ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن میں سمندر کے متعلق سنا کرتے تھے کہ یہ پانی کا ایک لامحدود ذخیرہ ہے، مختلف انواع کی مخلوقات اس میں پائی جاتی ہیں، اس کی ہیئت دل دہلا دینے والی ہے وغیرہ۔ پھر یہ بھی سننے کو ملا ہے کہ سمندر کے اندر لاکھوں طرح کے خزینے پائے جاتے ہیں۔ ایک بات بارہا سنی اور وہ یہ کہ سمندر مردار کو کبھی اپنے اندر رہنے نہیں دیتا۔ چاہے وہ کوئی انسانی لاش ہو یا کوئی اور مردہ مخلوق۔ آج ایک خیال دل میں آیا کہ وہ جن لوگوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ سمندر کی طرح گہرے ہیں، ان میں اور سمندر میں کیا گہرائی کے ساتھ یہ صفت بھی پائی جاتی ہے کہ وہ کسی مردار کو اپنے اندر جگہ نہیں دیتے؟

اس کی تصدیق کے لیے مختلف لوگوں کی زندگی پر نظر دوڑائی۔ بالخصوص ان لوگوں کی زندگی کے متعلق معلومات لینے کی کوشش کی جن کو سمندر جیسے گہرے کہا جاتا ہے۔ پڑھنے اور مشاہدہ کرنے پہ معلوم ہوا کہ ہم جن لوگوں کو گہرے لوگ (deep souls) کہتے ہیں، وہ روح کے بہت ہلکے ہوتے ہیں۔ وہ سب کچھ اپنے اندر سمو سکتے ہیں ماسوائے دوسروں کی طرف سے دیے گئے دکھوں کے۔ اگر آپ انہیں تکلیف پہنچائیں گے تو وہ چیخیں گے چلائیں گے۔ آپ کے منہ پہ برا بھلا کہیں گے۔ آپ کو معاف بھی کر دیں گے۔ لیکن آپ کے دیے ہوئے دکھ کو آپ سے بدلہ لینے کی سوچ کے ساتھ اپنے اندر سنبھال کر نہیں رکھیں گے۔ یقین جانیے یہی لوگ زندگی گزار رہے ہیں۔ باقی سب تو اپنی اپنی مدت پوری کرتے ہیں۔

ہم اپنی روزمرہ کی زندگی کا مشاہدہ کرتے ہیں، ہمارا واسطہ ہر قسم کے لوگوں سے پڑتا ہے۔ جب بھی ایسے کسی شخص سے واسطہ پڑے جو ہمارے ساتھ انتہائی غیر مناسب رویہ رکھے تو وہ ہمیں بھولتا نہیں۔ ہم نہ تو اس کے رویے کو بھلانا چاہتے ہیں اور نہ ہی اس شخص کو۔ وجہ اس کی شاید یہ ہوتی ہے کہ ہم موقع ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں کہ کب بدلہ چکا سکیں۔ نتیجہ اس کا یہ نکلتا ہے کہ ہم ایسے ہی لوگوں اور ان کے نامناسب سلوک کو اپنی یادداشت میں اس قدر جگہ دے دیتے ہیں کہ نہ تو اچھے لوگوں کے لیے جگہ باقی بچتی ہے اور نہ ہی کسی اچھی بات کے لیے۔

شاید یہی وجوہات ہیں کہ ہمارا معاشرہ ایسے ہزاروں کینہ پرور افراد کی موجودگی کی وجہ سے غلاظت کا ڈھیر بنا ہوا ہے جس میں کئی گندے نالے بہہ رہے ہیں۔ ان نالوں میں غلط رویوں، جھوٹ اور فریب کا گند موجود ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس گند میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس گند کی بدبو اس قدر بڑھتی جا رہی ہے کہ ہماری سونگھنے کی حس اب اس بدبو کو محسوس کرنا بھی چھوڑتی جا رہی ہے۔

کیا ایسا معاشرہ چل سکتا ہے؟ ایسے معاشرے کا انجام بھلا کیا ہو سکتا ہے؟ گند کہیں بھی ہو اس نے بالآخر ختم ہونا ہوتا ہے کیونکہ وہ ہمیشہ کے لیے رہ ہی نہیں سکتا۔ تو پھر معاشروں میں پھیلے ایسے گند کا کیا بنتا ہے؟ یہی کہ نظام قدرت اس گند کی صفائی کا انتظام کرتا ہے۔ قدرت کے پہیے کی زد میں وہ بھی آ جاتے ہیں جو کہ خود گند کا حصہ نہیں ہوتے لیکن ان کے آس پاس گند ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ نظام قدرت نے سو سال کا گند صاف کرنے کے لیے سو سال نہیں بلکہ چند لمحے یا دن لگانے ہوتے ہیں۔

کیونکہ دنوں اور مہینوں کے گند کو ہم لوگ بھی بالعموم چند منٹوں میں صاف کر دیتے ہیں۔ اگر کوئی گند کی صفائی میں بھی اتنا ہی ٹائم لگا رہا ہو جتنا گند ڈالنے میں لگا ہے تو یقین رکھیے کہ اس کارروائی کے نتیجے میں گند صاف نہیں بلکہ دوگنا ہو جائے گا۔ لہذا نظام قدرت صفائی میں بہت جلدی کرتا ہے جس کی زد میں وہ سب بھی آ جاتے ہیں جو اس گند کے آس پاس ہوتے ہیں۔

بات ہو رہی تھی نظام قدرت کے صفائی کی۔ معاشروں میں یہ صفائی کیسے ہوتی ہے؟ پانی بہا کر تو ممکن نہیں ہوتی۔ تو پھر کیا؟ جناب خون بہتا ہے جسے لکھنے والے اور کہنے والے خونی انقلاب کہتے ہیں۔ خون فقط گنہ گاروں کا نہیں بہتا بلکہ بے گناہ بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں جیسا کہ اوپر کہا کہ جب صفائی ہوتی ہے تو گند کے ساتھ وہ بھی رگڑے جاتے ہیں جو گند کا حصہ نہیں ہوتے۔ کیا ہمیشہ ایسے ہی صفائی ہوتی ہے؟ شاید تب تک خونی انقلاب نہیں آتا جب تک معاشرہ اپنے اندر کے گند کی صفائی کا کچھ نہ کچھ انتظام کرتا رہتا ہے۔ وہ انتظام ایسے لوگوں کا موجود ہونا ہے جن کے دل سمندر کی طرح کشادہ ہوتے ہیں۔ جو انصاف کرنا بھی جانتے ہیں اور معاف کرنا بھی۔

اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ اپنے دل کو سمندر کی طرح کشادہ رکھ کر اپنے اندر ہیرے، موتی اور جواہر اکٹھے کرنے ہیں یا اس کو چھوٹے گندے نالے کی طرح غلاظت کا گڑھ بنانا ہے۔ فیصلہ کرتے ہوئے یہ ضرور ذہن میں رکھیے کہ آپ کا فیصلہ فقط آپ کی زندگی کو اثر انداز نہیں کرے گا بلکہ آپ کے ارد گرد سب افراد کو متاثر کرے گا۔ جن میں سب سے پہلے آپ کا اپنا خاندان اور آپ کی آنے والی نسلیں شامل ہیں۔ حضرت علامہ اقبال نے اسی لیے کہا تھا:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •