ہمارے جسموں پہ ہمارا حق رہنے دیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ہم اپنی مرضی سے اس دنیا میں نہیں آئے۔ ہمیں پیدا کرنے والے بھی ہماری پیدائش کے لیے ضروری عمل کے دوران نہیں جانتے کہ جس نطفے کو دنیا میں لانے کے لیے وہ محنت کر رہے ہیں۔ اسے آخر دنیا میں لانے کا مقصد کیا ہے۔ کیا صرف یہ رعب کہ ہاں دیکھو ہم والدین بن گئے ہیں۔ ہم میں کوئی کمی نہیں۔ ہم مکمل مرد و عورت ہیں۔ یا پھر اپنے بڑھاپے کا ایک سہارا۔ مرنے کے بعد قبر پہ دیا کون جلائے گا یا بخشش کی دعا کون کرے گا جیسی خواہشات کی تکمیل کے لیے دنیا کو دکھانے کے لیے ہم بچہ پیدا کرتے ہیں۔ ایک بچے کے بعد دوسرا بچہ اس کی جوڑی مکمل کرنے یا پھر بدقسمتی سے پہلا بچہ اگر بیٹی ہے تو پھر بیٹے کی خواہش میں بھی بچہ پیدا کیا جاتا ہے۔ یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ جب تک کہ عورت تھک نہ جائے، مر نہ جائے یا اس حد تک لاغر نہ ہو جائے کہ بچہ پیدا ہی نہ کر سکے۔ امیر لوگ یہاں بھی ڈیڑھ سیانے ہوتے ہیں۔ وہ ایک یا دو بچوں سے زیادہ بچے پیدا نہیں کرتے۔ صحیح کہتے ہیں کہ جس کے گھر دانے اس کے کملے بھی سیانے۔ غریب تو غم، خوشی دکھ غصے سب کا اظہار بس سیکس کی شکل میں کرتا ہے۔ اور اس کا نتیجہ بچے پہ بچہ ہے۔ گھر میں بچے اور بھوک اکٹھے ناچتے ہیں۔ حل بھی کوئی نہیں ملتا۔

خیر بات شروع ہوئی تھی کہ ہم اپنی مرضی سے دنیا میں نہیں آئے۔ اب جب ہماری مرضی ہی نہ تھی پیدا ہونے کی تو ہمارا رنگ روپ، شکل شباہت، جسمانی خدوخال کیسے ہونے چاہییں، یہ بھی ہم طے نہیں کرتے۔ جوں جوں ہم بڑے ہوتے ہیں۔ معاشرہ ہماری ظاہری شکل و شباہت کے اچھے یا برے ہونے کا تعین کرتا جاتا ہے۔ اسی حوالے سے بچے کو جوان ہونے تک مختلف ادوار میں مختلف طرح کی باتیں سننی پڑتی ہیں۔ کوئی موٹا ہے، تو موٹا کیوں ہے۔ موٹے بچے دماغی طور پہ سست ہوتے ہیں۔ کوئی پتلا ہے، تو کہا جائے گا ”ہائے اللہ یہ بچہ تو بہت کمزور ہے“ لیکن خیر کمزور لگنے والے بچوں کا ذہن بڑا تیز ہوتا ہے۔ کالا گورا، تیکھا ناک، موٹا ناک بڑی آنکھیں چھوٹی آنکھیں، نازک ہاتھ پیر گنواروں جیسے ہاتھ پیر یہ اور ایسی کئی باتیں سن سن کے بچہ جوان ہوتا ہے۔
لوگ بات کرنے سے پہلے ہرگز نہیں سوچتے۔ کہ وہ دوسرے کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان سب باتوں کی سب سے گھٹیا مثالیں رشتہ طے کرتے وقت ملتی ہیں۔ زیادہ تر لڑکوں کی مائیں چاند سی بہویں ڈھونڈنے نکلتی ہیں۔ چاہے ان کے اپنے چاند گرہن کے مارے کیوں نہ ہوں۔ لڑکی کے گھر جائیں گی۔ کھائیں گی پئیں گی لڑکی کو بلوا کے اٹھک بیٹھک کروائی جاتی ہے۔ چل کے دکھاو سے لے کر کھانے کتنے قسم کے پکا لیتی ہو تک کے درجنوں سوالات کیے جاتے ہیں۔ اور لڑکی کے گھر سے باہر نکلتے ہی ان کے خلاف محاذ بنا کے فوراً انکار بھجوا دیا جاتا ہے۔ لڑکوں کو ان میں سے آدھے مسائل بھی نہیں ہوتے۔ زیادہ سے زیادہ جاب، بزنس اور گھر بار کا پوچھ کے ہاں کر دی جاتی ہے۔
شادی طے ہو جائے تو نئے مسائل سر اٹھائے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ ہر بات ہر چیز میں اپنے ہی گھر کے لوگ اٹھتے بیٹھتے لڑکے اور خاص طور پہ لڑکیوں کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ اگر لڑکی موٹی ہے تو کہا جائے گا وزن کم کرو۔ رنگ پکا ہے تو رنگ گورا کرنے والی کریموں کے سپیشل گاہک بن جاؤ۔ اگر لڑکی کمزور ہے تو اسے اٹھتے بیٹھتے وزن بڑھانے کے مشورے دیے جائیں گے۔ جیسے وہ شادی نہیں کسی دنگل میں اترنے جا رہی ہے۔ لڑکوں کو تو بس ایک ہی چیز کی فکر ہوتی ہے۔ اور اس فکر میں تو ہمارے شہر کی دیواریں تک کالی ہوئی پڑی ہیں۔ مردانگی دکھانے کا شوق ضد میں بدل جاتا ہے۔ اور یہ سب کرنے والے ہمارے اردگرد ہمارے والدین ہمارے دوست احباب سب ہوتے ہیں۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیوں ہر انسان کو جیسا ہے جہاں ہے کی بنیاد پہ تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اگر کوئی موٹا ہے یا پتلا تو یہ اس کا ذاتی فیصلہ ہونا چاہیے کہ آیا وہ وزن کم کرنا چاہتا/چاہتی ہے یا نہیں۔ اسے گورا دکھنا ہے یا کالا یہ بھی اس کی مرضی ہونی چاہیے۔ نا کہ سماج کا دیا گیا پریشر جسے پورا کرتے کرتے لوگ نفسیاتی و ذہنی بیماریوں تک کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جن کی زندگی ہے ان کو ان کی زندگیوں اور ان کے جسموں پر ان کا حق رہنے دینا چاہیے۔ آپ والدین ہیں آپ نے پیدا کیا ہے، مگر آپ یہ اختیار نہیں رکھتے کہ اپنے پیدا کیے ہوؤں کو جینے نہ دیں۔ ان کی بنیادی شخصی آزادی چھین لیں۔ اور ان کو اف بھی نہ کرنے دیں۔
ہمارے جسم/رنگ/شکل و صورت اچھی ہے یا بری اس کا فیصلہ ہم پہ چھوڑ دیں۔ ہماری مرضی کے بنا ہمیں پیدا کر کے کم سے کم اپنی مرضی سے جینے کا حق ہمارا رہنے دیں۔ شادی کے نام پہ ہمارا استحصال مت کریں۔ اور دولہے کے سامنے ہمیں قربانی کا جانور بنا کے پیش مت کریں۔ انسان رہنے دیں۔ ایسے ہی لڑکوں کو مرد بن کے دکھانا جیسی باتیں کرنے کی بجائے لڑکی کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے۔ اس پہ گائیڈ کرنا چاہیے۔ ورنہ لڑکیاں سٹریس لے کر اعصابی کمزوری کا شکار ہوتی رہیں گی اور لڑکے پہلی رات کی دلہن کو لے کر ہاسپٹل کی ایمرجنسیوں میں بھاگتے پھریں گے۔ سماج کو رہنے کے قابل بنائیے۔ ہم سدھریں گے تو ہم سے ہی باشعور سماج ابھرے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •