تعلیمی اداروں کی بندش کب تک؟
2020 کے آغاز میں جب کورونا نے ایک وبائی شکل اختیار کی جہاں اور بہت سارے معاملات تبدیل ہوئے ، تعلیمی اداروں کی بندش بھی عمل میں آئی۔ اس ضمن میں ابتداء میں ہر درجے پر ترقی دے دی گئی اور سب بچوں کو اگلی جماعت میں پروموٹ کر دیا گیا، اس کی وجہ یہ تھی کہ اکثر بچے پچھلی جماعت کا کورس تقریباً مکمل کر چکے تھے اور صرف سالانہ امتحان کا انعقاد ہونا باقی تھا کہ وبا کا آغاز ہو گیا اور چھٹیاں ناگزیر ہو گئیں۔
اگلے مرحلے میں نئی جماعتوں کی پڑھائی آن لائن جاری رہی اور درمیان میں کچھ عرصہ تعلیمی ادارے کھلے بھی رہے مگر وباء کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر دوبار تعلیمی اداروں کی بندش کرنا پڑی۔
اس وقت وباء کے حوالے سے صورت حال بے یقینی کا شکار ہے، نیا سال شروع ہو چکا ہے، تعلیمی سال شروع ہوئے بغیر ہی اختتام پذیر ہے، والدین اساتذہ اور خود طلبا غیر یقینی صورت حال میں فکر مند اور بے چین نظر آتے ہیں۔ حکومت اور وزارت تعلیم خود تذبذب کا شکار ہیں کہ تعلیمی ادارے کھولیں یا بند ہی رکھیں ، اگر بند رکھیں تو ہزاروں طالب علموں کا مستقبل کیا ہو گا؟
پرائمری اور سیکنڈری درجات سے آگے انٹر میڈیٹ کی سطح پر طلبا کے نمبروں پر ان کے مستقبل کی پروفیشنل تعلیم کا دار و مدار ہوتا ہے، اس کے مطابق انہیں پروفیشنل اداروں میں داخلے ملتے ہیں۔
اس وقت سارا تعلیمی نظام مشکل کا شکار ہے۔ اس سسٹم کے مطابق تو امتحانات کا انعقاد کیے بغیر اگلی جماعتوں میں پروموشن کا فیصلہ ممکن نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو کون سا ایسا نظام آنا چاہیے جو اس قدیم تعلیمی نظام کی اس خامی کو دور کر کے تعلیمی سال کو ضائع ہونے سے بچائے تاکہ ہزاروں طلبا کا نقصان نہ ہو۔
وزارت تعلیم تعلیمی اداروں کو کھولنے کے بارے میں بھی سوچ رہی ہے اور اس سلسلے میں کئی تجاویز زیر غور ہیں، لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ اس وقت جبکہ وبا قطعاً کنٹرول میں نہیں ہے ، ہر دن نئے اعداد و شمار اور نت نئی علامات سامنے آ رہی ہیں۔
والدین بھی جہاں اولاد کے تعلیمی مستقبل کی وجہ سے اندیشوں کا مبتلاء ہیں ، وہیں اولاد کی صحت اور سلامتی کے لئے بھی ازحد متفکر ہیں۔ حکومتی اطلاعات کے مطابق کورونا کی ویکسین پاکستان میں بھی جلد ہی دستیاب ہو جائے گی جس کے بعد اس کو مرحلہ وار لگایا جائے گا، اس متوقع ویکسین کے بعد انشاء اللہ حالات بہتر ہو جائیں گے۔
گو کہ ماہرین کے مطابق احتیاطی تدابیر کچھ عرصہ اور جاری رکھی جائیں گی۔ اس صورت حال میں اگر تعلیمی ادارے کچھ عرصہ اور بند رکھے جائیں تو مناسب ہو گا کیونکہ ہمارے ہیلتھ سسٹم اور اس کی کمزوریوں سے سب ہی واقف ہیں لہٰذا اس وقت تعلیمی ادارے کھولنا ایک بہت بڑے خطرے کو دعوت دینا ہو گا جس سے ہم اس وقت نبٹنے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے۔
اس دوران مناسب ہو گا اگر تعلیم کا سلسلہ آن لائن ہی جاری رکھا جائے تاکہ بچے کچھ نہ کچھ پڑھتے رہیں اور یہ معاملہ کچھ نہ ہونے سے کچھ ہونا بہتر والا ہی ہے۔ دیگر پروفیشنل اداروں کے لئے احتیاطی تدابیر مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے وقت کی اہم ضرورت ہیں جن کو ہنگامی بنیادوں پر جلد طے ہونا چاہیے۔
بات تعلیم کی ہو یا زندگی کے کسی بھی شعبے کی ، اہم یہ ہے یہ تمام فیصلے وقت کی ضرورت ضرور ہیں لیکن اس سے بھی اہم زندگی اور موت کا فیصلہ ہے ، اس وقت اپنی تھوڑی سی احتیاط سے ہم کسی بڑے ناقابل تلافی نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ اسی لئے کہا جاتا ہے جان ہے تو جہان ہے کیونکہ جو زندہ رہے گا وہی دنیا اور اس کے معاملات بھی دیکھے گا۔


