نمبردار میں ہاں تے روٹی میڈا بھرا ڈیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”نمبردار میں ہاں تے روٹی میڈا بھرا ڈیسی“ سرائیکی کی یہ ضرب المثل اس شخص کے لیے بولی جاتی ہے جو خود کو دوسروں سے برتر ثابت کرتا ہو۔ ہر معاملے میں ٹانگ اڑاتا ہو، اپنے ہر کام کو بہتر ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتا ہو، کسی کو اہمیت نہ دیتا ہو مگر جب کھانا کھلانے کی بات آ جائے تو وہ پیٹھ دکھا کر بھاگ جائے اور کہے کہ روٹی تو میرا بھائی کھلائے گا۔

موجودہ حکومت کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ جب سے اقتدار میں آئی ہے غلطی سے اگر کوئی اچھا کام کر لے تو اسے فوراً اپنے کھاتے میں ڈال لیتی ہے، غلطی سے اس لیے کہا درستی سے تو ابھی تک کوئی ایسا کام نہیں ملا جو حکومت نے کیا ہو اور جس سے سب کو ریلیف ملا ہو۔ سچ پوچھیں تو کوئی ایسا کام یاد ہی نہیں آ رہا جسے لکھ کر ہم آپ کو حکومت کی درست کارکردگی کی مثال دیتے، ہاں البتہ حکومت کا جو بھی کام ان کی ناقص حکمت عملی، ناقص کارکردگی اور نا اہلی کو سامنے لاتا ہو تو مشیران نیا پاکستان اس کو فوراً پرانے پاکستان کے حکمرانوں کے کھاتے میں ڈال کر کپڑے جھاڑ کر کچھ ایسے ہی کہتے دکھائی دیتے ہیں کہ نمبردار ہم ہیں مگر ذمہ دار وہ ہیں یعنی حکومت ہماری ہے مگر ذمہ داری ان کی ہے۔

ابھی پچھلے دنوں بجلی کے ملک گیر بریک ڈاؤن کی جو صورتحال سامنے آئی چاہیے تو یہ تھا کہ وزیر توانائی اپنی کوتاہی اور غیر ذمہ داری قبول کرتے، بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی یقین دہانی کراتے مگر انھوں نے تمام ملبہ سابقہ مسلم لیگ نون کی حکومت پر ڈالتے ہوئے کہا کہ ان کی غلط پالیسیوں کا خمیازہ ہمیں 2023 تک بھگتنا پڑے گا، البتہ یہ بتا دیا کہ سابقہ دور میں 8 بار بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا، انہیں بہتر کرنے میں کئی روز لگے مگر ہم نے 8 گھنٹے میں بجلی بحال کر دی مگر وہ یہ بتانا شاید بھول گئے کہ اس دور میں کابینہ میں ان کی کون سی وزارت تھی۔

اور پھر شکر ہے انھوں نے حالیہ دنوں میں بجلی کی قیمتوں میں کیے گئے اضافے کی ذمہ داری مسلم لیگ پر نہیں ڈال دی، شاید وہ آئی ایم ایف کے ایماء پر بجلی کی قیمتوں میں کیے جانے والے اضافے کو سامنے نہیں لانا چاہتے۔ ایک آئی ایم ایف ہی تو ہے جس کے ہر حکم کو ہر حکومت نہ صرف من و عن تسلیم کرتی ہے بلکہ کسی کو اسے متعلق حقائق کی ہوا بھی نہیں لگنے دیتی، یہی وجہ ہے اکتوبر 2019 میں آئی ایم ایف سے کیے گئے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کی تعطل کا شکار تیسری قسط کی بحالی کے لیے آئی ایم ایف کی اولین شرط پر عمل درآمد کرتے ہوئے بجلی پر دی جانے والی سبسڈی کو خاموشی سے ختم کر دیا ہے جس کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں ایک سے دو روپے فی یونٹ اضافہ ہو گیا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں مزید اضافے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری طرف تاخیر سے خریدی گئی مہنگی ایل این جی کے مضر اثرات ہماری انڈسٹری کو مہنگائی کے جس طوفان سے دوچار کرنے جا رہے ہیں یہ ایک الگ داستان ہے جس کی ذمہ داری شاید سابق حکمرانوں پر ڈالنا ممکن نہیں ورنہ اب تک کوئی وزیر اس کی ذمہ داری سابقہ حکمرانوں پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو چکا ہوتا۔

اس پہلو کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ سابق ادوار میں عام لوگوں کی حالت زار میں بہتری کے لیے قابل قدر کام نہیں کیا گیا۔ بھوک غربت اور مہنگائی کے خاتمے کے بہتر معاشی پالیسیاں نہیں بنائی گئیں اور اسی بنیاد پر عوام نے سابقہ حکمرانوں کو مسترد کر کے تحریک انصاف کو کامیاب کرایا تاکہ ملک کی معیشت بہتر ہو سکے، عام آدمی کو ریلیف مل سکے اور بھوک غربت اور بے روزگاری سے نجات مل سکے مگر گزشتہ اڑھائی برسوں میں تحریک انصاف نے اپنی ذمہ داری کچھ اس طرح پوری کی ہے کہ ہر دوسرے روز قوم کو یہی بتایا جاتا ہے کہ اس کی ذمہ دار مسلم لیگ ہے اور اس کی ذمہ دار پیپلز پارٹی ہے مگر ان سے کوئی پوچھے کہ اگر آج بھی ذمہ دار وہ ہیں تو پھر آپ نمبردار کاہے کو بنے ہوئے ہیں۔

ابھی پچھلے دنوں حکومت نے رواں ماہ میں دوسری بار پیٹرولیم مصنوعات کی کی قیمتوں میں دو سے تین روپے اضافہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں مہنگائی کا نیا طوفان جنم لے گا کیونکہ اس کے براہ راست اثرات عام آدمی پر پڑتے ہیں جبکہ عام آدمی پہلے ہی مہنگائی کے درد ناک عذاب سے دوچار ہے اشیائے خوردنی سے لے کر اشیائے ضروریہ تک کچھ بھی عام لوگوں کی پہنچ میں نہیں کوکنگ آئل، چینی، گھی، آٹا سب کچھ عوام کی قوت خرید سے دور ہو چکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ موجودہ حکمران آخر کون کون سی اپنی نا اہلی اور غیر ذمہ داری سابقہ حکمرانوں کے کھاتے میں ڈال کر اپنے کھاتے بے باک کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہیں گے؟ کب تک ان کی ذمہ داری کی ڈگڈگی بجا کر اپنی ذمہ داری کا بندر تماشا کر کے لوگوں کو بیوقوف بناتے رہیں گے؟

وزیر اعظم عمران خان جب اپوزیشن میں تھے تو انہوں نے واضح طور پر کہا تھا جب حکمران چور ہوتے ہیں تو مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے اور آج ان کا کہنا ہے مافیا زیادہ طاقتور ہے، ایسی صورتحال میں خوفناک حد تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کو دیکھ کر اگر ان کی پہلی بات کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر ماننا پڑے گا کہ ملک کے حکمران چور ہیں اور اگر دوسری بات کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ملک میں مافیا کی حکومت ہے جنہیں نہ تو عام لوگوں کا احساس ہے اور نہ ہی عوام سے ہمدردی، وہ جب چاہتے ہیں قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اور مشیران نیا پاکستان عوام کو یہی سمجھاتے رہتے ہیں کہ نمبردار ہم ہیں مگر ذمہ دار وہ ہیں یعنی حکومت ہماری ہے مگر ذمہ داری ہماری نہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •