گنجے سر سے بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ! یہ خبر درست نہیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈیپینڈینٹ اردو نے خبر لگائی کہ نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ گنجے مرد قابل تجدید شمسی توانائی پیدا کرنے کے لیے اپنے سر کا استعمال کر سکتے ہیں۔ ادارے نے مزید لکھا ہے کہ سپین کی ویلنسیا یونیورسٹی کے اشتراک سے ایک ہسپانوی سٹارٹ اپ کمپنی نے ایک دلچسپ پروجیکٹ پیش کیا ہے جس میں گنجے مردوں کے سر پر سورج کی روشنی سے شمسی توانائی پیدا کر سکتی ہے۔

یہ خبر 5 بج کر 15 منٹ پر انڈیپینڈینٹ اردو نے لگائی اور وہاں سے اے آر وائی نے کاپی کر کے اپنی ویب سائٹ پر لگائی اور پھر دنیا نیوز نے بھی اسی خبر کو کاپی پیسٹ کیا۔ ڈیلی پاکستان سمیت کئی دیگر ویب سائٹ نے بھی یہ خبر بلا تصدیق لگائی ہے۔

انڈیپینڈینٹ اردو اور دنیا نیوز نے فرانسسی نیوز ایجنسی ’اے ایف پی‘ کا حوالہ دیا جبکہ اے آر وائی نے غیر ملکی خبر رساں ادارہ لکھا۔

خبر درست نہیں!

یہ خبر درست نہیں ہے۔ اے ایف پی کی ویب سائٹ کو چھان مارا لیکن وہاں ایسی کوئی خبر موجود نہیں۔ میں نے Bald، Electricity، Sunlight، Solar Energy، Naked Head، bald Men وغیرہ، کی وڑلڈز سرچ کیے لیکن ایسی کوئی خبر وہاں موجود نہیں تھی۔

حقیقت کیا ہے؟

حقیقت یہ ہے کہ یہ خبر اپریل 2019 میں ایک ویب سائٹ، thereisnew۔ com نے لگائی تھی۔ یہ خبر اس ویب سائٹ پر مزاحیہ اور طنزیہ پیرائے میں لگائی ہے۔ ان کی ویب سائٹ پر واضح لکھا ہے کہ یہ خبر محض طنز ہے۔ ویب سائٹ کے لیگل وارننگ میں لکھا ہے کہ اس ویب سائٹ کا مقصد صرف اور صرف انٹرٹینمنٹ ہے۔ یہاں ہر خبر، ادارہ، نام، برانڈز، سب کچھ افسانوی ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا ہے کہ اس ویب سائٹ کے آرٹیکلز کوٹ کرنے کے لئے نہیں ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ اس ویب سائٹ کی خبر کہیں اور پوسٹ ہونے پر ویب سائٹ ذمہ دار نہیں۔

2019 میں پوسٹ ہونے والی خبر کا لنک:

خبر کے آخر میں Advice پڑھ لیں وہاں تمام معلومات موجود ہیں۔

اس ویب سائٹ کے بعد یہ خبر worldsatire.com نے جولائی 2019 میں لگائی جو نام سے واضح ہے کہ یہ طنزیہ ویب سائٹ ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ یہ ویب سائٹ اب ڈیلیٹ ہو چکی ہے۔

اس کا لنک یہ ہے لیکن یہ ویب سائٹ بند ہو چکی ہے :
http://worldsatire.com/index.php/2019/07/06/bald-men-will-be-able-to-turn-the-sunlight-into-energy/

انوویٹرز میگزین کا حوالہ!

دنیا نیوز، اے آر وائی نے ایک جریدے کا حوالہ بھی دیا۔ انہوں نے جس سانسی جریدے کا حوالہ دیا وہ innovatorsmag.com ہے۔ اس ویب سائٹ پر اپریل 2018 میں سٹاف رپورٹر نے ایک خبر لگائی۔ وہاں گنجے افراد کے حوالے سے محض ایک خبر موجود ہے۔ اس خبر کی سوالیہ سرخی کچھ یوں تھی:

کیا چلتے پھرتے گنجے افراد بجلی کے کھمبے ہیں؟

خبر میں لکھا گیا ہے کہ روایتی بجلی کے کھمبوں کی بجائے اگر گنجے افراد کو کھڑا کر دیا جائے تو بجلی زیادہ موثر طریقے سے سفر کر سکتی ہے۔ انہوں نے ایک ڈاکٹر، ریسرچ اور ایک ادارے کے ذکر کیا ہے لیکن تینوں نام کہیں بھی موجود نہیں۔ اس خبر کو آپ خود پڑھیں آپ کو ہنسی آئے گی۔ یہاں لکھا گیا ہے کہ گنجے افراد کو وائی فائی کے ذریعے گریڈ سٹیشنز سے کنیکٹ کر دیں تو بجلی موثر انداز سے سفر کرے گی۔

اس کا لنک یہ ہے :
https://www.innovatorsmag.com/are-bald-men-walking-solar-panels/

نتیجہ:

یہ خبر 2019 میں مزاحیہ پیرائے میں جنریٹ ہوئی اور انڈیپینڈینٹ اردو، اے آر وائی اور دنیا نیوز اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے ’آج‘ یہ خبر شیئر کر رہے ہیں۔ تینوں اداروں میں سے کسی نے اس خبر کے اصل سورس کے بارے میں ریسرچ نہیں کی اور نہ ہی خبر کے سیاق و سباق کو سمجھا! افسوس ہوتا ہے کہ ہمارے صحافی حضرات اور نیوز ایجنسیاں بلا تصدیق خبریں شیئر کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •