کیا قبائلی اضلاع میں پولیس کی تعیناتی سے قیامِ امن کا ہدف حاصل ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

خیبر پختونخوا کی پولیس کے انسپکٹر جنرل (آئی جی) ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے قبائلی علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نہ صرف ملک کے امن و امان پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ بلکہ قبائلی اضلاع کے عوام کو بنیادی آئینی و قانونی حقوق میسر آ رہے ہیں۔

پشاور پریس کلب میں صحافیوں سے گفتگو میں آئی جی ڈاکٹر ثنا اللہ عباسی نے کہا کہ انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں امان و امان قائم رکھنے کی ذمہ داریاں اب خیبر پختونخوا پولیس کی ہے۔ تمام اضلاع میں پولیس کے نظام کو وسعت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کی تعنیاتی کا عمل ابھی بی جاری ہے۔ ان علاقوں میں پولیس مکمل طور پر با اختیار ہے۔ فورس کی استعدادِ کار بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

پولیس میں بھرتیوں سے متعلق انہوں نے کہا کہ باجوڑ میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔ جب کہ دیگر اضلاع میں یہ سلسلہ جاری ہے۔

صوبے کی پولیس کے سربراہ نے کہا کہ پہلی بار تمام قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والے لگ بھگ سات ہزار نوجوانوں نے پولیس میں بھرتی کے لیے درخواستیں دی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے قبائلی عوام میں شعور اُجاگر ہوا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اُن کا کہنا تھا کہ سوات میں فوجی کارروائی کے نتیجے میں عسکریت پسند افغانستان فرار ہوئے تھے۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر خاردار تار بچھانے کا کام مکمل ہونے کے قریب ہے۔ اس سے دہشت گردوں کے پاکستان میں داخل ہونے کے امکانات معدوم ہوگئے ہیں۔ جب کہ دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے رجحان میں بھی کمی آئے گی۔

پشتون قبائل کی قدیم روایت 'جرگے' کا مستقبل

ثنا اللہ عباسی کا کہنا تھا کہ پولیس کو فراہم کردہ سہولیات کم ہیں۔ مختلف اضلاع میں پولیس تھانے عارضی عمارتوں میں قائم ہیں۔ البتہ بیشتر تھانوں اور چوکیوں کی تعمیر کا کام جاری ہے۔

خیال رہے کہ قبائلی علاقوں میں برطانوی دور سے قیام امن کے لیے خاصہ دار اور لیویز فورس کا نظام قائم تھا۔ 2019 میں ان علاقوں کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے بعد خاصہ دار اور لیویز فورس کے لگ بھگ 28 ہزار اہلکاروں کو پولیس فورس کا حصہ بنا دیا گیا۔

اس حوالے سے آئی جی کا کہنا تھا کہ ان اہلکاروں کو ان کے تعلیمی کوائف کے مطابق پولیس میں عہدے اور فرائض سونپے گئے ہیں۔ جب کہ ان کی اکثریت کو بھی مختلف سطح پر تربیت دی گئی ہے جس سے اب یہ اہلکار بخوبی پولیس میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ثنا اللہ عباسی کے بقول قبائلی علاقوں کی تاریخ میں پہلی بار غیرت کے نام پر دو خواتین کے قتل میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان ملزمان کا تعلق جنوبی وزیرستان سے تھا۔

دوسری جانب پشتون تحفظ تحریک (پی ٹی ایم) کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رکن محسن داوڑ خیبر پختونخوا کی پولیس کے آئی جی کے مؤقف سے اختلاف کرتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو میں محسن داوڑ کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں میں اب بھی فوج کی عمل داری ہے۔ دہشت گردی، تشدد اور گھات لگا کر قتل کی وارداتیں تواتر سے ہو رہی ہیں۔

رکنِ قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ تشدد کے کسی بھی واقعے میں پولیس نے کبھی کسی کو گرفتار نہیں کیا۔ قبائلی اضلاع میں پولیس کے نظام کے بارے میں کیے جانے والے دعوؤں میں صداقت نہیں ہے۔

قبائلی عوام حکومت کے وعدے پورے ہونے کے منتظر

اس حوالے حوالے سے سابق انسپکٹر جنرل (آئی جی) پولیس اور سابق صوبائی سیکریٹری داخلہ سید اختر علی شاہ کا کہنا ہے کہ سرکاری دستاویزات اور قانونی عمل کے تحت تو آئی جی پولیس کے مؤقف کی حمایت کی جا سکتی ہے۔ مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

ان کے بقول قبائلی اضلاع میں اب بھی زیادہ تر اختیارات فوج اور فرنٹیئر کور (ایف سی) ہی کے پاس ہیں۔

سید اختر علی شاہ نے کہا کہ مختلف عسکریت پسند تنظیموں کی قیادت اب بھی قبائلی اضلاع میں موجود ہے۔ جب تک یہ عسکریت پسند تنظیمیں موجود ہیں۔ تو قبائلی علاقوں میں امن و امان کے بارے میں حکومتی دعوؤں میں رد و بدل ایک جاری عمل ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 945 posts and counting.See all posts by voa