امریکہ نے تائیوانی حکام سے روابطہ رکھنے پر عائد پابندی ختم کر دی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکی محکمۂ خارجہ نے تائیوان کے ساتھ غیر سرکاری تعلقات کے تحت دونوں ملکوں کے حکام کے مابین روابط پر عائد خود ساختہ پابندی ختم کر دی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ امریکہ کی طرف سے کیا گیا یہ اقدام تائیوان میں سراہا جائے گا لیکن چین اس سے خفا ہو گا۔

ہفتے کو ایک بیان میں امریکی وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکہ نے گزشتہ کئی عشروں سے اپنے سفارت کاروں اور حکام پر تائیوان کے حکام سے روابط کے معاملے پر پابندیاں عائد کر رکھی تھیں جنہیں اب ختم کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تائیوان امریکہ کا قابلِ اعتماد پارٹنر ہے۔ لہذٰا اب امریکی حکومتی اداروں کے تائیوان کے حکام اور اداروں کے ساتھ تعلقات پر عائد پابندی کو ختم سمجھا جائے۔

تائیوان کی جنگی مشقیں

اس سے قبل امریکہ کے اعلی حکام کی تائیوان جانے پر ممانعت تھی کیوں کہ ایسا کرنے سے چین کی ناراضگی مول لینے کا خطرہ رہتا تھا۔ ان پابندیوں کے باعث تائیوان کے صدر، نائب صدر، وزرا برائے امور خارجہ و امور دفاع کے واشنگٹن آنے پر ممانعت تھی۔

خیال رہے کہ چین، تائیوان کو اپنا حصہ سمجھتا ہے اور چینی قیادت مختلف مواقع پر یہ واضح کر چکی ہے کہ وہ اسے چین میں ضم کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں کرے گی۔

تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکہ کے درمیان تناؤ رہتا ہے۔ تائیوان سے روابط رکھنے پر چین امریکہ سے نالاں رہتا ہے۔

امریکہ میں تائیوان کی مندوب بی کم شاؤ نے امریکہ کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ کئی دہائیوں سے جاری یہ امتیاز اب ختم کردیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ “یہ امریکہ اور تائیوان کے دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے ایک اہم دن ہے۔”

تائیوان کے امریکہ میں اقتصادی اور ثقافتی دفتر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کا یہ اقدام دو طرفہ تعلقات کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے اعلی عہدیدار ڈریو تھامسن کہتے ہیں کہ روابط پر پابندیاں امریکہ اور تائیوان دونوں کے لیے بے سود تھیں اور امریکہ کا تائیوان کے ساتھ قریبی تعاون واشنگٹن کے حق میں ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 963 posts and counting.See all posts by voa