بنگال کا نقشہ ہے، دل زار کا گھاؤ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"\"آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوتے ہی بیشتر بنگالی رہنما روپوش ہو گئے۔ صدیق سالک نے جب اگلے روز یونیورسٹی کا دورہ کیا تو وہاں گولہ باری کے باعث زمین میں شگاف پڑ چکے تھے۔ 25 مارچ کو چٹاگانگ کی بندرگاہ پر بنگالی عوام نے ایک جہاز سے پاکستانی فوج کے لئے آنے والے اسلحے کو اترنے سے روکنے کی کوشش کی اور فوج کی جانب سے جوابی کارروائی میں پندرہ افراد مارے گئے۔ 27مارچ 1971ء کے دن میجر ضیاء نے کلور گھاٹ میں قائم کردہ عارضی ریڈیو سٹیشن سے عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش کے قیام کا اعلان کیا۔ تین دن بعد پاک فضائیہ نے وہ سٹیشن بمباری کر کے تباہ کر دیا۔ مگر ایک آواز کو ملیا میٹ کر دینے سے خاموشی طاری نہیں ہوئی۔ علیحدگی کے نعرے کرفیو زدہ سڑکوں پر سائیں سائیں کرتے چکرا رہے تھے اور ایک جنگ کی پھنکار سے لوگ چونکنے لگے۔

مشرقی پاکستان کے تنازعے سے متعلق مباحث میں امریکی کردار ہمیشہ متنازع رہا ہے۔ بلڈ ٹیلی گرام اور اس پر امریکی انتظامیہ کا ردِعمل یہ سُجھانے کے لیے کافی ہے کہ امریکہ اپنے اثرورسوخ کا استعمال محض اپنے مفادات کے لیے کرتا ہے۔ 6 اپریل 1971ء کے روز امریکی قونصل خانے کے افسر آرچر بلڈ (Archer Blood) اور دیگر اہلکاروں نے ایک ٹیلی گرام امریکہ بھیجا جسے تاریخ میں Blood Telegram کہا جاتا ہے۔ برصغیر میں امریکی خارجہ پالیسی کی سمت ان دنوں خارجہ امور کے مشیر ہنری کسنجر طے کر رہے تھے۔ چین میں ماؤ کے ’انقلاب‘ کے بعد چین اور امریکہ مخالف نظریاتی قطبین پر مقیم تھے۔ 60 کی \"\"دہائی میں روس اور چین کے مابین اختلافات پیدا ہوئے تو امریکہ نے فیصلہ کیا کہ چین کو عالمی برادری کا حصہ بنایا جائے اور اس سلسلے میں کسنجر اور امریکی صدر نکسن نے پاکستان کے چین سے روابط کو استعمال کیا۔ کسنجر مری کے راستے بیجنگ جا پہنچے اور بعد ازاں نکسن نے ایک تاریخی دورہ کیا۔ اس دوران پاکستان میں فوجی آمر یحییٰ خان کی حکومت تھی اور امریکی مفاد یہ تھا کہ یہ فوجی حکومت قائم دائم رہے۔

آپریشن سرچ لائٹ کی تفصیلات معلوم ہونے کے باوجود امریکی انتظامیہ کی ڈھٹائی پر آرچر بلڈ سیخ پا ہوئے اور اپنے خیالات کا اظہار واضح

طور پر اس تاریخی ٹیلی گرام میں کیا۔ اس آپریشن سے قبل وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران کسنجر کو مطلع کیا گیا کہ مشرقی پاکستان میں فوج کی موجودگی اور بنگالی قوم پرستانہ جذبات کا نتیجہ خون خرابے کی شکل میں نکلنا یقینی ہے اور اس صورت حال سے بچاؤ کے لئے امریکہ کو یحییٰ حکومت پر اثر انداز ہونا چاہئے۔ کسنجر نے اس مشورے کو در خور اعتناء نہ سمجھا۔ اس بریفنگ کے بعد صدر سے ملاقات میں کسنجر نے نکسن کو مشرقی پاکستان کی صورت حال سے آگاہ کیا لیکن کوئی فیصلہ کن قدم اٹھانے سے باز رہنے کا مشورہ دیا۔ اس ٹیلی گرام کے \"\"الفاظ کچھ یوں تھے: ہماری حکومت نے جمہوریت پر حملے کی مذمت کرنے سے انکار کیا ہے۔ ہماری حکومت نے تشدد کے واقعات کی مذمت کرنے سے انکار کیا ہے۔ ہماری حکومت نے اپنے شہریوں کی حفاظت کی فکر کرنے کی بجائے پاکستانی حکومت کی ناجائز حمایت کی ہے۔ ہم نے اس قضیے سے دور رہنے کا فیصلہ کیا ہے حالانکہ نسل کشی کے واضح ثبوت موجود ہیں۔ ہم، بحیثیت پیشہ ور سفارت کار، اپنے ملک کی اس پالیسی سے صریح اختلاف کا اظہار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ہماری خارجہ پالیسی ترجیحات میں تبدیلی لائی جائے گی۔\”

مارچ اور اپریل میں پاکستانی حکام پرُاعتماد تھے کہ وہ مشرقی پاکستان میں علیحدگی پسندوں کو بزور طاقت کچل دیں گے۔ برگیڈیر صدیقی کے مطابق27 مارچ تک افسران میں سے ہر کوئی آپریشن کی پیش رفت کے متعلق مطمئن تھا۔ اس موقعے پر ہیڈ کوارٹر میں برگیڈیر جیلانی (بعد ازاں ISI کے سربراہ) نے نفسیاتی جنگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: ہمیں بنگالی عوام کے دلوں کو جیتنے کی ضرورت ہے۔ مغرب اور مشرق کی ثقافتی بے گانگی کو ختم کرنا ہو گا۔ بنگالی زبان کو آئندہ سے عربی رسم الخط میں لکھا جائے اور بنگالی ثقافت سے تمام ہندووانہ اثرات کا خاتمہ کرنا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ ڈھاکہ یونیورسٹی جو شہر کے وسط میں واقع ہے (اور اس وجہ سے وہاں ’باغیانہ سرگرمیاں‘ عروج پر رہتی ہیں) کو ڈھاکہ سے آٹھ کلومیٹر دور منتقل کر دیا جائے۔ اس گفتگو کے دوران یہ فیصلہ ہوا کہ آئندہ ریڈیو پر ’رابندرا سنگیت‘ نہیں بجایا جائے گا۔

ایک جانب پاکستانی فوج اور اس کے سویلین آلہ کاروں کے ہاتھوں قتلِ عام جاری تھا تو دوسری جانب بنگالی قوم پرستوں کی جانب سے بھی اپنی محرومیوں کے ازالے کے لیے مشرقی پاکستان میں مقیم غیر بنگالی زیادہ آسان ہدف ثابت ہوئے۔ 13 جون کو برطانیہ کے اخبار The Sunday Times نے نو ہزار الفاظ پر مشتمل مضمون بعنوان ’Genocide‘ چھاپا۔ مضمون نگار کے مطابق بنگالی قوم پرستوں نے چٹا گانگ، جیسور اور کھلنہ میں بیس ہزار سے زائد بہاریوں کو موت کے گھاٹ اتارا جب کہ پاکستانی فوج نے طلبہ، اساتذہ، سیاسی کارکنان اور \"\"ہندوؤں کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ مضمون نگار نے دونوں اطراف سے لگ بھگ ڈھائی لاکھ افراد مارے جانے کی خبر دی (یہ تعداد ایک محتاط اندازہ تھی، شرمیلا بوس کی تحقیق کے مطابق دونوں اطراف سے ایک لاکھ لوگ مارے گئے)۔

مشرقی پاکستان میں افواجِ پاکستان اور بنگالی قوم پرست، دونوں دھڑوں نے جنگی جرائم اور نسل کشی کا ارتکاب کیا۔ امریکی رپورٹر Sydney Schanberg نے البدر اور الشمس نامی ’رضا کار‘ تنظیموں کے قیام اور ان کی فوجی تربیت کی خبر دی۔ اس رپورٹر کو کچھ ہفتے بعد ہی ملک بدر کر دیا گیا۔ خواجہ جلیل احمد لکھتے ہیں: اس بات میں کوئی شک نہیں کہ فوج کی جانب سے غلطیاں ہوئیں لیکن جنگ کے حالات میں ان غلطیوں پر قابو پانا ممکن نہیں۔ جب بات ’مرو‘ یا ’مار دو‘ تک پہنچ جائے تو پھر اخلاقیات اور قوانین بے کار ہو جاتے ہیں۔ دنیا بھر کے فوجی ان حالات میں یہی حرکتیں کرتے ہیں، فوجی زیادہ عقل مند نہیں ہوتے‘۔ برگیڈیر عبدالرحمان صدیقی کے مطابق ’جنرل نیازی روز صبح جوانوں سے ان کا گزشتہ رات کا ’سکور‘ پوچھتے تھے۔ اس سکور سے مراد بنگالی خواتین کی تعداد تھی جنہیں گزشتہ رات ان جوانوں کی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ایک موقعے پر نیازی صاحب نے کہا: آپ ایک آدمی سے یہ توقع نہیں رکھ سکتے کہ وہ مشرقی پاکستان میں زندگی بسر کرے اور لڑے لیکن جنسی فعل کے لئے جہلم پہنچنے کا انتظار کرے‘۔

پاکستان کا سرکاری بیانیہ مشرقی پاکستان کے حالات کے لیے ہندوستانی مداخلت کو ذمہ دار قرار دیتا ہے۔ ہندوستان پر مشرقی پاکستان کے\"\" باشندوں کو اکسانے اور انہیں تربیت دینے کے الزامات میں بہت حد تک صداقت بھی ہے تاہم ہندوستان کے لیے بھی یہ مہم جوئی اپنی نوعیت کے خطرات لیے ہوئے تھی۔ آپریشن سرچ لائٹ کے بعد مشرقی پاکستان سے بھارت کی جانب نقل مکانی کا سلسلہ شروع ہوا۔ اگست کے مہینے تک اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے مطابق ایک کروڑ افراد بھارت کی ریاست بنگال، تری پورہ، آسام، بہار اور مدھیہ پردیش کے آٹھ سو سے زائد مہاجر کیمپوں میں مقیم تھے۔ مشرقی پاکستان میں مداخلت کے معاملے پر بھارتی وزیر اعظم اندرا گاند ھی کو دو بڑے مسائل در پیش تھے۔ بنگالی قوم پرستوں کی حمایت کرنے سے مغربی بنگال میں علیحدگی پسندی کو شہہ ملنے کا اندیشہ تھا (کلکتہ میں تین سال سے کرفیو نافذ تھا) اور بنگالی پناہ گزینوں کی آمد سے نکسل باڑی تحریک کو بھی نمو مل سکتی تھی۔ نہ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ بھارتی صحافی پراوین سوامی نے اپنی کتاب میں ذکر کیا کہ یکم مئی 1971ء کو بھارتی فوج کے سربراہ نے مشرقی پاکستان پر حملے کا منصوبہ تیار کیا۔ اس کا نام آپریشن Instruction تجویز کیا گیا۔ منصوبہ یہ تھا کہ غیر رسمی فوجی گروہوں کی مدد سے مشرقی پاکستان میں انتشار پھیلایا جائے اور اس انتشار کا فائدہ اٹھا کر رسمی جنگ کا میدان سجایا جائے۔ منصوبے کے تحت بنگالی گوریلا افواج کی تربیت کا ذمہ بھارتی فوج کے پر تھا اور ان گوریلوں کو مشرقی پاکستان کے زمینی حقائق کے مطابق تربیت دینا اہم تھا۔ اس مقصد کے لئے سات تربیتی کیمپ تیار کئے گئے جن میں دو مغربی بنگال، دو میگھالیا جب کہ ایک ایک کیمپ بہار، آسام اور تری پورہ میں موجود تھا۔ ہر کیمپ میں ایک ہزار رضاکاروں کی تربیت کا اہتمام کیا گیا۔ ان کیمپوں میں بھرتی کے لئے امیدواروں کی چھانٹی کا کام عوامی \"\"لیگ کے راہنماؤں کو سونپا گیا۔ ستمبر 1971ء تک ہر ماہ ان کیمپوں سے بیس ہزار گوریلا سپاہی تیاری کے بعد سرحد کی دوسری جانب بھیجے جا رہے تھے۔ نومبر کے اواخر تک بھارتی فوج نے تراسی(83) ہزار بنگالیوں کو ان کیمپوں میں تربیت دی تھی۔ جارحیت میں پہل پاکستانی فوج کی جانب سے ہوئی لیکن بعد ازاں بنگالی علیحدگی پسندوں نے پاکستانی فوج اور بہاریوں کو قتل عام کا نشانہ بنایا۔

اس تنازعے میں دونوں فریقین کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے تھے۔ بہاریوں کے متعلق علی احمد خان نے لکھا: ’مغربی پاکستان سے (جغرافیائی طور پر) وہ اتنے ہی دور تھے جتنے ایران، ترکی یا عرب سے، لیکن جیسے بہار اور یو پی میں رہنے کے باوجود ان کی وفاداریاں ہمیشہ عرب، ایران، ترکی اور وسطی ایشیا سے رہیں ویسے ہی یہاں مشرقی پاکستان میں سکونت اختیار کرنے کے باوجود مغربی پاکستان کے گن گاتے اور اس کے اظہار میں فخر بھی محسوس کرتے۔ اس پر طرہ یہ کہ مہاجر تھے، اور مسلمانوں میں مہاجروں کو جو مقام حاصل ہے اس سے سب واقف ہیں۔ ابتدا میں بنگالیوں نے اس تصور کو قبول کیا بلکہ اسی رویے کا مظاہرہ کیا جس کا مدینہ کے انصار کر چکے تھے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ان مہاجروں کو ہندو زمینداروں اور مارواڑیوں کے استحصال سے نجات کی علامت تصور کیا۔ لیکن جلد ہی ان کو احساس ہونے لگا کہ یہ مہاجر اپنے حق سے زیادہ مانگ رہے ہیں اور ہندو زمینداروں اور سرمایہ داروں سے نجات کا ذریعہ بننے کی بجائے ان کی جگہ لے رہے ہیں۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 35 posts and counting.See all posts by abdulmajeed

Leave a Reply