یورپ میں کیڑے پہلی مرتبہ انسانی خوراک کا حصہ بنیں گے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یورپ میں پہلی مرتبہ کیڑوں کو انسانی خوراک کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ‘میل وارمز’ یا ‘یلو گرب’ نام کا یہ کیڑا لاروا کی شکل سے ملتا جلتا ہے جو جلد ہی پاستا اور دیگر پکوانوں کا حصہ ہو گا۔

یورپین فوڈ سیفٹی ایجنسی نے ‘میل وارمز’ کو انسانی غذا کے طور پر کھانے کی منظوری دے دی ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق اب یلو گربز مکمل طور پر یا پھر خشک کر کے سالن اور کھانوں کی دیگر ترکیبوں میں استعمال کیے جا سکیں گے۔

اسے بسکٹس، پاستا اور بریڈ میں آٹے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جب کہ یورپ میں میل وارمز پہلے سے پالتو جانوروں کی غذا میں استعمال ہو رہے ہیں۔

یورپین فوڈ سیفٹی ایجنسی کے ماہر اور سائنس دان ایرمورلاوس ورویرس نے رائٹرز سے گفتگو کے دوران بتایا کہ میل وارمز میں پروٹین، چکنائی اور فائبر شامل ہوتے ہیں اور یہ آنے والے برسوں میں یورپی کھانوں کا حصہ ہوں گے۔

میل وارمز کو یورپی ایجنسی نے تجزیے کے بعد نوول فوڈ ریگولیشن میں پہلی مرتبہ شامل کیا تھا جس کا اطلاق 2018 میں ہوا۔

میل وارمز کی منظوری کے بعد اسی طرح کی درخواستیں بڑی تعداد میں موصول ہوئیں۔

دنیا کے مختلف ملکوں مثلاً افریقہ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں پہلے ہی انسیکٹ بارز، جھینگوں کے برگرز اوردیگر کیڑے مکوڑوں سے بنی چیزیں کھائی جاتی ہیں۔

یورپی کمیشن کی جانب سے ای ایس ایف اے کو منظوری دیے جانے کے بعد یورپ بھی ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو جائے گا۔

ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ نفسیاتی ہچکچاہٹ کے باعث ‘میل وارمز’ کو یورپ ک سپر مارکیٹس کی شیلفس تک پہنچنے میں کچھ وقت لگے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 997 posts and counting.See all posts by voa