شعبہ زراعت میں مصنوعی ذہانت کے امکانات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس دنیا کو دو عدد چیزوں سے بہت خطرہ ہے۔ ایک اٹامک بم، دوسرا اس کو آبادی سے بہت خطرہ ہے۔ ایک رپورٹ کہ مطابق 2050 تک اس دنیا میں تقریباً 9.7 بلین لوگ موجود ہوں گے۔ اب ظاہر ہے ان کو کھانا بھی ہو گا اور جس رفتار سے انڈسٹریل ایریا اور رہائشی جگہ بنائی جا رہی ہے ۔ زرعی زمینیں تو انسان ہی نگلنے پر لگے ہوئے ہیں۔ کچھ معلوم نہیں کہ آگے آنے والے حالات کیسے ہوں گے۔

ان سب لوگوں کے لیے روٹی اور کپڑے کا بندوبست تو کرنا ہی پڑے گا اور اس سلسلے میں سائنسدان جدید ٹیکنالوجی اور آڑٹیفیشل انٹیلی جنس پر کام کر رہے ہیں۔ سوچا جا رہا ہے کہ کیسے ہم کم زمین کا استعمال کر کے زیادہ سے زیادہ محفوظ پڑودکشن ممکن بنائیں،  جس سے ماحولیات پر بھی مثبت اثرات پڑیں اور بہتر نتائج بھی ملیں۔

خیر ، مشکلات بہت ہے ، اندھیرے بھی ہیں لیکن اس سب میں بھی کچھ لوگوں کو امید کی کرن نظر آتی ہے کہ خوراک کا انتظام ہو جائے گا۔ اس امید کا نام ہے vertical Farming۔ یہ ایک جدید طرز کی ٹیکنالوجی ہے جس پر آج کل بہت کام ہو رہا ہے۔

اس میں ہوتا کچھ یہ ہے مٹی کی ایک سطح کی بجائے بہت ساری سطحیں ہوتی ہیں اور سورج کی روشنی کی جگہ آرٹیفیشل کنڑولڈ لائٹس ہوتی ہیں جو کہ فصل کی ضرورت کے مطابق روشنی کم یا زیادہ کرتی ہے۔ یہ سب عمل ایک کنٹرولڈ شیڈ کے اندر ہوتا ہے۔

اس فارمنگ کے بہت سارے فوائد ہیں ، سب سے بڑی بات تو یہ کہ جتنی فصل 6 یا 4 ایکڑ میں ملتی ہے ، اتنی ہی مقدار کی فصل آپ کو اس 2 ایکڑ کے فارم میں مل جاتی ہے۔ اب ذرا سوچیں اگر 2500 ایکڑ پر فارم ہو تو کتنی زیاد فصل حاصل کی جا سکتی ہے۔

دوسرا یہ روایتی طریقے کہ مقابلے میں 70 سے 90 فیصد تک کم پانی استعمال کرتی ہے۔ یعنی پانی اور زمین کی بچت ساتھ ساتھ بہتر نتائج۔

ابتدائی طور پر یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بھی سستی ہو جائے گی۔ دوسری طرف ناقدین کی رائے میں شمسی توانائی کے استعمال بغیر فصل کا بننا صحت کے لیے نقصان دے ثابت ہو سکتا ہے ، بہرحال یہ تو اب وقت بتائے گا کہ ہم آنے والے سالوں میں کون سی فصل کھائیں گے۔

دوسری طرف ہمارے ہمسائے ملک یعنی انڈیا کے سائسندانوں نے ایسا ایک آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا ماڈل بنایا ہے جس کی مدد سے کسان کو بر وقت پتا چل سکتا ہے کہ کھیت کے کس حصہ میں اس وقت کیڑوں کا حملہ زیادہ ہے ، اس کی مدد سے کسان بجائے ساری فصل میں سپرے کرے ، وہ اسی حصے میں سپرے کر کے اپنی فصل کو بچا سکتا ہے جس سے اس کی پروڈکشن بڑھے  گی اور اس کی لاگت بھی کم ہو جائے گی۔

وہاں کا کاٹن کا کسان تو اگلے برسوں میں خوشحال ہو جائے گا اور ان کا ملک اپنی ملک کی ضرورت کے مطابق کاٹن پروڈیوس کر پائے گا۔ اگر خان صاحب نے ٹیکسٹائل انڈسٹریز کو مزید اوپر لے کر جانا ہے تو اس کے لیے کاٹن کی پروڈکشن پر بھی دھیان دینا ہو گا۔ اس سال ہمارے ملک میں پیچھلے سال کے مقابلے کم کاٹن پروڈیوس ہوئی ہے۔

لیکن ایک بات تو طے ہے کہ ٹیکنالوجی کی مدد کے بغیر ہم کسی بھی شعبہ زندگی میں آگے نہیں بڑھ سکتے خاص طور پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد کے بغیر۔ حکومت پاکستان کو بھی چاییے کہ وہ بھی زراعت کو نئے اصولوں پر استوار کرے اور سائنسی ریسرچ میں اپنا حصہ ڈالے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عبدالباسط نیازی کی دیگر تحریریں