پاکستان میں افغان طلبہ کے مسائل کیا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عام طور پر بلوچستان جا کر نہ صرف خوشی ہوتی ہے بل کہ اچھے لوگوں سے مل کر معلومات میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ گو کہ پاکستان کے دیگر علاقوں میں بلوچستان کے بارے میں زیادہ باتوں کا علم نہیں ہوتا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہاں بہت سے اچھے ادارے بھی کام کر رہے ہیں۔ ان میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر فار ریفیوجی اینڈ مائگریشن اسٹڈیز ہے، یعنی بین الاقوامی مرکز برائے مطالعہ ہجرت و مہاجرین۔

یہ مرکز بلوچستان یونی ورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی انجینئرنگ اینڈ مینیجمنٹ سائنسز میں واقع ہے۔ یہ مرکز بنیادی طور پر ایک تحقیقی ادارہ ہے جو مہاجروں اور ان کے میزبان ممالک اور علاقوں کے درمیان تعاون اور رابطہ بڑھانے کا کام کرتا ہے۔ اس بارے میں تحقیق آسان کام نہیں کیوں کہ اس کے لیے کئی موضوعات اور شعبوں میں کام کرنا پڑتا ہے۔ اس مرکز کے جواں سال سربراہ حمل بلوچ ہیں جو سماجی علوم کی فیکلٹی کے ڈین ڈاکٹر جان محمد کے ساتھ مل کر اچھا خاصا کام کر رہے ہیں۔

اس مرکز میں مہاجرین کے معاشی و سماجی مسائل پر تحقیق کی جاتی ہے جو نہ صرف اس خطے میں بل کہ عالمی سطح پر کارآمد ہو سکتی ہے۔ جیسے جیسے دنیا بھر میں بے گھر افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ویسے ہی اس طرح کی تحقیق اور اس بارے میں گفت و شنید کی اہمیت بڑھتی جا رہی ہے۔

یہ مرکز نہ صرف تحقیق کرتا ہے بل کہ گفت و شنید کے لیے پالیسی ڈائیلاگ سیمینار اور کانفرنسوں کا انعقاد بھی کرتا ہے۔ حال ہی میں اس مرکز نے پالیسی ڈائیلاگ کا اہتمام کیا جس کا موضوع تھا ”پاکستان میں افغان مہاجرین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مسائل“ ۔

اس موقع پر پاکستان میں مقیم افغان طلبا و طالبات کو درپیش مسائل پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ان مسائل میں نہ صرف تعلیم تک رسائی بل کہ دستاویزات کی کمی اور مواقع کی کم یابی سمیت سب کچھ شامل تھا۔ یہ اجتماع کورونا کے دور میں تمام احتیاطی تدابیر کے ساتھ کیا گیا اور بڑی دل چسپ اور معلومات افزا گفتگو کا موقع فراہم کیا۔

اس میں فیصلہ ساز اداروں اور حکومتی سطح کے مختلف لوگوں نے شرکت کی۔ مرکز نے نہ صرف افغان سفارت کاروں اور طلبا و طالبات کو اکٹھا کیا بل کہ کئی جامعات کے کلیات کے سربراہوں اور نائب سربراہوں کو بھی خیالات کے اظہار کا موقع دیا جنہوں نے افغان طلبا و طالبات کے ساتھ اپنے تجربات پر روشنی ڈالی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے تجاویز بھی دیں۔

اسی طرح حکومت بلوچستان کے افسر اور اعلیٰ تعلیمی کمیشن کے نمائندے بھی موجود تھے، جنہوں نے شرکا کی معلومات میں اضافہ کیا۔ سب سے پہلی بات تو یہ سامنے آئی کہ اب تک افغان طلبا و طالبات کے لیے کوئی جامع حکمت عملی نہیں بنائی جا سکی ہے۔ گو کہ یہ مہاجرین چالیس سال سے زیادہ عرصہ یہاں گزار چکے ہیں پھر بھی دنیا اس میں زیادہ دل چسپی لیتی ہے کہ کون کس کے خلاف لڑ رہا ہے۔

جسے ہم ”عالمی برادری“ کہتے ہیں، وہ مختلف دھڑوں کو آپس میں لڑانے میں مصروف رہی ہے اور ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کی کوششوں کی مدد کرتی رہی ہے۔ اس طرح ہم نے ترقیاتی مقاصد کو کھو دیا ہے اور جنگ کے دھوئیں میں گم ہو کر رہ گئے ہیں۔ ہم نے نہ صرف مقامی آبادی بل کہ مہاجرین کے بھی مفاد عامہ کو قربان کر دیا ہے اور اس کی جگہ قومی اور مذہبی منافرت کے بیج بوئے ہیں۔ پچھلے چار عشروں میں ہم مختلف مفادات رکھنے والے دھڑوں کو قریب لانے میں ناکام رہے اور کوئی مشترک لائحہ عمل تیار نہ کر سکے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تعلیم کے مختلف دھاروں کو آپس میں ملایا جائے اور ایسی تعلیم دی جائے جو نہ صرف منصفانہ ہو بل کہ عدل کے اصولوں پر مبنی ہو یعنی جس میں سماج کے تمام طبقات کے لوگ بشمول افغان مہاجرین ہر سطح کی تعلیم حاصل کر سکیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ افغان مہاجرین کے بچوں کو ابتدائی اور ثانوی تعلیم پر نسبتاً زیادہ توجہ دی گئی ہے اور اعلیٰ تعلیم کی ضروریات کو تقریباً بالکل نظرانداز کیا گیا ہے۔ اس میں کالج کی تعلیم بھی شامل ہے اور جامعات کی سطح کی بھی۔

خود پاکستان کے بالغ طلبا و طالبات کے لیے تعلیم کے مواقع بھی بہت محدود ہیں۔ اس بارے میں کم و بیش اتفاق رائے پایا گیا کہ پاکستان میں افغان طلبا کے لیے اعلیٰ تعلیم کے مواقع کے بارے میں کوئی واضح پالیسی موجود نہیں ہے۔ اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ افغان مہاجرین کی اعلیٰ تعلیم کے بارے میں سوچا اور لکھا جائے اور اس کے لیے رائے عامہ ہموار کی جائے یعنی ایڈووکیسی کی جائے اور اس مسئلے سے تعلق رکھنے والے تمام محکموں اور اداروں کے شعور میں اضافہ کیا جائے۔

پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کا معاملہ دیگر ممالک سے خاصا مختلف ہے۔ ہم نے چالیس سال ان کی میزبانی کی ہے اور ان میں سے تقریباً نصف تو پاکستان میں ہی پیدا ہوئے۔ اس وقت اندراج شدہ افغان مہاجرین کی تعداد پاکستان میں پندرہ لاکھ کے لگ بھگ ہے مگر اندازوں کے مطابق اتنی ہی تعداد غیر اندراج شدہ بھی ہو سکتی ہے۔ اگر ان کی مجموعی تعداد کو بیس لاکھ بھی گن لیا جائے تو ان میں تقریباً آدھے تیس برس سے کم ہوں گے یعنی جنہیں تعلیم اور دیگر مہارتوں میں اضافے کی ضرورت ہو گی۔

جب 1980 کے بعد افغان مہاجرین پاکستان آنا شروع ہوئے تو وہ سب ایک جیسے نہیں تھے بل کہ بہت مختلف گروہوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے ناصرف نسلی گروہ مختلف تھے بل کہ مالی حالات بھی الگ الگ تھے۔ کچھ امیر مہاجرین نے نہ صرف یہاں جائیدادیں خریدیں بل کہ کاروبار بھی شروع کیے لیکن مہاجرین کی اکثریت خاصی غریب تھی۔

کچھ مہاجرین نے پاکستانی شناختی کارڈ بھی حاصل کر لیے اور یہاں قانونی شہریوں کی طرح رہنا شروع کر دیا لیکن اکثریت نے ایسا نہیں کیا یا نہ کر سکی اور وہ یہاں مہاجرین کی طرح ہی رہتے رہے، ان میں تعلیم کی استطاعت بھی نہیں تھی۔ یعنی وہ معاشی طور پر اس قابل نہیں تھے کہ اپنے بچوں کو کالج یا جامعات کی سطح تک تعلیم دلا سکیں۔

اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس گفت و شنید کو آگے بڑھایا جائے اور مہاجرین کے لیے ایک جامع تعلیمی حکمت عملی تیار کی جائے۔ بدقسمتی سے اس پالیسی ڈائیلاگ میں کئی اہم ادارے اور محکمے شامل نہیں تھے مثلاً انٹر بورڈ کمیٹی آف چیئرمین یعنی انٹر بورڈ کے سربراہوں کی کمیٹی کا کوئی نمائندہ موجود نہیں تھا جو افغان مہاجرین کی تعلیمی اسناد کی تصدیق اور مساوات کی ضمانت جاری کرتا ہے۔

افغان مہاجرین کے بچوں کی تعلیم کا بڑا مسئلہ تعلیمی اسناد کی مساوات کی ضمانت جاری کرنا ہے۔ اس طرح وفاقی وزارت تعلیم کو بھی اس میں دل چسپی لینے کی ضرورت ہے کیوں کہ اسی نے پاکستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو میسر وسائل میں کمی کر رکھی ہے اور اکثر سرکاری اعلیٰ تعلیمی ادارے اس وقت مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ کچھ جامعات تو اپنے اساتذہ کو تنخواہیں تک ادا نہیں کر پا رہے۔ اس صورت حال میں پاکستان اعلیٰ تعلیم کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں کم ترین ممالک میں شامل ہے۔

یہاں اعلیٰ تعلیم میں طلبا و طالبات کا تناسب بھارت اور بنگلہ دیش سے بھی نیچے ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن کو بھی اس مسئلے پر توجہ دینی چاہیے اور افغان اور پاکستانی طلبا کے تعلیمی مسائل کے حل کے وسائل مختص کرنے چاہیے اور اسی طرح جو ادارے پاکستان میں افغان مہاجرین کے معاملات دیکھنے کے ذمہ دار ہیں، انہیں بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اس طرح تکنیکی اور پیشہ ورانہ مہارت کی تعلیم و تربیت بھی ضروری ہے کیوں کہ اکثر طالب علم ڈگریاں لے کر مارے مارے پھرتے ہیں مگر ان کے پاس کوئی تکنیکی مہارت نہیں ہوتی کہ جس کے بل پر وہ ملازمت یا کوئی چھوٹا موٹا کاروبار کرسکیں۔ اس پالیسی ڈائیلاگ کے اختتام پر ایک افغان طالب علم سعد الدین نے بڑے موثر انداز میں افغان طلبا کے مسائل پر روشنی ڈالی۔

امید ہے اس سلسلے میں پیش رفت ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •