ایک حجام کا پاکستان تعلیمی نظام پر تبصرہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حجام بھی کمال کے لوگ ہوتے ہیں۔ تیس منٹ میں بال کاٹنے کے ساتھ ساتھ پورے ملک کی سیاست، کاروبار، عوام کی ذہنی پسماندگی، آمریت، جمہوریت، معیشت، اور تمامی معاملات کا خلاصہ بیان کر جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ کسی ماہر سائیکالوجسٹ یا صحافی کی طرح آپ سے آپ کی رائے بھی لے لیتے ہیں اور اس رائے سے غیر متصادم فیصلے بھی سنا دیتے ہیں۔

ہمارا حجام چونکہ اس بات سے واقف ہے کہ ہم ایک ادارے میں طالب علم اور دوسرے میں بطور استاد خدمت سر انجام دے رہے ہیں، سو ہمارے بیٹھتے ہی گویا ہوا: کیا خیال ہے سر جی، شفقت صاحب شفقت فرمائیں گے یا ادارے کھول دیں گے؟

تعلیمی اداروں کی بندش نے سب سے زیادہ پرائیویٹ اداروں سے منسلک لوگوں کو پریشان کیا۔ تنخواہیں روک لی گئیں، کتابوں کی زبردستی کی خریدوفروخت رک گئی، کینٹینیں بند ہو گئی، ٹرانسپورٹ والے بے بس ہو گئے۔ والدین نے شور مچایا کہ فیس کیوں لی جا رہی ہے، اداروں نے شور کیا کہ فیس کیوں نہیں دی جا رہی۔ اساتذہ نے سوچ لیا کہ نوکری بچ جائے، تنخواہوں کی خیر ہے، اور بچے خوشی مناتے رہے کہ پڑھائی کا بوجھ ہے نہ امتحان کی پریشانی۔ سو ہم نے اپنے ہم نام حجام کو برملا کہا کہ جس قوم کے بچے درسگاہوں کی بندش پر خوش ہوں، اسکول کالج نہ جانے کے لیے بہانے تلاش کریں، بازار اور کلب کھلے ہوں مگر تعلیم بند ہو، اس قوم پر زوال نہیں آئے گا تو کیا عروج آئے گا؟

ہم نام حجام نے بڑی ہی عجیب بات کہہ دی۔ ہم تو ششدر رہ گئے۔

کہنے لگا، سرکار، تعلیمی اداروں کے نام پر اگر فیکٹریاں ہی چلانی ہیں تو اچھا ہی ہے کہ یہ سب بند ہو گیا۔ ہم نے پوچھا کیا مطلب؟ کہنے لگا، سر میرے پاس بیسیوں اسٹوڈنٹ آتے ہیں، مجال ہے کسی کو تمیز ہو۔ پڑھائی کی بات کرتے ہیں تو فقط یہ کہ پاس کیسے ہونا ہے۔ جو کتاب بیس برس پہلے میں نے پڑھی تھی، وہی آج بھی ان کے ہاتھوں میں دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں، گزشتہ بیس برس میں علم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا؟

پچیس تیس سال کی عمر تک پڑھ کر بھی اگر پچیس تیس ہزار کی نوکری ہی ڈھونڈنی ہے تو یہی کام بغیر پڑھے بھی تو ہو سکتا ہے۔ برا نہ مانیے گا، مجھے لگتا ہے میں آپ سے زیادہ کما لیتا ہوں اور تعلیم آپ سے آدھی بھی نہیں ہے۔

ہم نام حجام کی باتیں کڑوی تھیں مگر سچ تھیں۔ ہم نے کبھی بھی تعلیم کو کمائی سے نہیں جوڑا۔ بچپن سے جانتے ہیں کہ رزق ڈگریوں سے حاصل نہیں ہوتا ورنہ ہر ڈگری والا کسی غیر ڈگری یافتہ کا ملازم نہ ہوتا۔ تعلیم کا مقصد ہمیشہ ادب جانا۔ سو ہم نام کی یہ بات ہمیں ہرگز بری نہیں لگی۔

کڑوی بات یہ تھی کہ ہمارے ہاں تعلیم کا مطلب سوائے پچاس سال پرانی کتابوں کے ازبر کر لینے کے کچھ بھی نہیں ہے۔ جامعات میں تعلیم کے نام پر فقط فیسیں بٹوری جا رہی ہیں۔ بازار سے پیسے دے کر نقلی ڈگری خریدنا گناہ کبیرہ سمجھا جاتا تھا مگر پورے ملک کی یونیورسٹیوں کے طلبا جانتے ہیں کہ گزشتہ دو سمسٹرز میں، آن لائن تعلیم کے نام پر فقط مذاق کیا گیا ہے۔ پاس ہونے کی فقط ایک ہی شرط تھی، فیس کی ادائیگی۔ آپ کے پاس کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نہیں بھی ہیں تو بھی کسی نہ کسی طرح آپ کو پاس کر دیا جائے گا۔

بازار سے ڈگری خریدنے اور اس طرح ڈگری حاصل کرنے میں کیا فرق ہے، ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، پڑھ کر حاصل کی گئی ہو یا بغیر پڑھے۔

جب کورونا نہیں تھا، اس وقت بھی حالات اس سے مختلف نہیں تھے۔ تعلیمی نظام تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ سکولوں اور کالجوں میں تعلیم کے بجائے رزلٹ کا دکھاوا کر کے داخلے کھینچے جاتے ہیں۔ اساتذہ فقط امتحانات کی تیاری کے بارے میں سوچتے ہیں۔ امتحان کی طرز پر تیاری کروائی جاتی ہے۔ سارا سال محض امتحان کی تیاری پر توجہ مرکوز رہتی ہے۔

کہیں بھی، کچھ بھی نیا سیکھنے سکھانے کا نہیں سوچا جاتا ہے۔ ایک ہی پہیہ بار بار ایجاد کیا جاتا ہے۔ کوئی جتنا خوبرو پہیہ بنا لیتا ہے، اتنے ہی خوبصورت نمبر حاصل کر لیتا ہے اور اس سب کے بعد بھی ہم اگر یورپ اور امریکہ اور بھارت اور بنگلہ دیش سے تعلیمی میدان میں برتری کے خواب دیکھنا چاہتے ہیں تو پھر خواب دیکھنے پر تو کوئی پابندی نہیں۔ جب پلاؤ بنانا ہی خیالی ہے تو دو بوٹیاں اور سہی۔

کچھ دن پہلے جامعات کے بچے احتجاج کر رہے تھے کہ پاکستان میں بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولت ہر جگہ نہیں ہے، سو آن لائن امتحان مت لیے جائیں۔ آج احتجاج ہو رہا ہے کہ جب سارا سمیسٹر پڑھایا آن لائن ہے تو پھر امتحان لینے کے لیے جامعات میں کیوں بلایا جا رہا ہے۔ یعنی بس پیپر بھیج دیا جائے، سب لوگ انٹرنیٹ سے کاپی کر کے جوابات تحریر کر دیں اور ڈگری حاصل ہو جائے۔ کیونکہ ڈگری تو ڈگری ہوتی ہے، بازار سے غیر مستند آدمی سے خریدی ہو یا کسی رجسٹرڈ جامعہ سے۔ کچھ پڑھ کے حاصل کی ہو یا فقط پیسے ادا کر کے، ڈگری ڈگری ہوتی ہے۔

ہم نے بارہا اپنی تحریروں میں حکومت پر تنقید کی کہ منڈیاں اور کلب کھول کر درسگاہیں بند کر کے یہ حکومت قوم کا مستقبل تباہ کر رہی ہے، مگر ہمیں احساس ہو گیا ہے کہ ہم نام حجام صحیح کہتا ہے، ایسی تعلیم سے بہتر ہے کہ تمام تعلیمی ادارے ہمیشہ کے لیے بند کر دیے جائیں۔ جو شخص بھی کچھ سیکھنا چاہتا ہے، استاد تلاش کرے، کھپے، سیکھے اور کام کرے۔ ورنہ بغیر انگریزی سیکھے کوئی گر کوئی ہنر سیکھے اور اپنے اور اپنے ملک کے لیے کوئی سودمند کاروبار شروع کرے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •