او کینیڈا، ہجرت کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زیادہ عرصہ تو نہیں گزرا شاید، سولہ برس پرانی ہی تو بات ہے جب ہم مئی کی گرم پاکستانی دوپہروں کو الوداع کہہ کر پیئرسن انٹرنیشنل ائرپورٹ سے کینیڈین سمر کی خوشگوار ہوا کو محسوس کرتے ہوئے باہر نکلے تھے۔ سائے میں مئی کے باوجود خنکی تھی۔ موسم کے ساتھ ساتھ اس شہر کی خوشبو بھی بہت مختلف تھی۔ لوگ، راستے، سواریاں، ہر چیز سے اجنبیت ٹپکتی تھی اور ہر لمحے اکیلا اور اداس کرتی جاتی تھی۔

آنکھوں کے لیے سب راستے اور منظر بالکل نئے تھے اور لوگوں سے لے کر مٹی گارے کی عمارتیں اور لکڑی کے خوبصورت لیکن نازک اور دوسرے لفظوں میں پھسپھسے گھر بھی گویا یوں دیکھتے محسوس ہوتے تھے جیسے سسرال میں دور پرے کے رشتے دار گہری نظروں سے نئی دلہن کو دیکھتے ہیں۔

یہ کہاں آ گئے ہم؟ کبھی خوشی تو کبھی عجیب سی اداسی اندر سرایت کرتی جاتی تھی۔

مشکل کا وقت بھی ساتھ ہی آیا لیکن اس وقت تھوڑی جد و جہد کے بعد چیزیں جلد اپنی جگہ پر آ گئیں اور ہم اپنے پہلے چھوٹے سے مگر خوبصورت اپارٹمنٹ میں شفٹ ہو گئے۔

راوی چین ہی چین لکھتا تھا لیکن اداسی اور تنہائی کے ساتھ۔ پاکستان کی ہر بات یاد آتی تھی ہے حتٰی کہ لوڈ شیڈنگ بھی (مارو مجھے مارو ) صرف اس لیے کہ اس سے اپنوں کے ساتھ بیٹھنے کا خیال جڑا ہوتا تھا۔

سسرال اور میکہ دونوں ہی طرف ماشا اللہ بھرے گھر چھوڑ کر آئے تھے۔ جوائنٹ فیملی میں لاکھ برائیاں سہی لیکن یہ بات ماننے والی ہے کہ ہر روز کسی نہ کسی شکل میں کوئی نیا ایڈونچر وقوع پذیر ہو رہا ہوتا ہے جو ہمہ وقت دھیان بٹائے رکھتا ہے، ایسے میں تنہائی کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اپنے آج سے سولہ سال پہلے والی زندگی کا موازنہ کروں تو جیسے یہ تین سو ساٹھ کے زاویے پہ پوری کی پوری گھوم چکی ہے۔

اب غور کروں تو کسی بھی نئی جگہ کو اپنانے کی کوشش کے پیچھے بہت سارے عوامل ہوتے ہیں جن کے بارے میں آپ کو کوئی نہیں بتاتا، کبھی اس لیے بھی کہ وہ بھی آپ کی طرح اسی مرحلے سے گزر رہے ہوتے ہیں اور کبھی اس لیے بھی کہ وہ آپ کے سامنے ہمیشہ سے سیٹلڈ اور خوش باش نظر آنا چاہتے ہیں جیسے نئے ملک کو انھوں نے نہیں بلکہ سرزمین نے ان کو اعزاز کے ساتھ اپنایا ہے حالانکہ ہر نیا آنے والا کم و بیش ایک جیسی صورت حال سے گزرتا ہے۔

اس وقت نہ فیس بک اور واٹس اپ تھا اور نہ یو ٹیوب۔ وائی فائی اور اسمارٹ فون پہ شاید موجد کام کر رہے تھے۔ دل بہلانے کے اسباب کم تھے، کتابوں کا ذخیرہ اس وقت بہت کام آیا۔ ٹی وی سے کچھ خاص رغبت نہیں تھی۔ پاکستان بات کرنے کے لیے میسینجر یا پھر کالنگ کارڈ خریدنے پڑتے تھے اور یاہو اور ایم ایس این میسنجر پہ آدھا وقت ”آواز آ رہی ہے“ ”تصویر آ رہی ہے“ کی نذر ہو جاتا۔

تصویروں کا تبادلہ ای میل سے ہوتا تھا جو صبر کے ساتھ بیٹھ کے اپ لوڈ اور ڈاؤن لوڈ کرنا پڑتی تھیں اور ویڈیوز کسی آنے جانے والے کے ساتھ سی ڈی یا کیسٹ کی شکل میں آتی تھیں۔ مسی ساگا میں آج سی گہما گہمی نہیں تھی۔ کچھ دیسی ریسٹورنٹس تھے جن میں اکثر پیچھے گھریلو خواتین ہی کھانا پکا رہی ہوتیں، اس لیے کچھ خاص فرق نہ محسوس ہوتا۔ یوں بھی جو نیا نیا پاکستان سے آیا ہو اس کی زبان کے سب ذائقے باقی سب یادوں کی طرح دیر تک تازہ رہتے ہیں۔

حلال حرام کے مسئلے شاید اتنے نہیں تھے جتنے بنا دیے گئے تھے۔ کچھ اس بارے میں اپنا علم بھی محدود تھا، کچھ آتے ہی پالا بھی ایسے لوگوں سے پڑا کہ ہر چیز کھاتے ہوئے ذہن اسی میں الجھا رہتا اور زندگی عذاب محسوس ہوتی۔ ہمارے آس پاس کے زیادہ تر احباب نئے تھے اور ہماری طرح کے حالات سے ہی گزر رہے تھے، اس لیے اکثر محفلوں میں مثبت اور حوصلہ افزا باتوں کے مقابلے میں منفی سوچیں اور حوصلہ شکن گفتگو غالب رہتی۔

مصروفیت ہزار نعمت ہے، آج کبھی جاب کبھی بچوں کے آگے پیچھے بھاگتے، گھر اور باہر کے ہزار کاموں میں کیسے وقت گزرتا ہے، پتا بھی نہیں چلتا کہ کب شام ہوئی اور کب نیا دن بھی نکل آیا۔ رہی سہی کسر اسمارٹ فونز نے پوری کر دی ہے۔

خالی دماغ شیطان کے گھر کے ساتھ ساتھ اداسی، مایوسی اور ڈپریشن کا بھی گھر ہوتا ہے۔ آپ تھوڑی دیر خالی بیٹھ جائیں یا صرف سو کے اٹھنے کے بعد خالی الذہن بستر پہ دراز رہیں، آپ کو زندگی کی وہ وہ محرومیاں اور حسرتیں یاد آئیں گی جن کی طرف کبھی خوشگوار حالات میں دھیان بھی نہ گیا ہو۔ آپ اپنے رشتے داروں کی کج رویاں یاد کر کے ان سے تصور ہی تصور میں ایسے ایسے بحث مباحثے اور تکرار کریں گے جو دراصل کبھی ممکن ہی نہ ہوں۔

ہمارے پہلے گھر کی قد آدم کھڑکیوں سے نظر آنے والے ”گو اسٹیشن“ کا برف سے ڈھکا خوبصورت منظر ہے۔
ہمارے پہلے گھر کی قد آدم کھڑکیوں سے نظر آنے والے ”گو اسٹیشن“ کا برف سے ڈھکا خوبصورت منظر ہے۔

کسی بھی ملک ہجرت کرنے والوں کو نئی جگہ کو اپنانے کی پریشانی کے ساتھ ساتھ بے جا فرصت اور خالی پن بھی مایوس کر دیتا ہے۔ اس وقت بچوں کی مصروفیت تو تھی نہیں۔ ڈرائیونگ ٹیسٹ کا پہلا مرحلہ پورا کرنے کہ بعد روڈ ٹیسٹ کے لیے آٹھ مہینے کا وقفہ ہوتا ہے، نئی جگہ پہ نئے موسم اور اجنبی راستے بھی الجھا دیتے ہیں۔

اگرچہ شروع میں حال کچھ ایسا ہوتا ہے کہ جو کوئی اپنی زبان بولتا نظر آئے دل چاہتا ہے، اسے اپنا بنا لیا جائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اپنے جیسے لوگ تلاش کرنے اور اپنا حلقہ احباب بنانے میں ایک عرصہ لگ جاتا ہے، اور پھر، دوست ہوتا نہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔ کچھ لوگ آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں تو کچھ لوگ کترا کے نکل جانا چاہتے ہیں اور کہیں کہیں آپ پہلے سے بنے گروپس میں خود کو مس فٹ محسوس کرتے ہیں، الغرض ایک عمر لگتی ہے اس دشت کی سیاحی میں۔

یونیورسٹی کے دونوں میں ہمارا ایک قدم یونیورسٹی میں ہوتا تھا تو دوسرا ورلڈ میمن فاؤنڈیشن میں، شاید ہی کوئی قابل ذکر کورس ہو جو چھوڑا ہو، ہر چیز سیکھنے کا جنون بہت خوار کرواتا تھا لیکن یہاں آ کر ان مشغلوں میں گم ہونا بھی اپنے ملک کے مقابلے میں بہت مہنگا لگتا، جو رنگوں کے ڈبے ہمارے ہاں دو سو روپے میں مل جاتے تھے اس کا فقط ایک رنگ یہاں آٹھ ڈالر کا نظر آتا تو خریدنے کی ہمت نہیں ہوتی اور اپنی سستی مارکیٹوں کی بہت یاد آتی جو ایسی خریداریوں سے چاہتے ہوئے بھی روک دیتی۔ بہت زیادہ پڑھے لکھے لوگوں کو چھوٹی موٹی نوکریاں کرتے دیکھ کر دل دکھتا اور پردیس کی سرد ہوائیں مزید تنہا اور اداس کر دیتیں۔

”او کینیڈا“ کے پچھلے تین حصوں میں ان عوامل یا مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی جن کی وجہ سے کسی نئی جگہ کو قبول کرنے میں مشکل درپیش آتی ہے۔ اب آتے ہیں مسائل کے حل کی طرف۔

امیگرنٹ یا ہجرت کرنے والے سب لوگ کم و بیش ایک سے حالات سے گزرتے ہیں اور ایک سے تجربات اور رویے محسوس کرتے ہیں جو کے ایک فطری عمل ہے۔ مسئلہ ہمارے رویوں میں نہیں ہوتا مسئلہ دراصل اس سوچ کا ہوتا ہے جو اسی ماحول کی پروردہ ہوتی ہے جس میں ہم پروان چڑھے ہوتے ہیں اور یہ ذہنیت ہمارے مذہب اور اخلاق کی نہیں بلکہ معاشرے کے اپنے بنائے ہوئے معیار اور لوگوں کے طے کیے ہوئے ریت اور روایتوں کی دین ہے۔

بد قسمتی سے مشرق میں طبقے اور کلاس کے مسائل مغرب کی نسبت زیادہ ہیں اور یہ وہ دنیاوی پیمانہ ہے جو ہمارے معاشرے میں لوگوں کا مقام، عزت اور مرتبہ طے کرتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی کچھ اخلاقی قدریں اگر دل سے لگا کے رکھنے کی ہیں تو کچھ رویوں کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینکنے کی اشد ضرورت ہے۔

جب بھی اپنے ملک سے نکل کر دوسری جگہ قدم جمانے ہوں تو سب سے پہلے اپنی سوچ میں تبدیلی لانا بہت ضروری ہے۔ اپنے قلیل تجربے کی بنیاد پر یہ کچھ نکات ہیں جو آپ کو نئی جگہ اپنانے کو میں مدد دیتے ہیں۔

▪️نئے ملک کی ثقافت اور طریقوں کو سمجھیں، مثال کے طور پہ اگر یہاں کسی کے گھر جانے یا آنے سے پہلے اطلاع دینے کا رواج ہے تو اس کو برا بھلا کہنے اور پاکستان میں ایک دوسرے کے گھر بے دھڑک ہو کے نازل ہونے کو یاد کرنے کے بجائے اس کی وجہ سمجھنے اور اپنانے کی کوشش کریں مثلاً وہاں گھر کے سب افراد کا کام کرنے کا رواج نہیں، لوگ عموماً جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں اور کوئی نہ کوئی آپ کو کمپنی دینے کے لیے موجود ہوتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ گھر بڑے ہوں یا چھوٹے ڈرائنگ روم مہمانوں کے لیے مختص ہوتا ہے جہاں عام گھر والوں کی آمد و رفت نہیں ہوتی، اس لیے صاف ستھرا رہتا ہے۔ تیسری بات یہ کہ گھر میں ماسی اور نوکروں کی بھرپور امداد کے باعث اکثر گھر چمکتے دمکتے نظر آتے ہیں اور کوئی کسی بھی وقت آ جائے مہمانوں کو شرمندگی کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ مغرب میں عموماً ایک گھر میں ایک خاندان رہتا ہے۔ گھر چھوٹے ہوتے ہیں، صفائی سے لے کر کھانے کے انتظامات تک سب کچھ گھر والوں کو خود کرنا ہوتا ہیں۔

سب لوگ مصروف رہتے ہیں۔ گھر کی خواتین اگر جاب نہ بھی کریں تو بھی بچوں کے اور انہیں اسکول لانے لے جانے، سودا سلف لانے اور گھر کے ہزاروں چھوٹے موٹے کام ہر وقت منتظر رہتے ہیں۔ ایسے میں اچانک مہمان رحمت نہیں بلکہ زحمت معلوم ہوتے ہیں۔ آپ اطلاع دے کر جائیں آئیں تو میزبان پرسکون ہو کر آپ کی خاطر مدارات کر سکتا ہے اور اگر کسی وجہ سے معذرت کر لے تو اس میں بھی برا ماننے کی کوئی بات نہیں۔ اصل میں اسلامی طریقہ کار بھی یہی ہے۔

جتنی جلدی آپ ”یہاں“ اور ”وہاں“ کا موازنہ کرنا چھوڑیں گے، اتنی ہی جلدی آپ نئی جگہ کو اپنائیں گے۔

2004 میں البرٹا بینف کی مشہور ٹھہری ٹھہری پرسکون اورخوبصورت جھیل ”لیک لوئس“ کے کنارے ڈھلتی شام تلے کھڑے دو نئے نویلے پنچھیوں کی ہیں
2004 میں البرٹا بینف کی مشہور ٹھہری ٹھہری پرسکون اورخوبصورت جھیل ”لیک لوئس“ کے کنارے ڈھلتی شام تلے کھڑے دو نئے نویلے پنچھیوں کی ہیں

اس بارے میں سوچنا چھوڑ دیں کہ وہاں آپ کے پاس کیا کیا آسائشیں اور سہولتیں تھیں بلکہ یہ سوچیں کے یہاں آپ کو کیا کیا نعمتیں میسر ہیں۔ یہ سوچ سوچ کے خون نہ جلائیں کہ وہاں آپ کی نند، بھاوج، جیٹھانی ماسیوں کی فوج پہ حکومت کر رہی ہیں اور یہاں آپ اپنے باتھ روم میں ٹاکیاں مار مار کے ہلکان ہیں۔ آپ کو اللہ نے پہلی دنیا کے ملک کا معیار زندگی عطا کیا ہے جس کی اپنی سہولتیں اور آسانیاں ہیں۔ آپ کی زندگی نسبتاً پروڈکٹیو ہے اور اس میں دوسرے بہت سے مواقع میسر ہیں اور جب یہاں آپ کے قدم اچھی طرح جم جائیں گے تو ایک دن آپ میڈ بلانے کے قابل بھی ہو جائیں گے جو اپنی لگژری گاڑی میں بیٹھ کے آپ کے ہاں کام کرنے آئے گی۔

▪️ سردیوں کے دن سخت اور اداس ہوتے ہیں لیکن مستقل شکایت اس مسئلے کا حل نہیں اس لیے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو مصروف رکھنے کی کوشش کریں۔ سردی کے مزے لیں۔ آسمان سے گرتے سفید موتیوں جیسے گالوں میں خوشی تلاش کریں۔

اپریل کی بارشیں مئی میں پھول کھلاتی ہیں اور پھر چمکتی بہار اپنے جوبن پہ ہوتی ہے، چیری بلاسم کے ہلکے گلابی پھول اور رنگ برنگے ٹیولپ آپ کے ہونٹوں پہ بے وجہ ہی خوشگوار مسکراہٹ لے آتے ہیں۔

ایک مہینہ اور آگے بڑھتا ہے تو نرم سبک ہوا کے ساتھ موسم گرما کا آغاز ہو جاتا ہے اور یوں لگتا ہے کہ کسی شہزادے نے آ کے سوئی ہوئے شہزادی کی بچی ہوئی آنکھوں کی سوئیاں نکال دی ہوں اور کسی جادو کے اثر سے سے سویا ہوا شہر ایک دم ہی جاگ گیا ہو۔ ہر طرف ایک چہل پہل اور سر خوشی۔ برف پگھل جاتی، سردی میں شام چار بجے اندھیرے میں ڈوب جانے والے دن کھچ کے ایک دم رات ساڑھے نو بجے تک طویل ہو جاتے ہیں۔

باغ رس دار اسٹرابیری، چیری، رس بھری، آڑو اور انواع اقسام کے پھلوں سے لد جاتے ہیں اور انہیں اپنے ہاتھ سے توڑ کر کھاتے ہوئے جنت کا خیال آتا ہے۔ جھیلیں اور پارک آباد ہو جاتے ہیں اور باربی کیو کی خوشبو اور دھوئیں سے فضا مہکنے لگتی ہے۔

پھر جب آہستہ آہستہ یہ لمبے دن آپ کو تھکانے لگتے ہیں تو اکتوبر کے اوائل میں میپل کے درختوں کا رنگ بدلنے لگتا ہے، سرخ، زرد، نارنجی، کتھئی۔ شجر گویا سلگنے لگتے ہیں۔ شام جیسے تھک کے جلدی گھر آنے کو بے قرار ہوتی ہے۔ خزاں مدھم سروں میں بانسری بجاتی ہے تو ہر طرف جیسے رنگ ہی رنگ اور دھنیں بکھر جاتی ہیں (او کینیڈا تیرے موسم حسین ہیں )

▪️اکیلے باہر نکلیں اور نئے راستوں کو اپنے طور پہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ بس اور ٹرین سے سفر کریں اس سے آپ کو نئی جگہ سمجھنے میں مدد ملے گی اور آپ جلدی شہر سے مانوس ہوں گے۔ اگر آپ کی دسترس میں ہو تو جلد از جلد ڈرائیونگ سیکھنے اور لائسنس حاصل کرنے کی کوشش کریں، یہ ایک بہت بڑا مرحلہ ہے اور کینیڈا کے لمبے راستوں اور سخت موسم میں ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

▪️ہر چند کہ اس سوچ سے پیچھا چھڑانے میں بہت وقت لگتا ہے لیکن کسی بھی کام میں شرمندگی اور بے عزتی محسوس نہ کریں، آپ اس جگہ پہ ہیں جہاں ہر ایک کی عزت اور حقوق ہیں۔

بچپن سے دور دیس بسنے والوں کے بارے میں سنتے آئے تھے کہ باہر جانے والے اپنے ملک میں تو کام نہیں کریں گے لیکن وہاں جائیں گے تو چھوٹی نوکریاں بھی کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں، اس وقت یہ سن کے پردیسیوں پہ ترس آتا تھا لیکن دراصل یہ ہمارے لوگوں کم علمی ہے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ ہمارے ملک میں میں عزت اور پیسے کے پیمانے مختلف ہیں اور وجہ وہی ہماری ذہنیت اور طبقاتی فرق۔

مغرب کے بیشتر ممالک میں کسی بھی قسم کی نوکری کرنے والے کے لیے گھنٹے کے حساب سے کم از کم اجرت مقرر ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے حساب سے ہر قسم کی پارٹ ٹائم یا فل ٹائم جاب کر لیتے ہیں۔ یہاں ہر کام کی عزت ہے، اور آڈ جاب بھی آپ کا گھر چلا سکتی ہے، اس لیے جب تک آپ اپنی فیلڈ تک نہیں پہنچتے اپنا سفر فخر کے ساتھ جاری رکھیں۔

▪️ہر وقت ڈالر سے روپے کی تبدیلی اور حساب کتاب کرنا اور اس وجہ سے ہر چیز پاکستان سے منگوانے کی عادت کو جلد از جلد خیر آباد کہہ دینے میں ہی عافیت ہے۔

آپ چاہتے کچھ ہیں، دوسرا کچھ سمجھتا ہے، پھر بازاروں میں خوار ہو کے آپ کے لیے شاپنگ کرتا ہے، پھر سامان جمع کرنے سے لے کر منزل تک پہنچانے تک کئی لوگ پریشان ہوتے ہیں اس کے بعد آپ کو کسی آنے جانے والے کی منت سماجت کرنی پڑتی ہے اور کبھی کبھی ناگوار باتوں کا سامنا بھی کرتا پڑتا ہے اور آخر میں اکثر آپ کے گھر کی چھوٹی چھوٹی الماریاں بیکار سامان سے بھر جاتی ہیں کیونکہ وہ آپ کی منشا کے مطابق نہیں ہوتا۔

▪️جس دیس بھی ہجرت کی ہے وہاں کی زبان سیکھیں۔ رنگ برنگے انگلش میڈیم اسکولوں نے اچھی انگریزی تو کیا سکھانی تھی ہماری اپنی زبان سے بھی ہمارا تعلق کمزور کر دیا۔ آپ کی انگریزی جس لیول کی بھی ہو اسے مزید بہتر بنائیں۔ نئے امیگرنٹ کے لیے قائم کیے گئے ای ایس ایل یعنی English as a second language اسکولز جوائن کریں، وہاں آپ اپنے جیسے بہت سے لوگوں سے مل کے اچھا اور پراعتماد محسوس کریں گے اور نیا کلچر اور نئی زبان کے ساتھ ساتھ یہ کچھ گھنٹے کی کلاسیں آپ کو اپنا ریزیومے بنانے، جاب انٹرویو کی تیاری کرنے اور اپنے آپ کو اب گریڈ کرنے میں بھی مدد دیں گی۔

▪️ والنٹیئر ورک کریں۔ اسکولوں، لائبریریوں، اسپتالوں یا اور دوسری جگہوں پہ فی سبیل اللہ کام کرنا آپ کی جیب تو نہیں بھرے گا لیکن آپ کو مصروف رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ کے لیے نئے دروازے کھول دے گا۔ آپ کے تعلقات بڑھیں گے۔ آپ کو ماحول سمجھنے میں مدد ملے گی، آپ کی زبان اور بات چیت بہتر ہوگی اور کبھی کبھی اس طرح کام کرنا آپ کو اپنی پسند کی جاب حاصل کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔

▪️ آخری لیکن سب سے اہم بات کہ اپنی صحبت مثبت لوگوں کے ساتھ رکھیں جو خود بھی اچھا سوچتے ہوں اور آگے بڑھنے کے متمنی ہوں اور آپ کی بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنیں۔ سمجھ دار اور اچھے دوست بنائیں۔ ہر وقت پاکستان کو یاد کر کے رونے والوں اور یہاں کی زندگی سے شکوے شکایتیں کرنے والوں سے دور رہیں۔ ان کی باتیں نا صرف آپ کو پریشان کریں گی بلکہ آپ کی ہمت توڑ دیں گی اور ساری مثبت توانائیاں بھی نچوڑ لیں گی۔

کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ صبر اور ہمت کے ساتھ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ڈٹے رہیں۔ سالوں سے آباد ہوئے لوگوں کے طرز زندگی سے کم مائیگی نہ محسوس کریں کہ ان کا سفر ممکن ہے آپ سے زیادہ سخت رہا ہو اور نجانے وہ کیا کیا جھیلتے یہاں تک پہنچے ہوں۔

مثبت سوچیں، مصروف رہیں، موازنہ کرنا چھوڑ دیں۔ آہستہ آہستہ ہی سہی آگے بڑھتے رہیں اور جب آپ کے قدم جم جائیں اور آپ کسی نئے امیگرنٹ سے ملیں جو پریشان اور اداس ہو، اپنے ملک کی محبت میں مبتلا اپنے گھر کو یاد کر کے روتا ہو اور اسے کوئی راہ سجھائی نہ دیتی ہو تو اس کے سامنے شیخیاں بگھارنے کے بجائے اسے مسکرا کے خوش آمدید کہیں، ایمانداری سے گائیڈ کریں اور مہربان ہو کر سمجھائیں کہ آپ بھی کبھی اس کی جگہ پہ تھے اور ہر چند کہ سفر مشکل ہے لیکن اس کی ناؤ بھی سبک رفتاری سے چلتے چلتے ایک دن کنارے لگ جائے گی کیونکہ کینیڈا ایک پر امن اور خوبصورت ملک ہے۔

کبھی ہم خوبصورت تھے
کتابوں میں بسی خوشبو کی مانند
سانس ساکن تھی

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •