امن و سلامتی اور بین المذاہب ہم آہنگی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگرچہ ابتدائی انسان کی ذہنی سطح بلوغت کے اس اعلیٰ معیار پر نہ تھی جو کسی بھی مہذب انسانی معاشرے کی ضرورت ہوتی ہے مگر تاریخ کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ معاشرے میں امن و سکون قائم رکھنے کے لیے قدیم ا دوار کے انسانوں میں بھی قانون اور ضابطے کی اہمیت کا احساس ضرور موجود تھا کیونکہ معاشرے کے تمام لوگ پرامن اور موافق ماحول میں رہتے ہوئے ذاتی اور اجتماعی زندگی میں قانون کی بالادستی، عدل و انصاف اور بھائی چارے کا فروغ چاہتے تھے دراصل اس بہتری والے عمل میں ہی بنی نوع انسان کی دائمی بقا پوشیدہ ہے۔

دنیا کے مذاہب کا مطالعہ کرنے سے بھی ہمارے علم میں آتا ہے کہ دنیا کے تمام مذاہب نے معاشرے میں رہنے کے لیے کچھ اصول بنائے اور افراد کو آپس میں پیار اور محبت سے رہنے کا درس دیا ہے۔ ہر مذہب نے بنی نوع انسان کو بتایا کہ زندگی کا اصل مقصد دوسروں کو سہولیات فراہم کرنا اوران کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ جب ہم اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ یہ تو ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اس کی بنیاد میں ہی تمام انسانوں سے محبت کا عنصر شامل ہے۔

مختلف ادوار میں خدائی دین کے لاکھوں پیامبر مشکل حالات میں بھی زمین پر بسنے والے انسانوں کو پیار کا درس دیتے رہے اور اپنی شریعت کے مطابق رسم و رواج کی تشریح لوگوں تک پہنچاتے رہے۔ ان اسلامی تعلیمات میں فرقے، نسل، رنگ، جنس، علاقے اور عقیدے کی کوئی قید نہیں تھی۔ ان کی تعلیمات میں تمام انسانوں کے احترام کو اعلیٰ خدمت اور دوسرے انسانوں کی خدمت کو اعلیٰ عبادت قرار دیا گیا۔ ان کا یہ پیغام سب بنی نوع انسان کے لیے تھا۔

مہذب معاشروں نے انبیاء کی ان اخلاقی تعلیمات کو اپنی زندگیوں میں شامل کر لیا اور یوں وہ سرخرو ہو گئے جبکہ جن لوگوں اور معاشروں نے اخلاقی و مذہبی تعلیمات سے روگردانی کی وہ نتیجے میں مختلف معاشرتی بیماریوں، غیر مناسب انسانی رویوں، عدل و انصاف کے غیر متوازن نظام، پھیکے کرداروں، باہمی انتشار اور فساد کا شکار ہو گئے۔ بد قسمتی سے پاکستان بھی ان معاشروں میں سے ایک ہے جہاں رویوں کے عدم توازن کی وجہ سے عدم تحفظ اور عدم برداشت کا عنصر سرایت کر چکا ہے۔

ہمارے نظام تعلیم میں صرف ڈگریاں بانٹی جا رہی ہیں اور تربیت کا عنصر بالکل غائب ہے بلکہ یوں کہیں کہ تعلیم و تربیت کی اصل روح کا فقدان ہے دوسری طرف ہمارے انصاف کے اداروں میں اتنی سکت نہیں کہ وہ جرائم کا مکمل خاتمہ کر سکیں جبکہ مذہبی ادارے بھی بد قسمتی سے معاشرے کے آلودہ ماحول سے متاثر ہونے کی وجہ سے اپنا مؤثر کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ دشمن قوتوں کے لیے ایسے حالات ہمیشہ اچھے اور سازگار ہوتے ہیں چنانچہ اس ابتر صورتحال سے فائدہ اٹھانے کے لیے مفاد پرست سیاسی، مذہبی اور ادبی ٹولے مختلف لسانی، علاقائی اور مذہبی بنیادوں پر اپنا کھیل کھیلنے کو تیار بیٹھے ہیں۔

بد قسمتی سے ہمارا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا بھی کھل کر ان لوگوں کو بے نقاب کرنے سے قاصر ہے کیونکہ دشمن قوتوں کے اکثر آلہ کاروں کا میڈیا سے کسی نہ کسی حوالے سے تعلق ہے۔ اس مفاد پرست اور ملک دشمن ٹولے نے پچھلے کچھ عرصے سے عوام کو اپنے لچھے دار اور مصالحہ دار معاشرتی، لسانی، علاقائی اور مذہبی نعروں کے ذریعے سے ورغلانے کی کوشش تیز کر رکھی ہے جس کے نتیجے میں بے شمار بم دھماکوں میں پاکستان کے معصوم لوگ نے خودکش بمبار کی حیثیت سے ان ظالموں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہوئے انجانے میں اپنی جانیں گنوائیں اور ان سفاکانہ کارروائیوں کے نتیجے میں ہزاروں بے گناہ افراد بھی شہید ہوچکے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ اس دہشت، خوف اور بے یقینی کی کیفیت سے کیسے نکلا جائے؟ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک میں بسنے والے تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جائے اور انہیں عوام الناس کو امن اور بھائی چارے کا پیغام دے کرایک آواز بنانے کا فرض سونپا جائے۔ تمام قومیتوں اورمسالک کو امن کا پیامبر بن کر اپنے مکتبہ فکر اور قومیت میں امن کا پیغام پھیلانے کے ساتھ ساتھ برداشت کے رویے کو معاشرے میں عام کرنا ہوگا۔

یہ وقت کی ضرورت ہے کہ دوسرے مذاہب کا احترام کیا جائے تاکہ سب لوگ ایک محفوظ اور پرامن معاشرے کے اندر اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے خوشحالی والی زندگی گزار سکیں اس کے علاوہ تعلیمی نصاب میں بھی ایسا مواد شامل کرنا ضروری ہے جو لوگوں کے اندرایک دوسروں کے لیے محبت کے جذبات کو بیدار کرے اور عوام کے شعور کو مزید جلا بخشے۔ عوامی حلقوں کو باقاعدہ مہم چلا کر بین المذاہب ہم آہنگی کو تعلیمی نصاب کا باقاعدہ حصہ بنانا ہو گا۔

ہمیں پرائیویٹ سیکٹر میں بھی ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو بین المذہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کام کریں اس کے علاوہ عوام میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہو گا تاکہ معاشرہ صحت مند اذہان پر مشتمل ہو۔ حکومتی سرپرستی میں عوام کے شعور کو بیدار کرنے کے لیے عوامی کارنر میٹنگز اور ورکشاپس کا بھی اہتمام کیا جانا چاہیے۔ سب پاکستانیوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ نبی اکرم ﷺ دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کا بے حد احترام کرتے تھے اور اسلام کے فروغ میں تلوار سے زیادہ اعلیٰ اخلاق، درگزر اور برداشت جیسے بنیادی رویوں کا اہم کردار رہا ہے۔

یہ بات خوش آئند ہے کہ پاکستانی لوگ اب اس بات کو محسوس کرتے ہیں کہ مخالفت برائے مخالفت اچھی بات نہیں ہے بلکہ شرپسند عناصر کی سرکوبی کرتے ہوئے ایسے رویوں کو فروغ دینا ضروری ہے جن سے باہمی عدم برداشت کے رویے میں واضح کمی ہو اور تمام مکاتب فکر اپنی سیاسی، سماجی، ثقافتی، مذہبی اور معاشرتی سرگرمیاں آزادی اور آسانی سے ادا کر سکیں۔ ہمارا پیار، اتفاق، محبت اور یگانگت اس ارض پاک کو حقیقی معنی میں ایک جنت بنا سکتا ہے۔ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ اگر معاشرہ پرامن ہے تو ترقی بھی ہوگی اور خوشحالی بھی ہو گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •