پنجاب میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فروری کے مہینے سے صوبہ پنجاب کے شہری علاقوں میں ٹائیفائیڈ سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکے لگانے کی مہم کا آغاز کیا جا رہا ہے ، اس مہم کے بعد یہ ویکسین بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں شامل کر دی جائے گی۔ اس ضمن میں اہم بات یہ ہے کہ پاکستان اس ویکسین کو بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے شیڈول میں متعارف کرنے والا دنیا کا پہلا ملک ہے۔

یکم سے پندرہ فروری تک جاری رہنے والی اس مہم کے دوران 9ماہ سے لے کر 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جائیں گے اور اس سلسلے میں کی جانے والی تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔

ٰاس مہم کے دوران 9 ماہ سے لے کر 15 سال تک کی عمر کے بچوں کو ویکسین لگانے کی وجہ یہ ہے کہ اس عمر کے بچے ٹائیفائیڈ کے لئے غیر محفوظ ہیں۔

اس کے علاوہ2017 میں ٹائیفائیڈ آنے والے کیسز کی مجموعی تعداد میں سے 63 فیصد کیسز 15 سال سے کم عمر بچوں میں سامنے آئے اور بد قسمتی سے 70فیصد اموات بھی اسی عمر کے بچوں میں ہوئیں۔

اس لئے اس مہم کا بنیادی مقصد ملک میں نہ صرف تشویش ناک حد تک بڑھتے ہوئے کیسز بلکہ ادویات کو مزاحمت کرنے والے کیسز میں کمی کرنا ہے۔ کیونکہ ٹائیفائیڈ ویکسین جس کا مکمل نام ٹائیفائیڈ کانجو گیٹ ویکسین ہے، اس بیماری سے طویل عرصے کے لئے حفاظت فراہم کرتی ہے۔ یہ ویکسین قوت مدافعت کو بڑھاتی ہے اور بچوں کے لئے بے حد موزوں ہے۔

ٹائیفائید ایک متعدی بیماری ہے اور اس کا جراثیم منہ کے راستے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس لئے اس کے پھیلاؤ میں گندے ہاتھوں سے کھانا کھانے، پانی یا برتنوں کو چھونے، ٹائیفائیڈ کے جراثیم سے آلودہ کھانا کھانے، متاثرہ افراد کے گندے ہاتھوں سے کھانا تیار کرنا اور کھلی یعنی ٹھیلوں وغیرہ سے چیزیں لے کر کھانا شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اس کے پھیلاؤ میں ماحولیاتی آلودگی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے خاص طور پہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات کی وجہ اور انسانی فضلے سے کھلے پانی کا آلودہ ہونا بھی شامل ہے۔

جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے ، اسی طرح ٹائیفائیڈ بخار سے بچاؤ ممکن اور آسان ہے۔ اس مرض سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ ویکسین کا استعمال ہے۔ یہ نہ صرف ٹائیفائیڈ ہونے سے بچاتا ہے بلکہ اگر خدانخواستہ اگر ٹائیفائیڈ ہو بھی جائے تو مرض کے شدت اختیار کرنے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔

مزید احتیاطی تدابیر میں اپنے ہاتھ دھونا خاص طور پر کھانا کھانے اور پکانے سے پہلے اور بیت الخلاء استعمال کرنے کے بعد ، پینے کے لئے صاف اور محفوظ پانی کا استعمال، اچھی طرح سے دھو کر پھلوں اور سبزیوں کا استعمال، ریڑھی والوں سے کھانے پینے کی چیزیں اور مشروبات خریدنے سے پرہیز اور کھانے کو اچھی طرح پکا کر کھانا شامل ہے۔

ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ٹائیفائید سے بچاؤ کے حفاظتی ٹیکوں کی اس مہم کو کامیاب بنانے کے لئے اپنا اپنا کردار ادا کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •