عوام اور سلامتی کی نئی حدیں طے کرنے کا وقت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فوج ملکی وسائل پر مکمل گرفت حاصل کرنے کے منصوبے پر قیام پاکستان کے روز سے ہی سر گرم ہو گئی تھی، 1958 میں ایوب خان کے مارشل لاء کا نفاذ ملکی وسائل پر فوج کے فیصلی کن کنٹرول کے لیے فوج کا انتہائی اور فیصلہ کن قدم تھا جس کے بعد آج تک کسی قابل ذکر چیلنج کا سامنا کیے بغیر ملکی وسائل کو اپنے کاروبار اور سرمائے میں اضافے کے لیے استعمال کرتی چلی آ رہی ہے۔

اقتدار پر کنٹرول کے ذریعے سرمایہ اکٹھا کرنے اور اسے فوج کے تصرف میں لانے کی راہ کی میں آنے والی ہر رکاوٹ کو راستے سے ہٹاتی چلی آ رہی ہے، مشرقی پاکستان کے عوام نے ملکی وسائل سے اپنا حصہ مانگا تو پاکستان کے بانی صوبے مشرقی بنگال کو بے تحاشا پروپیگنڈا کے ذریعے ملک پر بوجھ بنا کر پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی۔ مغربی بازو کے وسائل کو لامحدود جان کر مشرقی پاکستان سے جان چھڑانے لینے کو ترجیح دی گئی تاکہ مغربی حصے کے وسائل پر توجہ مرکوز کرنے میں کسی دقت، کسی احتجاج، کسی مطالبے کا سامنا نہ کرنا پڑے، دور اندیشی کے فقدان کا نتیجہ تھا کہ وسائل پر مضبوط گرفت رکھنے والوں سے جان چھڑانے کے بعد آج ماضی کا مشرقی پاکستان یا موجودہ بنگلہ دیش ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے باقی ماندہ پاکستان کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے۔

کوتاہ بینی کا اندازہ وسائل پر مکمل گرفت اور اس کے ذریعے سرمائے کے بے تحاشا حصول کا اندازہ چند مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے جس کا مجموعی طور پر نقصان ملک اور قوم کو جبکہ قلیل مدتی فائدہ قومی سلامتی کے سائبان تلے قائم کردہ کمپنیوں کو پہنچتا ہے۔ قلیل مدتی اس لیے کہ اس سلسلہ کا دائمی ہونا ممکن نہیں ہے۔ ملک بھر میں آج کل جاری احتجاج دراصل عوام کے لیے معدوم ہوتے Space اور مفادات کا قلیل مدتی ہونا ہے۔

مثلاً ایف ڈبلیو او (FWO) کھربوں روپے مالیت کا کاروبار کرنے والی ملک کی سب سے بڑی تعمیراتی اور انجینیئرنگ کمپنی ہے جسے ملک میں موجود دیگر نجی کمپنیوں پر ہر طرح کی فوقیت حاصل ہے، بہت بڑے حجم کے ٹھیکوں کے لیے بولی لگانے والی نجی کمپنیوں کے ترقی نہ کر پانے کی وجہ ایف ڈبلیو او کا بے حد با اثر ہونا ہے جو مقابلے کے وقت انہیں با آسانی پیچھے دھکیل کر ٹھیکوں کے لیے ضروری بینک گارنٹیوں کے بغیر ٹھیکے حاصل کر لیتی ہے یا اپنے ذیلی ادارے ”عسکری کمرشل بنک“ سے یہ سہولت پلک جھپکتے حاصل کر لینا FWO کے تجارتی طور پر مضبوط ہونے کی وجہ ہے، جب کہ نجی کمپنیوں کا بینک گارنٹی بغیر ٹھیکے لینا ممکن نہیں لہٰذا ان گارنٹیوں کے لیے وہ بینک در بینک خاک چھانتے پھرتی ہیں۔ اربوں روپے کے بیشتر ٹھیکے بنا کسی مقابلے کے FWO کی جھولی میں پہنچ جانا معمول ہے جب کہ مقابلے کے لیے تیار نجی شعبہ ایک دوسرے کی شکل دیکھتا رہ جاتا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ سول سیاسی قیادت نجی شعبے کی داد رسی کیوں نہیں کرتی یہ تو سول قیادت کے توجہ دینے کا کام ہے تو یہ جان لینا ضروری ہے کہ جس کاروبار میں قومی سلامتی کے اداروں کی دلچسپی ہو گی، اس کاروبار تک نجی شعبے کی رسائی ممکن نہیں۔

اسی طرح ڈی ایچ اے (DHA) جو ایک وقت صرف ڈی ایچ ایس (DHS) یعنی ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی تھا، رفتہ رفتہ اتھارٹی بن چکا ہے۔ اوائل میں یہ صرف کراچی تک محدود تھا جہاں سے نکل کر ملک کے کونے کونے میں پہنچ چکا ہے۔ ڈی ایچ اے کی چھتری تلے آج آٹھ ڈی ایچ اے مجموعی طور پر ملک کی سب سے بڑی Real Estate کمپنی کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔

ڈی ایچ اے اپنے اثر رسوخ اور دباؤ کو استعمال کر کے صوبوں سے ان کی زمین بہت کم نرخ پر خریدتی ہے، اس زمین کو رہائشی اور کمرشل بنا کر اپنے محکمے کے ملازمین میں سستے داموں تقسیم کرتی ہے بعد ازاں محکمے کے ملازمین اس زمین کو مہنگے داموں مارکیٹ میں فروخت کر دیتے ہیں۔

فوج کے قواعد و ضوابط کے مطابق ایک افسر اپنی ملازمت کے دوران چار غیر منقولہ جائیداد حاصل کرتا ہے، پہلی پندرہ برس کی ملازمت مکمل کرنے پر مل جاتی ہے، ملک کے دیگر سرکاری محکموں کو یہ سہولت میسر نہیں ہے۔

ایف ڈبلیو او اور ڈی ایچ اے کے علاوہ فرٹیلائزر پلانٹس، ڈیری فارمنگ، شوگر انڈسٹری، بینکاری، انشورنس، پیٹرول پمپس، ایل پی جی کے علاوہ دیگر کاروبار سمیت سال 2019 میں براہ راست پیٹرولیم (Oil) کے ملٹی بلین ڈالرز کاروبار میں بھی داخل ہو چکی ہے۔

پاکستان کی کم و بیش پون صدی کی تاریخ میں سیاسی جماعتوں، ان کے اکابرین اور ورکرز ہمیشہ فوج کی انتہائی سخت نگرانی میں رہے ہیں، یہ نگرانی رفتہ رفتہ فوج کے ملکی وسائل پر اجارہ داری میں اضافہ کرتے ہوئے اس نہج تک پہنچ گئے ہیں جہاں قومی اور علاقائی سطح پر عوام کی مکمل طور پر نمائندگی کرنے والے عوام اور نجی شعبے کے لیے تقریباً ناپید گنجائش پر چیخ اٹھے ہیں اور اپنے روزمرہ احتجاج میں فوج کی قیادت کے نام لے کر ملک میں روز بروز بڑھتے معاشی مسائل کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں۔

حکومت اور فوج کے ایک پیج پر ہونے کے تأثر کو پیدا کرنے کے لیے جس موجودہ ہائبرڈ نظام کی داغ بیل ڈالی گئی ایسا کم و بیش ہر سیاسی دور ہائبرڈ دور میں رہا، سیاسی حکومتوں نے اگر کبھی فوجی ”احکامات“ کو ٹالا یا مزاحمت کی تو نتیجہ ہمیشہ حکومت کی برطرفی کی صورت میں میں نکلا، موجودہ طرز حکمرانی البتہ ایکسٹرا یا ہائبرڈ پلس نظام کہلایا جا سکتا ہے جو ماضی کی نیم سیاسی حکومتوں سے کئی ہاتھ آگے نکل گیا لیکن پھر بھی انتہائی ناکام ثابت ہوا۔

فوج کے لیے اب کاروباری فوج کے بجائے قومی فوج بننے کی جانب قدم بڑھانا ناگزیر ہو چکا ہے جو مکمل طور پر آئین اور قانون کے تابع رہ کر حکومت وقت کے جائز احکامات پر عمل درآمد کے لیے تیار ہو، فوج کا اپنی حدوں میں رہ کر صرف سرحدوں تک محدود رہنا ملک اور قوم کی بقا کے لیے جتنا ضروری آج ہے پہلے کبھی نہیں تھا، ملکی بقا خطرے میں ہے کا جو بے بنیاد راگ اب تک گایا جاتا رہا، عام انتخابات میں عوام کی تائید سے بننے والی حکومت کے دلی اور ذہنی طور پر تابع نہ رہنے کی وجہ سے حقیقی خدوخال بھی اختیار کر سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •