مودی سرکار سے اقلیتوں کو شکایت کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

زمام اقتدار سنبھالتے ہی مودی سرکار اپنی منافرانہ پالیسیوں کی وجہ سے کر بدنام رہی ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ سرکار کی ہر حکمت عملی نفرت آمیز سیاست کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اکثریتی طبقے کے دل و دماغ میں اس قدر نفرت کا زہر بھر دیا گیا ہے کہ اب سرکار کو اپنی ہر پالیسی میں اس زہر کا ہلکا سا ڈوز ضرور شامل کرنا پڑ رہا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ اب نفرت آمیز سیاست سرکار کی مجبوری بن گئی ہے۔

گزشتہ پچاس سالوں میں نفرت کا جو بیج بویا گیا تھا ، اب اس کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ اس فصل کی کٹائی سے اقلیتی طبقے کو کتنا خسارہ ہوا ہے اس کا اندازہ تو کیا جاسکتا ہے مگر ملک کی سالمیت اور جمہوریت کو کتنا نقصان پہنچا، اس کا اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔

سی۔ اے۔ اے۔ اور این۔ آر۔ سی۔ کا نفاذ ملک کے اقلیتی طبقے کو ہدف بنا کر کیا گیا تھا۔ اکثریتی طبقے پر یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ یہ دونوں قوانین ملک کی سرحدوں میں دراندازی کرنے والے مسلمانوں اور ہندوستان میں غیر آئینی طور پر بسنے والے افراد کے خلاف ہیں۔ لہٰذا جس وقت ان قوانین کے خلاف احتجاج کے لئے مسلمان سڑکوں پر اترے ، اس وقت اکثریتی طبقہ سرکار کی حمایت میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔

مگر وہ دانشور طبقہ جو سرکار کی نیت سے اچھی طرح واقف تھا اور جمہوری و آئینی نظام سے کھلواڑ کو دیکھ اور سمجھ رہا تھا، اس نے سرکار کی غیر آئینی اور آمرانہ پالیسیوں کی سخت مذمت کی اور اس کے خلاف پر زور احتجاج کیا۔ سرکار کو یہ لگ رہا تھا کہ انہوں نے ملک کے تمام ہندوؤں کو نفرت کا زہر پلا دیا ہے اور اب انہیں کسی تریاق کی امید نہیں ہے مگر یہ دانشور طبقہ جو ہندو سماج کے درمیان ہی زندگی گزارتا ہے، تریاق بن کر سامنے آیا اور اس زہر کے اثر کو کم کرنے کی کوشش کی۔

ظاہر ہے گزشتہ پچاس برسوں سے دیے جا رہے ’سلوپوئزین‘ کے اثر کو اچانک ختم نہیں کیا جا سکتا مگر کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ آج صورت حال ہے یہ کہ جب ملک کا کسان اپنے حقوق کی بازیابی اور تحفظ کے لئے سڑکوں پر ہے، سرکار اپنے آلۂ کاروں کے ذریعہ انہیں بھی بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نفرت کے زہر کی وہی پرانی بوتل ایک بار پھر نکالی گئی اور سماج میں زہر پھیلادیا گیا۔ کسانوں کو ’خالصتانی‘ کہا جا رہا ہے، انہیں پاکستان نواز اور ملک دشمن قرار دیا جا رہا ہے۔

افسوس یہ ہے کہ ملک کے اکثریتی طبقے کا بڑا حصہ سرکار کی اس سازش کا شکار ہو چکا ہے اور وہ کسانوں کو ملک اور آئین کا دشمن سمجھ رہا ہے۔ آج ہر اس فرد اور مذہب و مسلک کو ملک کا دشمن قرار دیا جا رہا ہے جو سرکار کی غلط پالیسیوں اور نفرت آمیز سیاست کے خلاف ہے۔ ملک کا سچا وفادار وہ ہے جو بی جے پی اور آر ایس ایس کا حامی و ناصر ہو۔

حال ہی میں اترپردیش کی یوگی حکومت نے نام نہاد ’لوجہاد‘ کو  لے کر قانون سازی کی ہے جس میں بین المذاہب شادیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس قانون کی آڑ میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے اورچمسلم نوجوانوں کے ساتھ پولیس بربریت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ انتظامیہ کی ذہن سازی اقلیتی طبقے کے خلاف کی جاری ہے اور آج عالم یہ ہے کہ پولیس اقلیتی طبقے کے خلاف غیر آئینی امور انجام دے رہی ہے جس کے شواہد موجود ہیں۔

اترپردیش کے علاوہ دیگر کئی ریاستوں میں ’لوجہاد‘ کے خلاف قانون سازی عمل میں آئی ہے جس کا واحد مقصد اقلیتوں کو ہراساں کرنا ہے۔ ورنہ ’لوجہاد‘ کی زمینی حقیقت سے ملک کی حفاظتی سرکاری ایجنسیاں انکار کر چکی ہیں ، اس کے باوجود اس قانون کا عمل میں لانا اس بات کی دلیل ہے کہ سرکار ملک کی حفاظتی ایجنسیوں کی رپوٹ کو قابل اعتبار نہیں سمجھتی۔ اس قانون سازی کا ہدف بھی اکثریتی طبقے کے بڑے حلقے کو خوش کرنا ہے ۔

ملک کا بڑا حلقہ یہ سمجھتا ہے کہ مسلمان ’لو جہاد‘ کو فروغ دے رہے ہیں اور ہندو لڑکیوں کو عشق کے جال میں پھنسا کر شادیاں کرتے ہیں اور پھر ان کا مذہب تبدیل کروا دیا جاتا ہے ۔ حالانکہ ہندوستان میں بین المذاہب شادیوں کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ سیکڑوں سال سے ایسا ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ضروری نہیں کہ یہ سلسلہ ختم ہو۔

ہندو مسلمان لڑکیوں سے شادی کرتے رہے ہیں اور مسلمان ہندو لڑکیوں سے۔ مگر کبھی ’لو جہاد‘ کی بات سامنے نہیں آئی بلکہ بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے پہلے کوئی اس اصطلاح سے واقف بھی نہیں تھا۔ آج اس فرضی اصطلاح کو قانونی حیثیت دے دی گئی ہے جو ملک کے عوام کے ساتھ فریب اور جعل سازی ہے۔

جمہوری نظام میں انسان اپنی پسند کی شادی کے لئے آزاد ہے مگر ہمارا جمہوری نظام یرقانی تنظیموں کے نفرت آمیز آئین کی زد پر ہے جس میں اقلیتی طبقے کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔ یہ نظام برہمن واد کو فروغ دے رہا ہے اور اکثریتی طبقے کو گمراہ کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

نفرت کا یہ کھیل اتنا فروغ پا رہا ہے کہ اب بی جے پی سرکار نے مدارس کے وجود کو ختم کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے۔ آسام میں سرکاری مدارس زد پر ہیں اور انہیں تمام تر مراعات سے محروم کرنے کی تیاری ہے۔ ہمارا موقف تو یہ ہے کہ مدارس کو سرکار سے کوئی کمک نہیں لینی چاہیے۔ جب سے ہمارے مدارس کے نظام میں سرکار دخیل ہوئی ہے ، مدارس رو بہ زوال ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ مدارس کی اصلی حیثیت ختم ہو گئی ہے۔

مدارس کے موروثی ذمہ داران نے مدارس کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے سرکار کے حوالے کر دیا تاکہ ان کے اہل خاندان اور رشتے داروں کو سرکاری نوکریاں مل سکیں۔ مگر انہوں نے کبھی یہ فکر نہیں کی کہ مدارس جو ملت کا سرمایہ ہیں، ان کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا۔

آج عالم یہ ہے کہ مدارس کا نظام درہم برہم ہے اور سرکار ان کے وجود کو ختم کرنے کے لئے قانون سازی کرنے جا رہی ہے۔ یوگی حکومت بھی ایک آرڈیننس لانے کی تیاری میں ہے جس کے مطابق مذہبی و ذاتی زمینوں پر جو مذہبی عمارتیں تعمیر ہوئی ہیں ان پر کنٹرول کیا جا سکے۔ اس آرڈیننس کا اطلاق تمام مذہبی عمارتوں پر ہو گا جن میں مساجد، مدارس، امام بارگاہیں، درگاہیں اور خانقاہیں شامل ہیں۔

اس آرڈیننس کی آڑ میں مذہبی عمارتوں کے معاملات میں کس حدتک مداخلت کی جا سکتی ہے ، اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، مگر ہماری مذہبی قیادت کی بے حسی اور مسلم لیڈوں کی بے ضمیری کا عالم یہ ہے کہ وہ خواب خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ وہ شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن ڈال کر خود محفوظ سمجھ رہے ہیں، جبکہ شکاری ان کے سروں پر مسلط ہے اور کبھی بھی ان کی گردن قلم ہو سکتی ہے۔

نفرت کی اس سیاست کا دائرہ بہت وسیع ہے جو اب خوردنی اشیاء کو بھی اپنے دائرے میں سمیٹ رہا ہے۔ گائے کے تحفظ کے نام پر کس قدر اقلیتی طبقے کو ہراساں کیا گیا اور ان کے جوانوں کو کس طرح بے دریغ قتل کیا گیا، یہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔

اب مسلمانوں کے اقتصادی نظام کو بھی نقصان پہنچانے کی تیاری ہے۔ سال 2018ء میں مشرقی دہلی کی میونسپل کارپوریشن نے یہ فیصلہ لیا تھا کہ تمام گوشت فروخت کرنے والی دکانیں اور ریستوراں نمایاں طور پر گاہکوں کو یہ بتائیں کہ وہ کس قسم کا گوشت فروخت کر رہے ہیں۔

حال ہی میں جنوبی دہلی کی میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی نے بھی یہ تجویز پاس کر دی جس کے مطابق ہر گوشت فروش کو نمایاں تحریر کے ذریعہ گاہکوں کو یہ بتلانا ہو گا کہ گوشت حلال ہے یا جھٹکا۔ ان کے مطابق ہندو اور سکھ ذبیحہ کا گوشت نہیں کھاتے لہٰذا گوشت فروشوں کو گاہکوں کے لیے اطلاعیہ تحریر کرنے کی ضرورت ہے۔

اس تجویز کے نقصانات اور اہداف پر پھر کبھی لکھا جائے گا لیکن کم از کم یہ حقیقت تو معلوم ہو گئی کہ ہندوؤں کا بڑا طبقہ گوشت خور ہے۔ اب سرکاری تنظیموں کو یہ بھی بتا دینا چاہیے کہ ملک میں کتنے فیصد غیر مسلم آبادی بیف کھانے میں دلچسپی رکھتی ہے۔ یہ انسان کی پسند و ناپسند پر منحصر ہے جس میں سرکار کی بے جا مداخلت آئین مخالف ہے۔

بہر کیف، ہندوستان کی سیاست نفرت اور تقسیم پر منحصر ہو گئی ہے۔ اجتماعی اور انفرادی زندگی میں مداخلت کی جا رہی ہے۔ آزادی اظہار پر قدغن ہے اور مذہبی عبادت گاہوں اور عمارتوں کو بھی سرکار اپنے کنٹرول میں لینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے بعد بھی اگر کہیں سے سرکار کے خلاف آواز اٹھتی ہے تو اس پر ’دیش دروہ‘ کا الزام عائد کر کے دبا دیا جاتا ہے ۔

کیا یہی جمہوری نظام ہے جس پر ہمیں فخر ہے؟ ہر گز نہیں! تو پھر سرکار یہ اعلان کیوں نہیں کرتی کہ ملک میں جمہوری نظام ختم کر کے بی جے پی اور آر ایس ایس کے آئین کو نافذ کیا جا رہا ہے۔ آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کئی بار اس کی طرف اشارہ کر چکے ہیں ،  اب انہیں کھل کر اس حقیقت کا اظہار کر دینا چاہیے تاکہ جو شک رہ گیا ہے ، وہ بھی ختم ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •