مشینوں کے درمیاں انسانوں کا ترجمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کلاس کے سارے طالب علم، عباسی صاحب کا لیکچر سننے میں منہمک ہیں۔ کمپیوٹر سیکھنے کی یہ کلاس شروع ہوئے ابھی کوئی دو ہفتے ہی ہوئے ہوں گے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ طالب علم ابھی اچھی طرح ایک دوسرے سے اور اپنے اساتذہ سے بھی بہت زیادہ شناسائی حاصل نہیں کر سکے ہیں۔

اس اجنبیت کے باوجود سب کی خواہش ہے کہ وہ لیکچر پر پوری توجہ دے سکیں۔ ہاں ان میں ایک طالب علم ایسا ہے جو عباسی صاحب کے لیکچر سے زیادہ ان کا چہرہ پڑھنے میں مگن ہے۔ وہ خود بھی اس الجھن کا شکار ہے کہ اس کی توجہ کیوں بار بار ان کے چہرے پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ اسی کشمکش میں کلاس کے ختم ہو نے کا وقت ہو چکا ہے۔ طالب علم اپنی اپنی مصروفیت کے حوالے سے ایک دوسرے سے علیحدہ ہو چکے ہیں، مگر وہ طالب علم، عباسی صاحب کے کمرے کی طرف روانہ ہے۔ عباسی صاحب اس کی آمد کو محسوس کرتے ہوئے، یہ تاثر لیتے ہیں کہ شاید وہ لیکچر کے کسے پہلو کی وضاحت کا خواہش مند ہے، مگر طالب علم کا سوال انھیں حیران کر دیتا ہے۔ ”سر کیا میں جان سکتا ہوں کہ آپ کو کیا پریشانی ہے؟“ عباسی صاحب کے مسلسل انکار کے باوجود، اس کا اصرار اب بھی قائم ہے۔

آئیں دیکھتے ہیں یہ مضطرب اور چہرہ شناسی میں دل چسپی رکھنے والا شخص ہے کون!
عباسی صاحب سے ہونے والی گفتگو کو جاننے اور سمجھنے کی، ہم بعد میں کوشش کریں گے۔

یہ کمپیوٹر اور ٹکنالوجی کا دنیا کا وہ باسی ہے، جو مشینوں سے گہری دوستی رکھنے کے باوجود، انسانوں کے معاشرے کو انسانوں کے معاشرے کی طرح دیکھنے کا تمنائی ہے۔ یہ روبوٹس کے بارے میں پورا علم رکھتا ہے مگر انسانوں کو روبوٹس بنتا دیکھنے پر راضی نہیں۔ اپنی فنی صلاحیت اور مہارت کے ساتھ یہ آج میں رہتے ہوئے بھی کل کی روایات کو زندہ رکھنا اور انھیں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے۔ گزرے ہوئے کل سے تعلق رکھنے والی اشیا، شخصیات، فلمیں، رسالے اور خاص طور پر صوت و صدا کا ہر روپ اسے دل و جان سے عزیز ہے۔ کمپیوٹر کی تخلیق، شاید اس کے تخلیق کاروں کے لئے اس قدر خوشی کا باعث نہ ہوئی ہو، جتنا ماضی کے خزانے کی طرف لے جانے والی اس کھڑکی کے کھلنے کا، اس طرف جشن منایا گیا۔

یہ 1990 کی دہائی ہے اور آج یہ ایک ایسی شخصیت سے ہمیں ملانے جا رہا ہے جنہیں اپنے ماضی کے چشم دید واقعات سے بہت پیار ہے مگر جاتی بینائی اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ اب، وہ منظر جوں کا توں دیکھ سکیں۔ ریٹائرمنٹ کی فراغت نے اس دکھ میں اور اضافہ کر دیا ہے۔ یہ وہ صاحب ہیں جو بھارتی اداکارہ نرگس کی فلموں کے مداح رہے ہیں اور اب بھی جب کہ، نظریں ان کا ساتھ نہیں دیتیں، ان کا دل ( اور ان کی سماعت ) نرگس کی کسی بھی فلم کے کسی بھی منظر کی حرف بہ حرف گواہی دینے کے لیے تیار ہے۔

ان کے اس شوق اور تڑپ میں ان کے گھر اور ان کے جاننے والوں میں، کوئی بھی شریک نہیں۔ سوائے ہمارے اس کردار کے، جو محض ان کی اس دلچسپی کے سبب ان سے قربت اور تعلق کا دعویدار ہے۔ لیجیے ان کی دل جوئی کے لئے، نرگس کی فلموں کے دلدادہ کے گھر، اپنی تمام تر ذمہ داری کے ساتھ، ڈش انٹینا لگانے کا فیصلہ ہوا ہے جو اس وقت آڈیو اور وڈیو کی سب سے بڑی سہولت ہے۔ اس اہتمام کے پس پردہ صرف اور صرف یہ خواہش کار فرما ہے کہ کسی طرح، پسندیدہ ہیروئن کی آواز کی دستیابی، ان کے لئے باعث سکون ہو جس کی تصویر کبھی ان کی بصارت کی تسکین کا ساماں تھی۔

اور یہ ہے گوالمنڈی کا ایک تہہ خانہ۔ یہاں جعفری صاحب کا ڈیرہ ہے۔ یہ وہ جعفری صاحب ہیں جو اپنی انا داؤ پر لگا کر، ذرائع ابلاغ میں جوتیاں چٹخا کر، کسی سے کام کی بھیک مانگنے پر خود کو آمادہ نہیں کر پائے، سو یہ تہہ خانہ ان کا ٹیوشن سینٹر ہے جو کسی نہ کسی طور زندگی کی گاڑی کو آگے کھینچنے کے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتا ہے۔

ذریعہ معاش جس قدر بھی تنگ ہو، اگر روایات نبھانے کا جذبہ ہو تو کوئی نہ کوئی صورت نکل ہی آتی ہے اور جعفری صاحب مشاعرے اور محفل موسیقی، ( خواہ وہ کتنی ہی محدود سطح کی ہو ) ، برپا کیے بنا رہ نہیں سکتے۔ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس نیک اور شراکت کے کام میں کون ان کا معاون اور ( اور شاید محرک بھی) ہو سکتا ہے۔ جس موڑ پر کوئی رکاوٹ آ موجود ہو، اس کے تدارک کے لئے بھی دامے، درمے، سخنے، وہی ایک صورت ہمہ وقت موجود ہے۔

ابھی عباسی صاحب سے گفتگو ختم نہیں ہوئی، چلیں تب تک مزید احوال کی طرف بڑھتے ہیں۔

یہ کمرہ، جی ہاں آپ نے صحیح پہچانا، یہ کسی اور کا ہو بھی نہیں ہو سکتا۔ یہاں فرش سے لے کر چھت تک، کمپیوٹر، ٹی وی، یو پی ایس اور دوسرے آلات کے جتنے پرزے پڑے ہیں، اتنے ہی ( اپنی نوعیت کے ) رسالوں اور کتابوں کا ڈھیر ہے۔ پرزوں کو ان کی جگہوں سے ہٹانا شاید اتنا بڑا جرم نہ ہو جتنا رسالوں اور کتابوں کی ترتیب کو چھیڑنا، جھگڑے کا سبب بن سکتا ہے۔ یہاں کی بے ترتیبی میں بھی ایک ترتیب ہے جس سے ہر کوئی باخبر نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس ترتیب کو منتشر کرنے کی رعایت، قریب سے قریب اور عزیز سے عزیز شخص کو بھی میسر نہیں۔ کیوں کہ کسی ایک کتاب یا رسالے کی جگہ بدلنے سے ذہن کے کمپیوٹر میں موجود پروگرامنگ کے، متاثر ہو نے کا اندیشہ ہے۔

ادھر عباسی صاحب کا مسلسل انکار، اب ایک سچے ہمدرد کے مسلسل اصرار کے آگے دم توڑ چکا ہے۔ وہ اب حقیقت کی مزید پردہ پوشی کرنے سے، بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ انھیں بالآخر یہ بتانا پڑا کہ جب وہ انسٹیٹیوٹ سے پڑھا کر واپس گھر لوٹتے تو اپنے بیٹے کو ٹی وی دیکھنے میں مشغول پاتے جب کہ اس کا میٹرک کا امتحان سر پر ہے۔ ایک دن، تنبیہ کی آخری ترکیب کے طور پر انھوں نے سمجھایا کہ اگر آج بھی واپسی پر یہی منظر دیکھا تو وہ ٹی وی سیٹ توڑ دیں گے۔ سو لوٹنے پر وہی منظر مقابل تھا اور انھوں نے بھی اپنی بات سچ کر دکھائی۔ اس ردعمل کے نتیجے میں بیٹا ایک ہفتے سے گھر سے لاپتہ ہے۔

عباسی صاحب کا دکھ اب صرف ان کا دکھ نہیں رہا۔ اور یہ کیسے ممکن ہے کہ جو آپ کے دکھ کو ہجوم میں بھی پہچان لے، وہ اس کے مداوے کے لئے سرگرداں نہ ہو۔ کچھ ہی دنوں کی ( مخلصانہ ) جستجو، (دانشمندانہ ) کوشش اور ( حقیقت پسندانہ ) تلاش رنگ لائی اور عباسی صاحب کی خوشی ان کو لوٹا دی گئی۔ انسانی رشتوں اور تعلقات کی نزاکت اور باریکی کو سمجھنے والا وکیل یہ کیس بھی جیت گیا۔

یہ کہانی اس انسان دوست دردمند اور اعلیٰ پائے کے ہنرمند کی ہے جو نہایت کم عمری میں، اوکاڑہ سے کراچی ملازمت کے لئے گیا اور اپنے مزاج کے خلاف کسی بے ڈھب کام میں الجھا دیا گیا، اسی لئے اسے بار بار کان سے پکڑ کر اس دکان سے واپس لایا جاتا جہاں بھونپو پر پرانے گانے چل رہے ہوتے اور ان گانوں میں اس کا دل اٹکا ہوتا۔ پاکستان ٹیلی وژن کے سفر میں شامل پیشہ ور ماہرین عموماً ”، تصویر سے وابستگی کا اظہار کرتے ہیں، مگر مرحوم طارق حسین کا انجنیئر کی حیثیت سے اس ادارے کا چناؤ اور ترجیح، صرف اور صرف آواز سے محبت کا مظہر تھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •