ناروے: دیومالائی خداؤں سے جمہوریت اور مذہبی آزادی تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کا ناروے ایک مضبوط اور مستحکم جمہوری ملک ہے۔ بادشاہت ہے لیکن طاقت عوام کے پاس ہے۔ ناروے کسی کا غلام ہے نہ محتاج۔ نہ ہی اس فیصلے کوئی اور کرتا ہے۔ لیکن ایسا ہمیشہ سے نہیں تھا۔ یہاں تک پہنچنے میں ایک لمبی تگ و دو ہوئی۔ جمہوریت کا یہ سفر صبر آزما تھا۔

1814 میں ناروے نے اپنا آئین بنا تو لیا لیکن آزاد نہیں تھے۔ ڈنمارک یا سویڈن کے بادشاہوں کے تابع تھے۔ اہل ناروے نے طے کیا کہ ناروے کی ریاست کی بنیاد ان تین اصولوں پر رکھی جائے۔ (1) اختیارات کی تقسیم (2) جمہوریت (3) انسانی حقوق۔ ناروے میں جو بھی لوگ رہتے ہیں خواہ ان کا تعلق کہیں سے بھی ہو ان سب کے حقوق برابر ہوں۔

1905ء میں ناروے پوری طرح آزاد اور خودمختار ہو گیا۔ 7 جون 1905 کو قومی اسمبلی میں اس کا باقاعدہ اعلان ہوا۔ لیکن ناروے نے اپنا قومی دن 7 جون 1905 کے بجائے 17 مئی 1814 کو منتخب کیا جب انہوں نے اپنا دستور تشکیل دیا تھا۔ ناروے کی بنیاد جمہوری خطوط پر تھی دستور کے مطابق ریاست کے اختیارات پارلیمان، کابینہ اور سپریم عدالت کے بیچ تقسیم پائے۔ بادشاہت علامتی ہے اور اس کا پارلیمان سے کچھ لینا دینا نہیں۔

بادشاہت اور جمہوریت کچھ الگ الگ چیزیں لگتی ہیں۔ کیونکہ عام تصور ایک مطلق العنان بادشاہ کا آتا ہے۔ یورپ کے کئی ملکوں میں بادشاہت ہے اور عرب ممالک میں بھی ہے لیکن دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ عرب ملکوں کے شاہ پورے اختیارات رکھتے ہیں۔ وہ جو چاہیں وہی قانون بن جاتا ہے۔ بحث اور سوال اٹھانے کی اجازت نہیں۔ اس کے برعکس یورپ کے بادشاہ سیاست اور ریاست کے کاموں سے خود کو الگ رکھتے ہیں۔

چونکہ بادشاہ ایک علامتی سربراہ ہیں اس لیے کابینہ کی بادشاہ سے اس کے محل میں ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ جہاں انہیں ملک کی تازہ سیاسی صورت حال سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون بنتا ہے تو اس پر بادشاہ کے دستخط ضروری سمجھے جاتے ہیں۔ اگر بادشاہ اس پر دستخط کرنے سے انکار کر دے تو اسے دوبارہ اسمبلی میں بحث کے لیے بھیجا جاتا ہے اور بادشاہ دوبارہ بھی انکار کر دے تو اس کے باوجود قانون پاس ہو جاتا ہے۔

ناروے ایک نمائندہ جمہوریت ہے۔ عوام اپنے حلقوں سے ووٹ کے ذریعہ اپنے نمائندے چن کر اسمبلی میں بھیجتے ہیں۔ قومی، صوبائی اور بلدیاتی انتخابات ہر چار سال بعد ہوتے ہیں۔ قومی اور صوبائی انتخابات کے بعد دو سال بعد بلدیاتی انتخابات ہوتے ہیں۔ یعنی ہر دو سال بعد ناروے میں الیکشن کا موسم آ جاتا ہے۔

ناروے میں دائیں اور بائیں بازو کی متعدد سیاسی پارٹیاں ہیں۔ کمیونسٹ پارٹی بھی ہے اور مذہبی پارٹیاں بھی ہیں۔ لیبر پارٹی ایک عرصے تک ملک کی سب سے بڑی جماعت رہی۔ ان دنوں کنزرویٹو پارٹی کی حکومت ہے۔ وزیر اعظم خاتون ہیں، آرنا سولبرگ اور یہ ان کی دوسری ٹرم ہے۔

قومی اسمبلی میں ملک کے منتخب نمائندے قانون سازی کرتے ہیں۔ بحث ہوتی ہے۔ سوال جواب ہوتے ہیں۔ حزب اختلاف حکومت پر تنقید بھی کرتی ہے لیکن ملکی مفاد میں سب ایک ہوتے ہیں۔ اپنی ہی پارٹی سے اختلاف رائے بھی رکھ سکتے ہیں اور مخالف پارٹی سے متفق بھی۔

ناروے کا وزیر اعظم کوئی بھی بن سکتا ہے۔ چاہے کوئی بھی پس منظر ہو۔ کسی بھی مذہب، فرقے یا سوچ کے حامی ہوں۔ ناروے میں سیاسی بیداری ہے۔ لوگ کسی نہ کسی سیاسی جماعت کے ممبر ہیں یا کم سے کم ان کے حامی ضرور ہیں۔ کھل کر بات کرتے ہیں اور کڑی تنقید بھی کرتے ہیں۔

ناروے ایک جمہوری، فلاحی اور سیکیولر ملک ہے۔ مذہب ریاست کے معاملات داخل نہیں دیتا اور ریاست کسی کے مذہبی عقائد میں دخل نہیں دیتی۔ ناروے کا کوئی سرکاری مذہب نہیں۔ گو کہ اکثریت مسیحی ہیں۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد یعنی ستر فیصد لوتھر پروٹسٹنٹ ناروے کے چرچ سے وابستہ ہیں۔ کیتھولک فرقے کے چالیس ہزار سے اوپر لوگ ہیں۔ لیکن مزاجاً نارویجین لوگ مذہبی نہیں ہیں۔ چرچ بھی پابندی سے نہیں جاتے۔ بس شادی، مرگ، بیپتسمہ، کرسمس اور ایسٹر کے موقعوں پر چرچ جاتے ہیں۔

ناروے میں مسیحیت کی ابتدا ہزارویں صدی سے ہوئی اور سن 1500 تک آبادی کا بڑا حصہ اسے اپنا چکا تھا۔ مسیحیت سے پہلے ناروے کے وائیکنگز کے زمانے میں ان کا اپنا ایک مذہب تھا۔ دیومالائی دیوی اور دیوتا تھے۔

قدیمی معاشروں میں جب کسی آسمانی مذہب کا وجود نہیں تھا لوگ کسی نہ کسی طاقت کو پوجنا شروع کر دیتے تھے۔ کچھ نظر آنے والی چیزیں جیسے کہ سورج، چاند ستارے اور کچھ غیر مرئی قوتیں ان کے خدا بن جاتے تھے۔ اسکینڈے نیویا میں بھی نوشک میتھالوجی کا وجود بھرپور طریقے سے رہا۔ خیالی دیوی دیوتا بنا لیے گئے اور ان کی پرستش بھی کی گئی۔ نظر نہ آنے والی طاقتوں کو پوجنا ایک طرح سے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کے جواب دینے کی کوشش ہے کہ یہ دنیا کیسے چل رہی ہے اور کس کے قابو میں ہے۔ دیومالائی کردار بنائے گئے اور کہانیاں گھڑی گیں۔ ان خداؤں کی بہادری، طاقت۔ ذہانت، حسن اور کرشمہ سازی کے نغمے بھی گائے گئے۔

یہ اس دیومالائی داستان کا سب سے طاقتور اور سب سے ذہین دیوتا اوڈین ہے اور جنگجو طبیعت والے وائیکنگز اس خدا کی دل و جان سے پرستش کرتے تھے۔ یہ بلا شرکت غیرے دنیا کا مالک سمجھا جاتا ہے۔ آسمانی بجلیوں کا دیوتا تھور تھا۔ یہ طاقور بھی تھا اور مقبول بھی۔ اس کے ہاتھ میں ا یک ہتھوڑا رہتا ہے اور اس کا ہتھوڑا بھی اسی کی طرح مشہور ہے۔ بالدر تھور کا سوتیلا بھائی تھا۔ روشنی اور پاکیزگی کا دیوتا۔ وہ ہر ایک کو نوازتا تھا اور ایک دن اپنے جڑواں بھائی ہودر کے ہاتھوں ہلاک ہو جاتا ہے۔ لوکی ایک ایسا دیوتا تھا جو طاقتور نہیں تھا لیکن اپنی چالبازی اور چالاکی کی وجہ سے طاقتور ہو گیا۔ خاص طور پر جب اس کے بچھائے جال میں پھنس کر بالدر ہلاک ہوا تو لوکی ایک طاقتور دیوتا بن گیا۔ تائر جنگ و جدل کا دیوتا ہے اور اپنی بہادری کی وجہ سے مشہور بھی ہے اور پسندیدہ بھی۔ اس نے کئی جنگیں لڑیں۔ ایک جنگ میں اس نے اپنا ایک ہاتھ گنوا دیا اور بعد میں دوسرا بھی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ لوکی کا بھائی تھا۔ محبت اور حسن کی دیوی فرویا تھی۔ اس کے علاوہ اولاد بخشنے کا کام بھی کرتی تھی۔ ایلی بڑھاپے کی دیوی سمجھی جاتی تھی لیکن اس کی طاقت بے مثال تھی۔

کرسچینیٹی کے بعد ناروے میں اسلام دوسرا بڑا مذہب ہے۔ اس وقت ملک کی بایئس فیصد آبادی مسلم ہے۔ اس کے بعد بدھ مت ہے جو تین فیصد ہے۔ ہندو دو فیصد سے بھی کم اور سکھ اعشاریہ چھے فیصد۔ یہودی مذہب کے کل ملا کے تقریباً ڈیڑھ ہزار لوگ ہیں۔ اس وقت پورے ناروے میں 219 مساجد ہیں۔ صرف اوسلو میں سترہ مساجد ہیں۔ یعنی ہر فرقے ہر مسلک کی مسجد موجود ہے۔

ہندوؤں کے مندر، سکھوں کے گردوارے، بدھ مت کا ٹمپل اور یہودیوں کا سناگوگ بھی ہے۔ ایک عبادت گاہ احمدیوں کی بھی ہے۔ سب کو اپنے اپنے مذہب اور عقیدے کا اختیار ہے۔ اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی ہے۔ ہر مذہب کی عبادت گاہ کا تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے اور ریاست کی طرف سے انہیں مالی امداد بھی ملتی ہے۔ ان عبادت گاہوں کو سرکار کی طرف سے فی ممبر چار سو تراسی کرون ادا کیے جاتے ہیں۔

مذاہب کو ماننے والوں کے ساتھ ساتھ مذہب کو یکسر رد کرنے والے بھی ہیں۔ خدا کو نہ ماننے والوں کی ایک بڑی تعداد ملک میں موجود ہے اور اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال اس سوال پر کہ کیا آپ خدا کو مانتے ہیں؟ ایک سروے کیا جاتا ہے اور حالیہ سروے کے مطابق پہلی بار ایسا ہوا کہ خدا کو ماننے والوں سے خدا کو نہ ماننے والوں کی تعداد زیادہ ہو گئی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •