گاندھی جی انڈیا اور پاکستان میں اثاثوں کی منصفانہ تقسیم کا مطالبہ کرنے پر قتل ہوئے

عقیل عباس جعفری - محقق و مورخ، کراچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

گاندھی

Getty Images
گاندھی کے قتل پر پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نازک وقت میں انڈین سیاست سے گاندھی کا اٹھ جانا ناقابل تلافی نقصان ہے

یہ 12 جنوری 1948 کی بات ہے جب گاندھی نے اگلے روز سے دلی میں مسلمانوں کے قتل عام اور پاکستان کو اثاثہ جات کی واجبات کی ادائیگی میں لیت و لعل کے خلاف ’مرن برت‘ رکھنے کا اعلان کیا۔

پاکستان کو اثاثہ جات کی ادائیگی کا معاملہ کیا تھا اس کے لیے ہمیں ایک ماہ پہلے یعنی دسمبر 1948 میں ہونے والے معاہدے کی تفصیل میں جانا پڑے گا۔ گاندھی کا مؤقف اوران کا یہ مرن برت اتنا اہم تھا کہ اس کی قیمت انھیں اپنی جان کی صورت میں چکانی پڑی۔

پاکستان کے قیام کے فوراً بعد مسئلہ کشمیر کے ساتھ ساتھ جو مسئلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان نزاع کا باعث بنا وہ اثاثہ جات کی تقسیم کا تھا۔

مؤرخ زاہد چوہدری نے اپنی کتاب ’پاک بھارت تنازع اور مسئلہ کشمیر کا آغاز‘ میں لکھا ہے کہ ’قیام پاکستان سے پہلے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ تقسیم ہند کے بعد دونوں ملکوں کی کرنسی 31 مارچ 1948 تک مشترکہ رہے گی۔ اس کے بعد پاکستان چھ مہینے کے اندر ہندوستانی کرنسی کی جگہ اپنی کرنسی رائج کر دے گا، گویا 30 ستمبر1948 تک پاکستان میں ہندوستانی کرنسی چلتی رہے گی۔ جب یہ فیصلہ ہوا تھا تو اس وقت حکومت ہند کے پاس تقریباً چار ارب روپے کی رقم موجود تھی۔

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’پاکستان کے نمائندوں کا مطالبہ یہ تھا کہ انھیں ان کے ملک کی آبادی، رقبے اور دوسرے ذرائع کا لحاظ کرتے ہوئے اس رقم کا پچیس فیصد حصہ دیا جائے لیکن انڈین رہنما سردار پٹیل نے یہ مطالبہ تسلیم کرنے سے قطعی انکار کر دیا اور صرف 20 کروڑ روپے کی فوری ادائیگی پر آمادگی ظاہر کی۔ حکومت پاکستان نے مطلوبہ رقم کی ادائیگی کا تنازع ثالثی ٹربیونل کے سپرد کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

’نو دسمبر 1947 کو اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر خزانہ غلام محمد نے اور انڈین وفد کی قیادت وزیر داخلہ سردار پٹیل نے کی۔ کانفرنس کے اختتام پر فیصلہ ہوا کہ قیام پاکستان کے وقت ہندوستان کے پاس جو چار ارب روپے تھے ان میں سے پاکستان کو 17.33 فیصد حصہ یعنی 75 کروڑ روپے ملیں گے۔‘

’ان 75 کروڑ روپیوں میں سے 20 کروڑ روپے پاکستان کو پہلے ہی دیے جا چکے تھے۔ اب یہ طے ہوا کہ پاکستان کو بقیہ 55 کروڑ روپے کی رقم فوراً ادا کر دی جائے کیونکہ پاکستان میں سرکاری اخراجات کے لیے کوئی پیسہ نہیں تھا۔‘

معاہدے میں یہ بھی طے ہوا کہ دونوں نو آزاد ممالک اپنے اپنے علاقوں میں پنشنز (ریٹائرڈ سرکاری ملازمیں کو ماہانہ بنیادوں پر ملنے والی رقم) کی ادائیگی جاری رکھیں گے۔ انڈیا غیر ممالک میں مقیم باشندوں کی پنشنز تیار کرے گا۔ پنشنز کا تناسب دونوں نوآبادیات کریں گی۔

فوجی سٹورز میں پاکستان کا حصہ انڈیا کے موجودہ سٹاک کا ایک تہائی ہو گا۔ آرڈیننس فیکٹریوں کی مادی تقسیم نہیں ہو گی۔ پاکستان میں آرڈیننس فیکٹریوں کے قیام کے لیے انڈیا اسے چھ کروڑ روپے دے گا۔

ماؤنٹ بیٹن، لیاقت علی خان، سردار عبدالربنشتر، نہرو

Getty Images

یہ بھی طے پایا کہ پاکستان کو سکیورٹی پرنٹنگ پریس قائم کرنے میں بھی انڈیا مدد دے گا۔ اعلان کے آخر میں کہا گیا کہ انڈیا اور پاکستان موجودہ سمجھوتے پر بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں، لیکن معاہدے پر دستخط کے باوجود کئی دن تک کوئی ادائیگی نہ ہوئی۔

احمد سلیم نے ’پاکستان کی سیاسی تاریخ‘ جلد اول میں لکھا ہے کہ ’معاہدے ہونے کے بعد ہندوستانی اخبارات میں یہ پراپیگنڈا شروع ہوا کہ اگر پاکستان کو یہ رقم ادا کر دی گئی تو پاکستان اس سے گولہ بارود خریدے گا اور کشمیر کے محاذ پر بھارت کے شہریوں اور فوجیوں کے خلاف استعمال کرے گا لہٰذا بھارتی حکومت کو اس رقم کی ادائیگی کی حماقت نہیں کرنی چاہیے۔‘

زاہد چوہدری کے بقول ’سردار پٹیل نے جو پہلے ہی پاکستان کے وجود کے مخالف تھے، یہ معاملہ لوک سبھا میں اٹھا دیا۔ انھوں نے پاکستان کے واجبات کی ادائیگی کے معاملے کو کشمیر کے تنازع کے تصفیے کے ساتھ نتھی کرنے کی کوشش کی اور پھر 12 جنوری 1948 کو ایک پریس کانفرنس میں کھل کر اعلان کر دیا کہ کشمیر میں لڑائی کے دوران ہندوستان کی جانب سے پاکستان کو کسی رقم کی ادائیگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ان کی دلیل بھی وہی تھی جو اخبارات کے ذریعے پہلے ہی عوام الناس تک پہنچا دی گئی تھی کہ اگر یہ رقم پاکستان کو ادا کی گئی تو پاکستان اسے کشمیر میں ہندوستان کے خلاف جنگ میں خرچ کرے گا۔‘

وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’کئی مؤرخین نے لکھا ہے کہ اگرچہ پاکستان کے واجبات کی ادائیگی نہ کرنے کا فیصلہ بظاہر ہندوستانی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا تھا لیکن دراصل یہ فیصلہ تنہا سردار پٹیل کا تھا۔ ایسے میں لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے جو ہندوستان کے گورنر جنرل تھے سردار پٹیل کے اس فیصلے کی مخالفت کی اور کہا کہ پاکستان کو معاہدے کے بعد ادائیگی نہ کرنے کا فیصلہ آبرو مندانہ نہیں ہے۔‘

’ان کا مؤقف تھا کہ جس وقت اس 55 کروڑ روپے کی ادائیگی کے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے کشمیر کے محاذ پر لڑائی اس وقت بھی جاری تھی۔ نہرو بھی ماؤنٹ بیٹن کے ہم خیال تھے اور وہ اس رائے سے اتفاق کرتے تھے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد اس سے پیچھے ہٹنا مناسب نہیں اور اس سے ساری دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہوگی۔’

یہاں ایک دوسرا کردار آتا ہے۔ ترقی اردو بیورو، نئی دہلی کی ’فرہنگ سیاسیات‘ کے مطابق سردار ولبھ بھائی پٹیل گجرات میں ندیاد کے مقام پر اکتوبر 1875 میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک کاشتکار گھرانے سے تھا تاہم انھیں پڑھنے لکھنے سے شغف تھا۔ سنہ 1910 میں وہ انگلستان گئے جہاں انھوں نے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور سنہ 1913 میں احمدآباد میں وکالت کا آغاز کیا۔ یہاں وکالت سے زیادہ ان کی انسانیت دوستی اور مصیبت زدوں سے ہمدردی کی بنا پر شہرت ہوئی۔ انھوں نے مہاتما گاندھی کو اپنا رہنما بنایا اور عملی سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔

سردار پٹیل اور گاندھی

Getty Images
سردار پٹیل اور گاندھی

’ستیا گرہ تحریک میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انھیں سردار کا خطاب دیا گیا۔ انھوں نے قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں اور 1937 میں جب گیارہ میں سے سات صوبوں میں کانگریسی وزارتیں قائم ہوئیں تو ان کی نگرانی کی۔ گاندھی ان پر بہت اعتماد کرتے تھے شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ گاندھی کی طرح وہ بھی گجرات سے تعلق رکھتے تھے۔ سردار پٹیل کانگریس کے مرد آہنگ کہلاتے تھے۔ انھوں نے اپنی حکمت اور تدبیر کے ذریعے کانگریس کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ ہندوستان کی تحریک آزادی کے صف اول کے رہنما اور آزادی کے بعد نئے نظام کے معماروں میں شامل تھے۔’

زاہد چوہدری لکھتے ہیں کہ ‘سردار پٹیل کے بدلتے ہوئے مؤقف کے بعد نہرو نے گاندھی سے روزانہ ملاقات کا سلسلہ شروع کیا جس کا نتیجہ نہرو کے حق میں بہت اچھا نکلا کیونکہ ستمبر 1947 کے بعد گاندھی بظاہر فرقہ وارانہ فسادات، رشوت ستانی اور دوسری بدعنوانیوں کی وجہ سے کچھ بددل ہوگئے تھے۔ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے بارے میں پٹیل کی تقریروں سے بھی ناخوش تھے۔‘

وہ لکھتے ہیں ’ابوالکلام آزاد کی رائے میں گاندھی کی پٹیل سے بددلی کی وجہ یہ تھی کہ پٹیل بہت خودسر اور گستاخ ہو گئے تھے، وہ گاندھی سے توہین آمیز لہجے میں بات کرتے تھے۔ دہلی میں مسلمانوں کا قتل عام جاری تھا جس پر نہرو بہت پریشان تھے۔ مسلمان اقلیت کے کئی ماہ تک قتل عام جاری رہنے سے ساری دنیا میں ہندوستان کی بدنامی ہو رہی تھی اور پاکستان کو سیاسی طور پر فائدہ پہنچ رہا تھا، بالخصوص تنازع کشمیر کے سلسلے میں پاکستان کے مؤقف کو تقویت مل رہی تھی۔ برطانوی اخبارات ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کی پیش گوئی کر رہے تھے، خود پاکستان میں بھی یہ خطرہ محسوس کیا جا رہا تھا کہ ہندوستان مستقل ایسے اقدامات کر رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان ہندوستان کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔‘

12 جنوری 1948 کو نہرو حسب معمول شام کے وقت گاندھی سے ملنے گئے اور ان کی واپسی کے تھوڑی ہی دیر بعد گاندھی نے اعلان کر دیا کہ چونکہ دہلی میں مسلمانوں کا کشت و خون جاری ہے اور سردار پٹیل وزیر داخلہ کی حیثیت سے امن و امان بحال کرنے میں ناکام رہے ہیں اس لیے میں کل یعنی 13 جنوری سے برت رکھوں گا جو اس وقت تک جاری رہے گا جب تک صورتحال ٹھیک نہیں ہوتی۔ اس موقع پر پاکستان کو واجبات کی ادائیگی کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا۔ گاندھی یہ واجبات ادا کرنے کے حق میں تھے اور نہرو اور آزاد کی بھی یہ رائے تھی لیکن پٹیل اس پر بہت برہم تھے۔

’اگلے دن بھارتی کابینہ کے اجلاس میں پاکستان کے واجبات ادا کرنے کا فیصلہ کیا گیا تو نہرو اور پٹیل کے درمیان جھڑپ ہوئی، یہ صورتحال پٹیل کے لیے ناقابل برداشت تھی۔ 15جنوری کو انھوں نے گاندھی کے نام ایک چٹھی لکھی جس میں وزارت داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ پیش کیا گیا تھا تاہم اسی روز کابینہ کے فیصلے کے مطابق پاکستان کو 50 کروڑ روپے کی ادائیگی کر دی گئی۔‘

’پانچ کروڑ روپے ہندوستان کے بعض متوقع واجبات کی پیشگی ادائیگی کے طور پر روک لیے گئے۔ 18 جنوری کو گاندھی نے اپنا برت ختم کر دیا کیونکہ ماؤنٹ بیٹن، نہرو اور ابوالکلام آزاد نے انھیں یقین دلایا تھا کہ اب دہلی میں امن و امان ہو گیا ہے اور آئندہ دارالحکومت میں مسلمانوں کا قتل عام نہیں ہو گا۔‘

ابوالکلام آزاد نے اپنی کتاب ’انڈیا ونز فریڈم‘ میں لکھا ہے کہ ’گاندھی کے برت رکھنے پر صرف پٹیل کو ہی غصہ نہیں آیا تھا بلکہ اور بھی بہت سے قوم پرست ہندو گاندھی کے اس اقدام پر برہم تھے۔‘

آزاد کے بقول ’سردار پٹیل بدستور خودسر تھے اور انھوں نے گھٹنے نہیں ٹیکے تھے۔ انھوں نے بمبئی سے واپس آ کر گاندھی سے ملاقات کی تو اس میں کوئی گرم جوشی نہیں تھی حالانکہ گاندھی ان سے بہت مشفقانہ طور پر پیش آئے تھے۔‘

محمد علی جناح اور گاندھی

Getty Images
بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس عظیم شخص کی موت سے جو جگہ خالی ہوئی اس کا پورا ہونا بہت مشکل ہے

مہاسبھا اور راشٹریہ سیوک سنگھ سے تعلق رکھنے والے ہندو کھلم کھلا یہ کہتے تھے کہ گاندھی ہندوؤں کے خلاف مسلمانوں کی امداد کر رہے ہیں۔ وہ گاندھی کی پرارتھنا کے دوران قرآن اور انجیل کی تلاوت پر بھی نکتہ چینی کرتے تھے۔ انھوں نے گاندھی کے خلاف اشتعال انگیز اشتہار اور پمفلٹ بھی چھاپے تھے جس میں گاندھی کو ہندوؤں کا دشمن قرار دیا گیا۔ ایک پمفلٹ میں تو یہ دھمکی بھی دی گئی تھی کہ ’اگر گاندھی نے اپنا راستہ نہ بدلا تو اسے غیر مؤثر کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔‘

پاکستان بھی اس صورتحال کو سنجیدگی سے دیکھ رہا تھا۔ روزنامہ ڈان کراچی کے 20 جنوری 1948 میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق ‘پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انڈیا کے جن رہنماؤں نے ہندوستان کی تقسیم کو خلوص دل سے قبول نہیں کیا ہے وہ پاکستان کی پیدائش کے روز اول سے اسے ختم کرنے کے درپے ہیں۔ ان رہنماؤں کے سرخیل سردار پٹیل ہیں جن کی زبردست خواہش ہے کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن نہ ہو۔’

پی ڈی ڈنڈن اور روینڈائی ولزلے کی کتاب ’گاندھی، اہنسا کا سپاہی‘ کے مطابق ’اسی روز دہلی میں برلا ہاؤس میں گاندھی کی پرارتھنا کے دوران ایک بم دھماکا ہوا۔ خوش قسمتی سے کوئی شخص زخمی تو نہ ہوا لیکن یہ پتہ چلا گیا کہ کوئی منظم گروہ گاندھی کے قتل کے درپے ہے۔گاندھی نے پولیس سے کہا کہ جو نوجوان بم پھینکنے کا ذمہ دار ہے اسے کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے، نوجوان کا نام مدن لال تھا جو شدت پسند ہندوؤں کے گروہ سے تعلق رکھتا تھا ان کا خیال تھا کہ ہندو مذہب کو مسلمانوں اور گاندھی سے خطرہ ہے۔‘

ایسے میں 30 جنوری 1948 کا دن آ گیا۔

گاندھی جی اپنی شام کی پرارتھنا کرنے کے لیے اپنے ہی گھر میں بنے ہوئے مندر کی طرف جا رہے تھے کہ ناتھورام گوڈسے نامی شخص نے اپنی پستول سے پے درپے تین فائر کر کے انھیں ہلاک کر دیا۔

ناتھورام گوڈسے کو فوراً ہی گرفتار کر لیا گیا۔ وہ ایک ’انتہا پسند‘ صحافی تھے اور گاندھی کے ان اقدامات کو شدید ناپسند کرتے تھے جو وہ مسلمانوں کی حمایت کے لیے کیا کرتے تھے۔

گاندھی کے قتل کے فوراً بعد افواہ اڑ گئی کہ انھیں کسی مسلمان نے ہلاک کیا ہے۔ اس افواہ کے بعد دہلی اور ممبئی میں فسادات پھوٹ پڑے مگر جب صحیح صورتحال کا علم ہوا تو یہ فسادات ٹھنڈے پڑ گئے۔

ماؤنٹ بیٹن نے نہرو اور پٹیل کو صلح پر آمادہ کرنے کی کوشش کی، بظاہر دونوں بغل گیر ہوئے، دونوں کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے مگر یہ صلح صفائی بالکل عارضی ثابت ہوئی۔ اگلے ہی دن نہرو کے ایک حامی جے پرکاش نارائن نے الزام عائد کیا کہ گاندھی کے قتل کی ذمہ داری پٹیل پر عائد ہوتی ہے جس میں ایک بم دھماکے کے باوجود وزیر داخلہ کی حیثیت سے گاندھی کی حفاظت کا معقول انتظام نہیں کیا تھا۔

گاندھی کے قتل پر پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس نازک وقت میں انڈین سیاست سے گاندھی کا اٹھ جانا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ امن اور مصالحت کے حامی انھیں ان کی مصالحانہ کوششوں کے سبب ہمیشہ شکر گزاری سے یاد کریں گے۔

بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اس عظیم شخص کی موت سے جو جگہ خالی ہوئی سس کا پورا ہونا بہت مشکل ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17331 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp