بڑے بے حس ہیں، مہنگائی بانٹنے والے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت کی معیشت کی بحالی اور آئی ایم ایف قرضے کے معاہدے کے نتیجے میں کیے گئے اقدامات کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کا طوفان ہے جس نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ غریب تو غریب سفید پوشوں کی بھی چیخیں نکل گئی ہیں۔

حکومت کی جانب سے ایک کروڑ نوکریاں ملنا تو درکنار، اب ایک دن کا کمانا بھی مشکل ہو چکا ہے، اس ملک کے پڑھے لکھے نوجوان ہاتھوں میں ڈگریاں لئے سڑکوں پر دھکے کھانے پر مجبور ہیں، حکومتی دعوؤں کے باوجود اداروں میں کہیں میرٹ نہیں، سفارش، رشوت کے ذریعے سیاسی بھرتیاں ہو رہی ہیں، اوپر سے لے کر نیچے تک سب کسی نہ کسی کے دست راست ہیں، جبکہ عام آدمی کے نصیب میں مہنگائی اور بے روزگاری سے نبرد آزما ہونا لکھ دیا گیا ہے، اگر حکومت نے بڑھتی مہنگائی، بے روز گاری پر قابو نہ پایا اور بے حسی کا یونہی مظاہرہ کیا جاتا رہا تو بہت جلد غربت، بھوک اور بیروزگاری کے تباہ کن اثرات سب کچھ بہا لے جائیں گے۔

ایک ایسا وقت بھی تھا کہ جب پاکستان خطے میں سب سے سستا ملک جانا جاتا تھا، لیکن آج پاکستان میں عام آدمی دو وقت کی روٹی سے محروم ہو گیا ہے، اس ملک میں مہنگائی بانٹنے والے بے حس لوگوں کی کمی نہیں ہے، ایک طرف بجلی، گیس، پٹرول کی قیمتیں بڑھنے کے ساتھ عدم دستیابی ہے تو دوسری جانب اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھتی چلی جا رہی ہیں، اس صورت حال میں وزیراعظم کا یہ کہہ دینا کافی نہیں ہے کہ مہنگائی بڑھانے میں مافیا ملوث ہے اور ہم اس مافیا سے ہار نہیں مانیں گے، بلکہ یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح پالیسیوں اور انتظامی کنٹرول کے ذریعے صارفین کو اشیا سستے نرخوں پر فراہم کرنے کے ساتھ مہنگائی مافیا کا سدباب کرے۔

وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کوشاں ہے جس کے لیے وزیراعظم نے ڈیسیشن سپورٹ سسٹم فار انفلیشن (ڈی ایس ایس آئی) کے نظام کی منظوری دے دی ہے جو ملک کے 17 بڑے شہروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو ریکارڈ اور مانیٹر کرے گا۔ اس نظام کے تحت 17 شہروں کے بازاروں سے جمع کردہ اشیا کی قیمتوں اور ڈپٹی کمشنر آفس کی جانب سے متعین کردہ قیمتوں کا موازنہ کیا جائے گا۔ یہ نظام مارکیٹ کی معلومات اکٹھا کرنے کے علاوہ متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کی مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے تناظر میں کارکردگی جانچنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔

اس بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کے لئے وزیراعظم عمران خان کا کوئی بھی قدم احسن ہو گا کیونکہ رواں سال کے دوران پاکستان میں افراط زر کی شرح ایشیا بھر میں سب سے زیادہ رہنے کے خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اگر وزیراعظم عمران خان اور ان کی ٹیم مہنگائی پر قابو پا کر عوامی اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو ان کے لئے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر کسی بھی سیاسی بحران پر قابو پانے کے لیے عوامی حمایت حاصل کرنا مشکل نہیں ہو گا۔

اس کے لیے مروجہ نظام کی خامیوں کو دور کرنا بہت ضروری ہیں، حکومت عوام کی بہتری کے لئے نیا نظام تو متعارف کرواتی ہے، مگر انتظامیہ اپنے غیر ذمہ دارانہ رویے کے باعث ناکام بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے۔ حکومت کی جانب سے (ڈی ایس ایس آئی) نظام کی منظوری قابل تحسین ہے، تاہم جب تک ڈسٹرکٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کریں گے، بڑھتی مہنگائی کا طوفان روکنا ممکن نہیں ہے، اس کے لیے انتظامیہ میں میرٹ پر تعیناتیوں کے ساتھ جوابدہ بنانا ہو گا، تبھی کوئی نظام کامیابی سے ہم کنار ہو سکے گا۔

اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ تحریک انصاف حکومت عوام کو ریلیف دینے کے لیے کوشاں ہے، لیکن سیاسی کشیدگی کے ماحول میں حوصلہ افزا نتائج کا حصول ممکن دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس تناظر میں مسلم لیگ (ق) کے صدر و سینئر سیاستدان چودھری شجاعت حسین نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ ایک سال کے لئے تمام منصوبے ملتوی کر کے غربت کے خاتمے کے لیے قلیل المیعاد منصوبہ بندی کی جائے، حکومت بے روزگار اور تنخواہ دار طبقے کے لئے کام کرے اور تمام سیاسی قیادت عوام کی تکلیف دور کرنے کے لئے اکٹھے ہو کر حکومت سے مکمل تعاون کرے۔

چودھری شجاعت کا اپنے اتحادیوں کو مشورہ صائب ہونے کے ساتھ نہ صرف وقت کا تقاضا، بلکہ جمہوری نظام کے استحکام کے لئے بھی ضروری ہے کیونکہ جب تک عوام کو مہنگائی، بے روز گاری سے ریلیف دینے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی نہیں کی جائے گی، محض اعلانات سے حالات نہیں بدلیں گے اور تبدیلی کے ثمرات 2021 ء میں بھی عوام تک پہنچنے کے امکانات مسدود ہو جائیں گے۔

ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق جنوری کے پہلے ہفتے سے ہی آٹا، گھی، چینی اور دالوں سمیت 22 اشیاء خوردنی مہنگی ہو گئی ہیں، اگر مہنگائی کی رفتار اسی تیزی بڑھتی رہی تو سال رواں میں عوام کو پیس کر رکھ دے گی، حکومت اور اپوزیشن بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوام میں مہنگائی بانٹنے والوں کے حصہ دار بنے کی بجائے چودھری شجاعت کے مشورہ کو سنجیدگی سے لے اور عوام کو ریلیف دینے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر مل کر اقدامات کرے، ورنہ عوام دونوں کو ہی مسترد کرنے میں دیر نہیں کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •