ہمارے ماڈرن روحانی بابے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس مضمون کو لکھنے کا محرک سعید ابراہیم کی ایک پوسٹ ہے جو گزشتہ دنوں میری نظر سے گزری جسے پڑھ کر میری سوچ کے کئی در کھل گئے ان کا فرمانا تھا کہ

”یہ جنہیں ہم پیرفقیر سمجھتے ہیں، یہ عمومی طورپرچٹے ان پڑھ یا کم پڑھے لکھے لوگ ہوتے ہیں جو اپنی فطری ذہانت کے بل پر لوگوں کی نفسیات سے کھیلنا سیکھ جاتے ہیں اور یوں با آسانی ان کی دولت پر بے فکری کی زندگی گزارتے ہیں۔ اشفاق، بانو قدسیہ اور واصف علی واصف بھی ایسے ہی پیر نما ادیب تھے جو قارئین کی نفسیات سے کھیل کر پیسا بنانے کا ہنر جانتے تھے“

کچھ سچ میٹھے ہوتے ہیں جن کو سن کر ہم بہت خوش ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ دیو مالائی ہوتے ہیں ان کا حقائق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا جبکہ کچھ سچ بہت کڑوے ہوتے ہیں کیونکہ ان کے اندر جھوٹ کی ملاوٹ نہیں ہوتی اور یہ اپنی شبیہ میں چٹے ننگے ہوتے ہیں یہ خالص سچ سوچنے والے لوگوں کو ہی دکھائی دیتے ہیں۔ سوچنے سے عاری لوگوں کو بے کارقسم کی میٹھی میٹھی اور دیومالائی والی باتیں اچھی لگتی ہیں کیونکہ سوچنے اور غور وفکر کرنے سے ان کی جان جاتی ہے یا دوسرے لفظوں میں وہ اپنے جھوٹ کے بھرم کو توڑنا نہیں چاہتے اور وہ زندگی کو ایک ”اسٹیٹس کو“ کی طرح جینے کے عادی ہو جاتے ہیں۔

جسمانی مشقت سے بھی زیادہ مشکل کام سوچ بچار کا عمل ہوتا ہے کیونکہ سوچ کے نتائج کا سامنا ہر کوئی نہیں کر سکتا، سوچنے کے عمل سے شعور میں پختگی آتی ہے اور پھر اسی شعور کی کرنیں مختلف رنگوں کے ساتھ سماج میں بکھرنا شروع ہوجاتی ہیں۔ ماضی میں جھانکیں تو یہی شعور واحدت الوجود، وحدت الشہود، معتزلائی فکر، منصور کے انا الحق اور کئی دوسرے شعورکے نقارچیوں کی صورتوں میں سامنے آیا اور موجودہ دور میں سائنسی فکر، دہریت، ہیومنسٹ فلاسفی اور تشکیکیت کی صورت میں سامنے ہے۔

شعورکی پرتیں ہر دور میں مختلف انداز میں کھلتی رہتی ہیں اور ہر دور کا سچ اپنی افادیت رکھتا ہے۔ سچ کو کسی ایک زاویے یا زمانے میں قید نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ سچ ایک بدلتی ہوئی حقیقت ہوتی ہے اور تغیر و تبدل اس کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ جن بابوں کا اوپرتذکرہ ہوا ہے یہ مانولاگ کے آدمی تھے یہ اپنی مقدس مچان پر بیٹھ کر ایک مجمع کی صورت میں خطبہ دینے کے عادی تھے یا دوسرے لفظوں میں مجمع باز تھے جیسے پرانے زمانوں میں مداری لوگ مجمع لگا کراپنا سرکسی کرتب دکھایا کرتے تھے اور یہ کرتب دیکھ کر لوگ اپنے دانتوں میں انگلیاں دے کرحیران ہوتے رہتے تھے بالکل اسی طرح یہ مجمع باز کرتبی دانشور مانولاگ کے ذریعے سے دیومالائی باتیں سنا کر اپنے سامنے بیٹھے ہوئے لوگوں کو حیران کر کے اپنے سحر میں مبتلا کرلیتے تھے اور ان کی سوچنے سمجھنے والی صلاحیت کو آہستہ آہستہ ماؤف کردیتے تھے۔

ان بابوں نے ہمارے سماج میں ایک ایسی کلاس کو جنم دیا ہے جو سوچنے سمجھنے سے بالکل عاری ہے اور بے حس گدھوں کی مانند ہیں جو ایک خیالی دائرے کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ یہ کلاس خود تو سوچ سے عاری اور بے حس ہو چکی ہے مگر سب سے بڑا ظلم یہ ہے کہ ان مجمع بازوں کے پیروکار دوسرے بہت سے طلباء طالبات کو گھیر گھار کو آج کل کے مجمع بازوں کی محفل میں لے جاتے ہیں جہاں پریہ موٹیویشنل اسپیکر ان نوجوانوں کی اپنی سوچ کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

آج کل کے مجمع باز دانشوروں میں احمد رفیق اختر، سرفراز احمد شاہ، جاوید چوہدری اور قاسم علی شاہ شامل ہیں جو اپنی ماڈرن لک کے ذریعے یعنی کلین شیو اور پینٹ شرٹ اورانگریزی کے بھاری بھر کم جملے بول کرآج کل کی ممی ڈیڈی اور سوٹڈ بوٹڈ کلاس کو متاثر کرنے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں اور پرانی روایتی پروڈکٹ کو نیا اورجدید لیبل لگا کر پیش کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ دراصل ان کو اس بات کا ادراک ہو چکا ہے کہ ہمارے روایتی پنڈورا باکس میں جو میٹریل اور تصورات ہیں وہ اب باسی ہوچکے ہیں اور نئے سائنسی حقائق نے انہیں بری طرح سے لتاڑ دیا ہے اب یہ اسی باسی پراڈکٹ کو نئے لیبل اور نئی لک کے ساتھ پیش کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

شعور آگہی کے اس دور میں اب ان خیالی باتوں کی گنجائش کم پڑنے لگی ہے کیونکہ جھوٹ کو زیادہ دیر تک مقدس بنا کر پیش نہیں کیا جاسکتا اورجھوٹ کی شیلف لائف بہت کم ہوتی ہے۔ میں شعورکے پھوٹنے کا چشم دید گواہ ہوں کیونکہ اب میرے سٹوڈنٹس نسیم حجازی کی بجائے سید سبط حسن، علی عباس جلال پوری، نیاز فتح پوری اورسعادت حسن منٹو کو پڑھنے پر ترجیح دیتے ہیں اور وہ یہ جان چکے ہیں کہ سوچ بچار کرنے سے ہی حقیقی معجزے رونما ہوتے ہیں۔ اس شعوری پختگی کو حاصل کرنے کے لیے وہ ہموار فضا، سوال کرنے کی آزادی اورسنسر شپ سے پاک ماحول چاہتے ہیں جہاں پر وہ آزادی سے پرواز کر سکیں اور زندگی کو اپنے طریقے سے جی سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •