محرومی ہمارے رویے کیسے بدلتی ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہماری محرومیاں ہمارے اعصاب پر سوار ہو کر ہماری نظر بندی کر دیتی ہیں۔ بھوکے سے جب پوچھا جاتا ہے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ جواب دیتا ہے چار روٹیاں۔ مالی وسائل کا فقدان ہو یا پھر وقت کی قلت کا سامنا ہو، دونوں صورتوں میں یہ نظر بندی کا باعث بنتا ہے۔ وسائل یا وقت کابحران انسان کے اندر دائیں بائیں اور دور تک دیکھنے کی صلاحیت سلب کر لیتا ہے اور اسے سوائے اپنی محرومی کے اور کچھ نظر نہیں آتا ہے۔

ہم سب کا یہ عمومی تجربہ ہے کہ رمضان المبارک میں ہمارا سارا روزہ افطار کے انتظار میں گزر جاتا ہے۔ یہ اس لیے ہوتا ہے کہ خورونوش سے محرومی ہمارے اندر افطار کے موقع پر لذیذ پکوانوں کی خوشبو دار یاد کو پیوست کر دیتی ہے۔

ہمارے دانشور اکثر عوام الناس کا یہ کہہ کر تمسخر اڑاتے ہیں کہ پاکستان میں تو ایک بریانی کی پلیٹ کسی بھی امیدوار کو ووٹ کا حق دار بنا دیتی ہے۔ جنہیں بریانی سے لطف اندوز ہونے کی طلب ہو اور بریانی کا دیدار کبھی نصیب نہ ہوا ہو تو پھر بریانی کے علاوہ انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا ہے۔

جمہوریت کی فضلیت اور بے لاگ اظہار کی آزادی خواب و خیال کی حاشیہ آرائی بن کر رہ جاتی ہے۔ جسمانی ضروریات جب تشنگی کے آسیب کی لپیٹ میں ہوں تو انسانی روح کے تقاضے پس پشت چلے جاتے ہیں۔ جو نہیں ملا، ساری توجہ کا ارتکاز اس پر ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بھوک مٹانے کے لیے زہر تک گوارا کر لیا جاتا ہے۔ ویسے بھی حضرت انسان کو جو مل جاتا ہے اسے وہ بھول جاتا ہے اور یاد صرف اسے ہی رکھتا ہے جس کا حصول ممکن نہ ہو۔

محرومیاں حضرت انسان کو ردعمل کی نفسیات میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ اس کے اعصابی نظام کو مفلوج کر دیتی ہیں اوراس کے اندر صبر وتحمل کا مادہ بھی ختم ہو جاتا ہے۔ مفلوک الحال شخص کے لیے رائی پہاڑ بن جاتا ہے۔ وہ ہر وقت غصے کی حالت میں رہتا ہے، ذراسی ناپسندیدہ بات پر مرنے مارنے پر تلا رہتا ہے۔ اس کے لیے گھر کا چولہا روشن رکھنا مقصد حیات بن جاتا ہے۔ بیماری اور بے بسی سے اقساط میں مرنا وجود کی سب سے بڑی حقیقت بن جاتا ہے۔

ہمارا سیاسی و معاشی و سماجی نظام استوار ہی ان خطوط پر کیا گیا ہے کہ شاہنیوں کو کرگس بنا دیا جائے۔ غریبوں کو شکم کی آگ ٹھنڈی کرنے کے سوا کچھ نہ سوجھے اور سرمایہ داروں کو اپنے سرمائے میں اضافے کے علاوہ کوئی اور دوسرا خیال نہ آئے۔ کمی مالی وسائل کی ہو یا وقت کی ، انسان کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مسخ کر دیتی ہے۔ اسی طور حرص طاقت کی ہو یا دولت کی ، انسان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتی ہے۔

جو فرد یا قوم اختیار و ارادے کی آزادی حاصل کرنے کی آرزومند ہے اسے روٹی، کپڑا، مکان اور اپنے لیے صحت مند زندگی فراہم کرنے والے اسباب کا حصول یقینی بنانا ہو گا۔ بھکاری افراد و بھکارن اقوام اپنی ان ضروریات کی اسیر ہوتی ہیں جن کی تشفی نہ ہوئی ہو اور ان کی رہائی کے لئے ان ضروریات کی تسکین بنیادی شرط ہے۔

بلند خیالی اور تخیل کی پرواز کو پابند سلاسل کرنے کے لیے انسانوں کو فقدان کا سوچی سمجھی سکیم کے تحت شکار کیا گیا ہے اور جانتے بوجھتے ہوئے انہیں ننانوے کے پھیر میں الجھایا گیا ہے۔ شاید اسی لیے تو منیر نیازی کو ساری ذاتیں اور سارے قبیلے ایک جیسے لگتے ہیں۔

اب کسی میں اگلے وقتوں کی وفا باقی نہیں
سب قبیلے ایک ہیں اب، ساری ذاتیں ایک سی

کسی کو محرومی نے زمین کے ساتھ چپکا دیا ہے اور کوئی چوہا دوڑ میں شامل ہو کر یہ سمجھ رہا ہے کہ وہ نمبر ایک کی پوزیشن حاصل کر کے شرف انسانیت سے فیض یاب ہو جائے گا۔ بھوکا اپنی بھوک کی تسکین سے آگے کچھ سوچنے کی صلاحیت سے محروم ہوتا ہے اور سٹاک ایکسچینج کے کھلاڑی کو اپنے شیئرز کے بھاؤ بڑھانے کے سوا کچھ سوجھتا نہیں ہے۔ دونوں نظر بندی کو تعویز بنا کر اپنے سینے پر سجا لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •