کافکا کی پرچھائیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کافکائسک کی اصطلاح عظیم چیک ناول نگار کافکا کی افسانوی دنیا کی جابرانہ اور خوفزدہ کرنے والی دنیا سے مشابہت رکھتی ہے۔ یہ ایک ایسی دنیا کی نقشہ کشی کرتی ہے جس میں ایک ہمہ جہت قوت ایک عفریت کی طرح اپنے مکینوں کے حواس پر قبضہ کر لیتی ہے مگر بظاہر نظر سے ماورا رہتی ہے۔ کافکا کے ناول (قلعہ، مقدمہ) ایک ایسی غیر متوقع لیکن مضحکہ خیز صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں جس کے کردار ایک اندھی اور بے ہودہ طاقت سے کچلے جاتے ہیں۔ اور جہاں ایک بے معنیٰ اور غیر ذاتی صورتحال کے سامنے فرد خود کو واقعات کو سمجھنے یا قابو کرنے سے قاصر پاتا ہے۔

کافکا کے دو ناول ’مقدمہ‘ اور ’قلعہ‘ ایسی ہی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

ناول ’مقدمہ‘ (The Trial) کا آغاز کچھ اس طرح سے ہوتا ہے، کہ ایک صبح جوزف K ابھی اپنے بستر میں ہوتا ہے کہ دو سپاہی نما افراد اس کے کمرے میں گھس آتے ہیں اور اسے گردن زدنی ہونے کی سزا سنا دیتے ہیں۔ اس بات کا کہیں کوئی ذکر نہیں ہوتا کہ وہ کون ہیں اور انہیں کس نے بھیجا ہے، او ر کس نے یہ سزا سنائی ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس کا جرم کیا ہے، سزا سنانے والی عدالت کون سی ہے، اور اس سزا کو کس قوت کی آشیرباد حاصل ہے، اس بات کی کسی کو خبر نہیں ہوتی۔

ناول ’مقدمہ‘ میں موت کی سزا پہلے سنائی جاتی ہے۔ اس کے بعد جرم کا تعین کرنے کی تگ و دو ملزم کو خود ہی کرنی پڑتی ہے۔ پورا ناول اسی سزا کا فیصلہ کرنے والی نادیدہ قوت کی ناکام تلاش کی سر گزشت ہے۔ خواب اور حقیقت کی سرحدوں پر، ایک سر رئیل فضا میں، جوزف K اپنے جرم، اپنی سزا، اپنے وکیل، عدالت اور سزا سنانے والی قوت کی کھوج لگانے میں سرگرداں ہے۔ اور پھر اس مضحکہ خیز صورتحال سے دلبرداشتہ، آخر میں سزا پر عملدرآمد کرنے والے جلادوں کو پریشانی سے بچانے کے لئے خود کو اس بات پر مائل کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ خود ہی اپنا خاتمہ کر کے اپنے جلادوں کو ان کے احساس جرم سے نجات دلا دے۔

بعض اوقات کہانیوں میں بیان کی گئی زندگی حقیقی زندگی کے واقعات کی بعینہٖ عکاسی کرتی ہے۔ پاکستان میں ایسی صورتحال اب ایک روز مرہ کا معمول بن چکی ہے۔ بغیر کسی جرم کے قتل کیے جانے سے لے کر جبری طور پر گمشدگی تک یہ واضح نہیں ہوتا کہ زندگی سے محروم کیے جانے والوں یا غائب کیے جانے والوں کا جرم کیا تھا، انہیں کس نے یہ سزا سنائی، اور انصاف کے حصول کے لیے وہ کس عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائیں۔
گزشتہ دنوں بلوچستان کے علاقے مچھ میں نامعلوم افراد نے گیارہ افراد کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں ذبح کر دیا۔ انہیں کس نے قتل کیا، ان کا جرم یا ان پر الزام کیا تھا، انہیں کس عدالت یا کس قوت نے زندگی سے محروم کر دیے جانے کا فیصلہ سنایا، اور پھر اس سنائے ہوئے فیصلے پر کس نے عمل کیا، ہزارہ لواحقین کس سے انصاف کی توقع لگائے بیٹھے رہے، اس کا اسرار کھلا ہے نہ ہی اس کے کھلنے کا امکان ہے۔ جوزف K کی طرح انہوں نے بھی وزیر اعظم کے آنے سے قبل اپنے پیاروں کی لاشیں دفنا کر اپنے عظیم محافظ کو اس کے احساس جرم اور ندامت سے نجات دلا دی۔
عام طور پر جرم و سزا کے عمل میں واقعات کی ترتیب کچھ اس طرح ہوتی ہے، کہ کہیں کوئی جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اس پر کسی عدالت میں مقدمہ چلتا ہے، صفائی کا موقع ملتا ہے پھر کہیں جا کر جرم کی تصدیق ہوتی ہے اور سزا کا تعین ہوتا ہے۔ مگر کافکائسک صورتحال میں یہ ترتیب بالکل الٹ ہے۔ یہاں جرم سزا کو نہیں ڈھونڈتا، بلکہ سزا جرم کو ڈھونڈتی ہے۔ سزا پانے والے اور ان کے لواحقین نہ صرف جرم، بلکہ عدالت اور منصف کو بھی ڈھونڈتے ہیں۔
کافکائسک کا مطلب ہے کسی ایسی قوت کے بالمقابل خود کو پانا جہاں آپ کے دنیا کو دیکھنے کے انداز کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ اور یوں جب آپ اس دھند آلود دنیا میں داخل ہوتے ہیں تو آپ کے تمام منصوبے، صورتحال پر قابو پانے کے طریقے، اس تمام انداز کو جس پر آپ نے اپنا رویہ ترتیب دیا ہوتا ہے، بکھرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ آپ ہار نہیں مانتے، آپ کے پاس جو کچھ بھی ہو آپ اس کے خلاف نبرد آزما ہو جاتے ہیں، مگر، یقیناً آپ کے پاس کامیابی کا رتی بھر امکان نہیں ہوتا۔
ایسی صورتحال ایک عرصے سے، تھوڑے بہت وقفوں کے بعد دیکھنے کو ملتی ہے۔ ملک کے طول و عرض سے کوئی اچانک غائب ہو جاتا ہے۔ کچھ معلوم نہیں ہوتا اسے کس نے غائب کیا ہے، اس کا جرم کیا تھا، کونسی عدالت میں انصاف طلب کیا جائے۔ اور کون ان کی داد رسی کر سکتا ہے۔ غائب ہونے والے لوگ کبھی واپس نہیں آتے اور اگر وہ اچانک خود ہی واپس نمودار ہو بھی جائیں تو بھی کبھی کسی کو نہیں بتا پاتے کہ انہیں کس نے اغوا کیا، ان کے ساتھ کیا بیتی، اور کیا وہ اپنے ساتھ روا رکھے جانے والے اس ظلم کے بارے میں کسی انصاف کے خواہش مند ہیں۔
بغیر کسی جرم کی نشاندہی کیے، بغیر کسی عدالت میں پیش کیے، شہریوں کو اغوا کرنے والی قوت بظاہر نظر نہیں آتی۔ گمشدہ افراد کی بازیابی کے لیے پوسٹر اٹھائے خواتین، ایسی ہی کسی غیر مرئی قوت سے سوال کرتی ہیں کہ ان کے عزیزوں کو کسی نامعلوم عدالت سے سنائی جانے والی نامعلوم جیل سے رہائی دلوائی جائے۔
کافکائسک صورتحال کو ایک اور انداز سے بیان کرتے ہوئے، کافکا کے ناول ٹرائل (مقدمہ) سے ملتا جلتا ایک حقیقی واقعہ میلان کنڈیرا نے سنایا ہے۔
پراگ کا ایک انجنیئر ایک کانفرس میں شرکت کے لئے لندن جاتا ہے۔ وہاں ایک صبح اسے اخبار میں اپنے بارے میں یہ خبر دکھائی دیتی ہے کہ اس نے اپنی حکومت کے خلاف بیان دیا ہے اور لندن میں سیاسی پناہ کی درخواست کی ہے۔ پراگ پر اس وقت روس کی حمایت یافتہ کمیونسٹ پارٹی کی حکومت تھی۔ اور حکومتی امور میں خفیہ کا بہت عمل دخل تھا۔ اصل انتظام خفیہ ایجنسیاں ہی چلا رہی تھیں۔ خوف سے انجنیئر کی روح تک کانپ اٹھتی ہے۔ وہ فوراً اپنا دورہ مختصر کر کے واپس پراگ پہنچتا ہے۔ وہ دفتر میں داخل ہوتا ہے تو اسے اپنی سیکریٹری کی آنکھوں میں خوف نظر آتا ہے۔ وہ اخبار کے دفتر پہنچ کر وضاحت کرتا ہے کہ ایسا ہرگز نہیں ہے، انہیں شاید کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ اخبار کا ایڈیٹر اسے بتاتا ہے کہ یہ خبر انہیں حکومتی ذرائع سے ملی تھی۔ وہ کبھی بھی ان ذرائع تک پہنچ نہیں پاتا۔ وہ ہر جگہ وضاحت دیتا ہے، مگر مطمئن نہیں ہو پاتا۔ بظاہر اسے کوئی دھمکی نہیں ملتی، مگر اس کا تعاقب شروع ہو جاتا ہے۔
اسے کہا جاتا ہے کہ وہ پریشان نہ ہو۔ گھبرائے مت۔ مگر اسے یوں لگتا ہے کہ ہر وقت اس کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ اور یوں، وہ نہ چاہتے ہوئے بھی، بہت سے خطرات مول لے کر، غیر قانونی طور پر ملک سے فرار ہو جاتا ہے۔ کسی ان دیکھی قوت نے جلاوطنی کا جو الزام اس پر لگایا تھا، وہ اس پر خود ہی عملدرآمد کر دیتا ہے۔
بالکل ایسے ہی مملکت پاکستان میں یہ چلن عام ہے کہ انصاف یا سچائی جاننے کی جستجو کا مطالبہ کرنے والوں پر بغیر کسی تحقیق کے بلیک میلر یا بیرونی اور ملک دشمن قوتوں کے آلہ کار ہونے کا الزام لگ جاتا ہے۔ اختلاف کرنے والوں کو اکثر ملک چھوڑنے کی مجبوری یا قتل ہونے کی دھمکی کا سامنا رہتا ہے، کسی عدالت، جرم، وکیل اور سزا سنانے والے قوت کے نظر آئے بغیر۔ اغوا ہو کر زندہ بچ جانے والوں کی اولین ترجیح، نہ چاہتے ہوئے بھی ملک چھوڑنا ہوتا ہے۔ ایک ایسے مستقبل کا انتخاب، جو عام حالات میں کبھی بھی ان کی اولین ترجیح نہ ہوتا۔ اپنے ہی ملک کو بہتر انداز میں تبدیل کرنے کے خواہش مندوں کو بالآخر خود ہی بدلنا پڑتا ہے۔

ایسا بھی نہیں کہ ہمارے ہاں صورتحال کافکائسک ماحول کے بعینہ مشابہ ہو۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کچھ تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ اگر ہم دندناتے ہوئے سیاسی تجزیہ کاروں، سیاسی راہنماؤں اور حکومتی نمائندوں کے بیانات اور خفیف مسکراہٹوں میں کی گئی ان کی گفتگو سننے کا حوصلہ کر سکیں، تو یوں لگتا ہے کہ ہر کوئی اس غیر مرئی قوت سے واقف ہے، اور سمجھتا ہے کہ سننے والے عوام بھی اس سے مکمل آگاہی رکھتے ہیں، مگر یہ راز ان سب کا مشترکہ راز ہے، جس میں ان کے مشترکہ مفادات پوشیدہ ہیں، اس راز کا افشا کرنا قومی مفاد کے خلاف ہے، اور اس راز کی پاسداری ان سب کا قومی فریضہ ہے۔
ایک حقیقت کو بخوبی جاننا، اور اپنے ہی خلاف اس حقیقت کو راز بنائے رکھنا، ایک نئے انداز کی کافکائسک صورتحال ہے۔ جسے محبوب خزاں نے کچھ اس طرح کیا خوب بیان کیا ہے:
سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ ان سے کہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •