٹوں کی ریاضت سے معاملات درست ہوئے تو حتمی جانچ کے لیے گاڑی دوست کے حوالے کی تو لمحے بھر کے لئے اپنی ہی آنکھوں پہ یقین نہیں آیا۔ کیا یہ وہی گاڑی ہے جسے میں روز چلاتا ہوں؟ کیا یہ وہی گاڑی ہے جس کی میں نے کبھی خواہش کی تھی؟

خوشگوار حیرت کے ملے جلے سے تاثرات تھے۔ جب تک گاڑی جانچ کے مرحلے سے گزرتی رہی، میں اپنے آپ میں خود احتسابی سے گزرتا رہا۔ صرف ایک گاڑی کیا، ہم نے زندگی کی بہت ساری اہم چیزوں کو اسی آنکھ سے دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ مثلاً ہم گاڑی چلاتے ہوئے گاڑی کے اندر بیٹھے ہوتے ہیں، ہمیں معلوم ہی نہیں ہو سکتا کہ یہ چلتی ہوئی باہر سے کیسے لگتی ہے۔ ایسے ہی ہم روز مرہ زندگی میں ایسے کھوئے ہوتے کہ دیکھ ہی نہیں پاتے کہ یہ زندگی باہر سے کیسے لگ رہی ہے۔ کوئی ایک چیز جو ہماری دسترس میں ہو اور انسانی سرشت کے تحت اس میں ہماری دلچسپی بھی کم ہو گئی ہو تو اس میں ہمارے لیے مزید کشش باقی نہیں رہتی لیکن دوسرے لوگوں کے لیے وہ آج بھی اتنی ہی پرکشش ہے کیوں کہ وہ ان کی دسترس میں نہیں۔

عام انسانی زندگی کا سادہ سا اصول ہے کہ جو عطا ہوا ہے اس پہ شکر اور جو رکا ہوا ہے اس پہ صبر لازم ہے۔ جن چیزوں کی یکسانیت سے ہم بیزار ہو چکے ہوتے ہیں وہ آج بھی کسی کا خواب ہو سکتی ہیں۔ ان چیزوں کی اپنی دلکشی تو اسی طرح سے باقی ہے۔

ہمیں تھوڑا باہر نکل کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اپنا نقطۂ نظر اور زاویۂ نگاہ بدلنے کی ضرورت ہے اور ہم وہیں سے اپنی وابستگی پھر سے جوڑ سکتے ہیں۔ زندگی خوبصورت ہے لیکن دوڑنے کی رفتار تیز ہونے اور دوسروں کی خوبصورتی میں محو ہو جانے کے باعث بسا اوقات ہم اپنے حصے کی خوبصورتی کو دیکھ نہیں پاتے اور اکتا جاتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •