مردان میں بدھا کا مجسمہ: ان بتوں سے دوستی نہیں اچھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹوٹنے والی چیزوں میں سر فہرست دل اور نکاح ہیں۔ یہ تحقیق ہماری نہیں مظفر گوند کی ہے۔ اس تحقیق کو اس بات سے مزیدتقویت ملی کہ کچھ عرصہ پہلے مردان میں کھدائی کے دوران بدھا کا ایک انتہائی قدیم زندہ مجسمہ دریافت ہوا، یعنی صحیح سلامت حالت میں۔ اہل علاقہ نے محکمہ آثار قدیمہ کی بجائے ایک قدیم بزرگ کو بلوا لیا۔ جنہوں نے پہلے کھدائی کرنے والوں پراعتراض اٹھایا کہ ایسی کفریہ جگہ کھودی ہی کیوں گئی۔ کھودنے والوں نے دلیل دی کہ مجسمہ دفن کرنے والوں نے اوپر نیم پلیٹ یعنی کوئی کتبہ نہیں لگایا تھا۔ پھر جب مجسمے نے کھدائی پر اعتراض نہیں کیا، تو ہم کیوں کدالیں روکتے۔ ( ویسے بھی مجسمے تو دفن ہی دریافت ہونے کے لئے ہوتے ہیں ) ۔

یہ تو ہم نے بھی سن رکھا ہے کہ کئی جگہیں ایسی بھی دریافت ہوئی ہیں جہاں کچھ نیک بزرگ دفن تھے۔ اور جہاں کھدائی کرنے والوں کے بیلچے ہتھوڑے غائب ہو جاتے۔ ایک جگہ تو یوں بھی ہوا کہ کھدائی کرنے والوں کی جیب سے بٹوے غائب ہو نا شروع ہو گئے۔ لوگوں نے وہاں بٹوے والی سرکار کے نام کا کتبہ لگا دیا۔ لیکن ٹھیکیدار ہار ماننے والا نہیں تھا۔ اس نے ایک دن مزدروں کے بیچ میں سے جیب کترے کو پکڑ لیالیکن تب تک بٹوا سرکار کے بیسیوں مرید پیدا ہو چکے تھے۔

کھدائی تو دوبارہ شروع نہ ہو سکی۔ لیکن ”بٹوے والی سرکار کا ہرسال“ باچندہ ”عرس منایا جاتا ہے۔ اور وہی جیب کترا قبر کا مجاور بن بیٹھا ہے۔ سنا ہے عرس میں جس کی جیب نہ کٹے اس کی مراد پوری نہیں ہو تی۔ اس لئے عقیدت مند جوق در جوق جیبیں کٹوانے پہنچ جاتے ہیں۔ اسی بات کو دھیان میں رکھتے ہوئے کسی نا خلف نے مشورہ دیا کہ مجسمہ دفن رہنے دیں اور اوپر بابابدھا سرکار کا کتبہ لگا کر چندے والا باکس رکھ دیا جائے۔ چندے کی بات سن کر سب کے منہ میں نوٹ بھر آئے۔

لیکن بزرگ نے فوری فتوی جاری کیا کہ بت توڑ دیا جائے ورنہ یہاں موجود سب کے نکاح ٹوٹ جائیں گے۔ کچھ دنیا پرستوں نے سمجھانے کی کوشش کی کہ مجسمہ توڑا نہ جائے جن کا ہے ان کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن وہ سب اپنا ٹوٹا ہوا نکاح لے کر رہ گئے۔ اس مہنگائی کے دور میں ایک نکاح پر قناعت کرنے والے حضرات آ گے بڑھے اور یہ کہتے ہوئے مجسمے کو فوری توڑ دیا کہ نکاح مجسمے سے افضل ہے۔ بعد میں علم ہوا کہ مجسمہ پوجنے کے لئے نہیں، میوزیم میں رکھنے کے کام آنا تھا۔ پوجنے کے لئے تو چین میں بنے سستے بت مل جاتے ہیں۔ ( لیکن سنا ہے کہ لداخ میں چین بھارت جھڑپ کے بعد چین میں بنے بتوں پر یہ اعتراض اٹھا تھا، کہ ان بتوں کو پوجنے سے دعائیں قبول نہیں ہوتیں ) ۔ بہر حال مجسمہ کروڑوں ڈالر مالیت کا تھا۔ اور ٹکرے اب کوئی کباڑی دال کے بھاؤ بھی نہیں اٹھا رہا۔

مظفر گوند کہتا ہے ہمارے ملک میں جس تیزی اور پھرتی سے نکاح ٹوٹتے ہیں۔ لگتا ہے ملک کا ہر دوسرا شہری اپنی منکوحہ کے ساتھ غیر قانونی زندگی بسر کر رہا ہے۔ ایک الیکشن میں کسی مولانا نے بقول راوی یہ فتوی بھی دے ڈالا کہ مخالف پارٹی کو ووٹ دینے والوں کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ دروغ بر گردن راوی۔ ایسے امیدوار کو تو صرف غیر شادی شدہ اور ہیجڑے ہی ووٹ دے سکتے ہیں۔

لیجیے لکھتے لکھتے ایک لطیفہ بھی دماغ میں آ گیا۔ کسی بلڈنگ کی آٹھویں منزل پہ ایک مزدور کام کر رہا تھا۔ اچانک کسی نے آ واز دی ”اللہ دتہ تیری بیوی گھر سے بھاگ گئی“ غیرت میں آ کے اللہ دتہ نے وہیں سے چھلانگ لگا دی۔ پانچویں منزل تک آیا تو یاد آیا کہ اس کی تو ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ پہلی منزل تک پہنچا تو یاد آیا کہ اس کا نام اللہ دتہ بھی نہیں ہے ”۔ یہ لطیفہ یوں یاد آیا کہ نکاح ٹوٹنے کے ڈر سے مجسمہ توڑنے والے دو نوجوان غیر شادی شدہ تھے۔

محمود غزنوی بھی افغانستان میں سارے بت چھوڑ چھاڑ کر ہندوستان سومنات کابت توڑنے چلے آیا تھا۔ سترہ حملے کیے ۔ ہزاروں سپاہیوں کی جان گئی۔ لیکن بت ٹوٹ کر رہا۔ راوی بتاتے ہیں کہ سومنات کے مندر سے جوسونے چاندی کے ڈھیر نکلے انہیں محمود نے بت شکنی کا انعام سمجھ کر رکھ لیا تھا ورنہ دولت و سلطنت کا اسے کوئی لالچ نہیں تھا۔ جنگیں تو لہو گرم اور عوام کو مصروف رکھنے کا ایک بہانہ تھیں ( شاید ملک کی آبادی پر کنٹرول کرنا بھی مقصود ہو ) ۔

ہندوستان اس زمانے میں ایسا مسکین ملک تھا کہ جس حکمران سے جنگ کے لئے کوئی ملک راضی نہ ہوتا، وہ ہندوستان پر حملہ کر دیتا۔ ہندوستان نہ ہوا سرکاری زمین ہو گیا۔ بابر کو جب فرغانہ سے بھاگنا پڑا تو اسے بھی ہندوستا ن ہی آسان شکار نظر آیا۔ ابر اہیم لودھی نے بہت سمجھایا ”مت لڑ۔ میں تیرا مسلمان بھائی ہوں“ ۔ بابر بولا ”اسی لئے تو اتنی دور لڑنے آیا ہوں“ ۔ سنا ہے ابرا ہیم لودھی نے یہ بھی پیشکش کی کہ حکمرانی کا شوق ہے تو تجھے کسی گاؤں میں ایس ایچ او لگوا دیتے ہیں۔

لیکن اکبر کو انار کلی دیوار میں چنوانا تھی، جہانگیر نے نور جہاں کے کبوتر اڑانا تھے او ر شاہجان کو ہندوستان میں تاج محل بنانا تھا۔ اس لئے بابر نے ہزاروں سپاہیوں کی بلی دے کر ابراہم لودھی کے نیچے سے تخت کھینچ لیا۔ ابراہیم لودھی منہ کے بل گرا اور اس کی جان نکل گئی۔ مرنے سے پہلے اس نے بابر کوبہت بد دعائیں دیں جو ایک نہ لگی۔ لیکن بد دعا کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بعد میں سب اکٹھی ہو کر بہادر شاہ ظفر کو لگ گئیں

تاریخ میں ایسے واقعات پڑھ کے مجھے قبضہ گروپوں کا خیال آتا ہے۔ چار مسلح افراد، علاقہ ایم پی اے یا ایم این اے کی آشیر واد اور تھانیدار کا حصہ آپس میں مل جائیں تو کوئی بھی دو چار کنال زمین پر شہنشاہ بابر یا تاجی کھوکھر بن سکتا ہے۔ باقی رہے نام اللہ کا۔ زمین وہی اپنی، جس میں بندہ ذاتی طور پر دفن ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •