سوشل میڈیا ہمارے ساتھ کیا کر رہا ہے؟ چشم کشا فیچر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیٹ فلیکس پر ایک ڈاکیومینٹری ”دی سوشل ڈیلیما“ یا سماجی الجھن نے کافی مقبولیت حاصل کی ، اس ڈاکیومینٹری میں بات چیت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو گوگل ، فیس بک ، یوٹیوب اور دوسری سوشل نیٹ ورک کمپنیوں میں بڑے عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں ، ان کے خیالات اور تجربات و تجزیات کو کسی صورت رد نہیں کیا جا سکتا۔

ڈاکیومنٹری کی ابتدا میں ایک فکشن فیملی کی کہانی دکھائی گئی ہے کہ کس طرح سوشل میڈیا ہماری زندگیوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ ڈاکیومنٹری کے شروع میں سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا میں مثبت تبدیلیوں پر بات کی جاتی ہے۔ مگر سوشل میڈیا کا دوسرا رخ جس کو ہم منفی رخ کہتے ہیں ، وہ بہت ہی ڈراؤنا ہے اور اگر ہم نے ایسے ٹھیک کرنے کی کوشش نہ کی تو یہ ہمارے حال کے ساتھ مستقبل کو بھی خراب کر سکتا ہے ۔ ہماری موجودہ نسلیں خراب ہو سکتی ہیں اور ان کا مستقبل بھی خطرے میں ہے ۔

سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے بچے ذہنی مسائل کا زیادہ شکار ہو جاتے ہیں ، نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں میں فلٹرڈ سیلفیز کا استعمال اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ پلاسٹک سرجنز نے ایک نئی اصطلاح متعارف کروائی ہے جس کو سنیپ چیٹ ڈسمورفیا کا نام دیا ہے کیونکہ یہ نوجوان بچے اور بالخصوص بچیاں پلاسٹک سرجری کے ذریعے اپنا چہرہ اپنی فلٹرڈ سیلفیز کی طرح بنوانا چاہ رہے ہیں۔

دوسری چیز جس کے بارے میں اس ڈاکیومنٹری میں بتایا گیا ہے وہ فیک نیوز ہے۔ دنیا کے تمام ممالک میں ملینز کی تعداد میں لوگ سوشل میڈیا سے جڑے ہیں جو کہ مجموعی طور پر بلینز کی تعداد میں بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی دنیا میں بظاہر لوگ ایک دوسرے جڑے ہوئے ہیں جو کہ درحقیقت اک سراب سے زیادہ کچھ نہیں۔ سوشل میڈیا میں تواتر سے آنے والی خبریں ہمارے ہیجان میں اضافہ کرتی ہیں اور بہت زیادہ تعداد ایسی خبروں کی ہے جو فیک نیوز کہلائی جا سکتی ہیں اور یہی فیک نیوز سوشل میڈیا کے ٹرینڈز بناتی ہیں۔

گوگل کے سابق ڈیزائن ایتھسسٹ ٹریسٹان ہیرس کہتے ہیں کہ ”اگر آپ لوگوں سے پوچھیں کہ آج کی ٹیکنالوجی سے انہیں کیا شکایت ہے کہ تو ان کا جواب کیا ہو گا؟ ان کا جواب ہو گا فیک نیوز زیادہ ہو گئی ہے ، ان کا ڈیٹا اور پرسنل انفارمیشن چوری کی جا رہی ہے ، الیکشنز چوری کیے جا رہے ہیں۔ الیکشنز چوری کرنے کی مثال شاید ہمارے ممالک میں اور قسم کی ہے یا ہو سکتی ہے لیکن ماڈرن جمہوری ممالک میں رویوں اور ری ایکشنز کو ایک خاص سمت میں موڑ لینا ہی دراصل الیکشن مینوپولیشن ہے۔

میٹریکس فلم اکثر لوگوں نے دیکھی ہو گی،  اس فلم میں لوگ ایک جناتی میٹریکس میں زندہ ہوتے ہیں لیکن انہیں اس کا احساس نہیں ہوتا بالکل اسی طرح ہم سب بھی ٹیکنالوجی کے میٹریکس میں بری طرح پھنسے ہوئے ہیں لیکن ہمیں اس کا احساس نہیں۔

تیسری بات جو ڈاکیومنٹری میں بتائی گئی ہے ، وہ سوشل میڈیا اڈکشن ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں اپنا عادی بنا دیتا ہے ، ہمیں پتہ بھی نہیں چلتا اور ہم اس کے عادی بن جاتے ہیں۔ جو کیمیکل ڈرگ استعمال کرنے پہ دماغ سے نکلتے ہیں وہی کیمیکل سوشل میڈیا استعمال کرنے سے ہمارے دماغ سے خارج ہوتے ہیں۔ جب کوئی ہماری پوسٹ کو لائیک کرتا ہے ، اس پر اچھے تبصرے کرتا ہے تو ہمارے دماغ میں ڈوپامین ہارمون خارج ہوتا ہے۔ مگر ایسا نہیں ہے کہ ہر وقت ہماری سب پوسٹ سب کو پسند آئیں اور ہمیں اپنی مرضی کے تبصرے اور پسندیدگی نہیں ملتی تو ہم ڈپریس ہونا شروع ہو جاتے ہیں کیونکہ ہم پسندیدگی کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں۔

آپ نے شاید سوچا بھی نہ ہو کہ زیادہ تر سوشل میڈیا یوزرز کے لیے لائیکس، کومنٹس اور تعریف کسی آکسیجن سے کم نہیں اور لائیکس کی کمی انہیں نفسیاتی طور پر ڈپریس کر سکتی ہے۔ سوشل میڈیا پر عدم توجہی کا شکار خود کشی تک کر سکتے ہیں ، ایک نئی تحقیق یہ ثابت کرتی ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال اور نفسیاتی اور دماغی عارضوں کا براہ راست تعلق بنتا ہے۔

سوشل میڈیا بالکل بھی فری آف کاسٹ نہیں ہیں، یہ سب سوشل میڈیا نیٹ ورک آپ کی توجہ پانے کے لئے ایک دوسرے سے مقابلے کی دوڑ میں لگے ہوتے ہیں۔

اس ڈاکیومنٹری میں یہ بات کہی گئی ہے کہ اگر آپ کسی پروڈکٹ کے لئے قیمت ادا نہیں کرتے تو آپ خود ایک پروڈکٹ ہیں ، آپ کا گزارا ہوا وقت سوشل میڈیا پر ان کے لیے پروڈکٹ ہے جسے وہ سیل کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا نیٹ ورک آپ کے دماغ میں اپنی مرضی کے خیالات داخل کرتے ہیں ، اس کے ذریعے آپ کے رویے کو تبدیل کیا جا سکتا ہے ، آپ کا نظریے اور آپ کی سوچ کو بدلا جا سکتا ہے۔

چوتھی چیز جو اس ڈاکومنٹری دکھائی گئی ہے کہ ہمیں پتا ہی نہیں ہے وہ ہمارا ڈیٹا ہماری معلومات حاصل کر کے اسے ہمارے ہی خلاف استعمال کرتے ہیں۔ آپ جو چیز بھی سوشل میڈیا پر دیکھ رہے ہوتے ہیں ، اس پر نظر رکھی جاتی ہے ، اسے ٹریک کیا جاتا ہے اور اس کو ناپا جاتا ہے ، جانچا جاتا ہے آپ کی ہر چھوٹی سے لے کر بڑی سرگرمی کو ریکارڈ کیا جاتا ہے ، اسے مانیٹر کیا جاتا ہے۔

جب آپ کسی بھی سوشل میڈیا نیٹ ورک فیس بک وغیرہ پر اسکرول کر رہے ہوتے ہیں تم وہ بھی نوٹ کیا جا رہا ہوتا ہے کہ آپ کیا چیز دیکھ کے کتنی دیر کے لے رکے ، کیا پسند یا کیا ناپسند کیا ، کیا شیئر کیا تاکہ وہ آپ کی شخصیت سمجھ سکیں ، وہ اس کے ذریعے آپ کو جانچتے ہیں اور پہچانتے ہیں۔  وہ آپ کے موڈ کو جان رہے ہوتے ہیں کہ کب آپ خوش ہیں اور کب ناخوش ہیں ۔ کب ڈپریس ہیں ، وہ سب سے واقف ہوتے ہیں ۔ یہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس ہم سے زیادہ ہمارے بارے میں جانتے ہیں۔

سوشل میڈیا نیٹ ورکس آپ کا نیٹ ڈیٹا کا تجزیہ کر کے آپ کی معلومات استعمال کر کے آپ کا ایک ڈیجیٹل خاکہ تیار کرتے ہیں۔ جیسے Artificial Intelligence AI کہا جاتا ہے جو آپ کے آن لائن نظریے کی پیشگوئی کرتا ہے اور پھر اسی لحاظ سے آپ کو کون سا کونٹینٹ دکھانا چاہیے ، تجویز کرتا ہے اور اسے آپ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ جو سوشل میڈیا کمپنی ہمارا جتنا مکمل ڈیجیٹل ماڈل تیار کرتی ہے ، اس کی کمائی اتنی اچھی ہوتی ہے ، انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کب کیا کرنے والے ہیں۔

Artificial Intelligence ایک کمپیوٹر پروگرام ہے جو خود سے سیھکنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور خود سے مزید آگے بڑھتا جاتا ہے اور یہ سسٹم سوشل میڈیا کمپنیوں کو پیسے کما کر دے رہا ہے۔

اکثر یہ AI ہمیں ایک ہی جیسا مواد بار بار دکھاتا ہے اور انہیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ اس کا اثر ہم پر مثبت ہو رہا ہے یا منفی ، ان کا صرف ایک ہی مقصد ہے ، ہمیں اسکرین کے ساتھ مصروف رکھنا جس میں وہ کامیاب رہتے ہیں۔ آپ نے نوٹ کیا ہو گا کبھی ہم ایک منٹ کا سوچ کر فون استعمال کرنے کے لے اٹھاتے ہیں اور ہمیں اندازہ ہی نہیں ہوتا ۔ ہم ایک گھنٹہ فون استعمال کرلیتے ہیں ۔ دراصل ان چیزوں کو کچھ ڈیزائن ہی اس طرح سے کیا جاتا ہے کہ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ان پر اپنا وقت لگا دیتے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلاصفحہ کا بٹن دبائیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Pages: 1 2 3