میتھیو رکارڈ: دنیا کے ’سب سے خوش انسان‘ کی خوشی کا راز آخر کیا ہے؟

آئرین ہرنینڈیز ولاسکو - بی بی سی نیوز، منڈو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Matthieu Ricard.
Getty Images
وسکونسن یونیورسٹی کے سائنسدان گذشتہ کئی برسوں سے نیپال کی ’شیچن ٹینیئی ڈارجیلنگ‘ خانقاہ میں بودھ بھکشو (راہب) میتھیو رکارڈ نامی شخص کے دماغ کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ میتھیو رکارڈ مولیکیولیر بائیولوجی کے ماہر اور ڈاکٹر بھی ہیں۔ وہ دلائی لامہ کے ذاتی مشیر اور اُن کے مترجم بھی ہیں۔

74 سالہ میتھیو کے دماغ کے مطالعے سے حاصل ہونے والے نتائج دیکھ کر سائنسدان دنگ رہ گئے ہیں۔

محققین نے رکارڈ کے دماغ کا نیوکلیئر ایم آر آئی کیا جو تین گھنٹے تک جاری رہا۔

سائنسدانوں نے اُن کے سر پر 256 سینسر لگائے تاکہ ان کے ذہنی دباؤ، چڑچڑے پن، غصے، خوشی، اطمینان اور درجنوں دیگر مختلف کیفیات اور احساسات کی سطح کا اندازہ لگا سکیں۔ انھوں نے دیگر سینکڑوں رضاکاروں کے دماغ کے ساتھ بھی ایسا ہی کیا۔

حاصل کردہ نتائج نے اس تجربے میں شریک ہر ایک شخص کی خوشی کی سطح کو ایک مخصوص پیمانے پر ناپا جس میں 0.3 (بہت ناخوش) سے منفی 0.3 (بہت خوش) تھا۔

میتھیو رکارڈ کو اس پیمانے پر منفی 0.45 نمبر حاصل ہوئے، مطلب یہ ہوا کہ میتھیو اتنے خوش تھے کہ ان کی خوشی کا نمبر اسے ناپنے والے پیمانے پر بھی دستیاب نہیں تھا۔

اور یوں انھیں ’دنیا کا سب سے زیادہ خوش آدمی‘ قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

خوش رہنے کے پانچ طریقے

حقیقی خوشی دولت سے نہیں ملتی: نئی تحقیق

صرف 10 منٹ کی مشق خوشی میں اضافے کی ضامن!

میتھیو رکارڈ، معروف فرانسیسی فلاسفر ژان فرانسوا ریویل اور مصور یحنی لی ٹوملین کے بیٹے ہیں۔ انھوں نے اپنے دوست اور فلسفی الیگزانڈر جولیئن اور نفسیاتی ماہر کرسٹوف آندرے کے ساتھ مل کر ایک دلچسپ کتاب لکھی ہے جو فرانس میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب بنی ہے اور اب یہ ہسپانوی زبان میں ’لانگ لئیو فریڈم!‘ کے عنوان سے چھپ رہی ہے۔

یہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں تینوں مصنفین نے ہمیں اپنے خوف، صدمات، تعصبات اور غلط عادتوں پر قابو پانے کے بارے میں بتایا ہے۔ مختصراً اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ان رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جائے جو ہمیں خوش رہنے سے روکتی ہیں۔

ہم نے رکارڈ سے ان سب اور دیگر امور کے بارے میں بات کی۔ ان سے کیے گئے سوالات اور ان کے جواب ذیل میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

آپ کو دنیا کا سب سے خوش آدمی قرار دیا گیا ہے، آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟

پانچ سیکنڈ کے لیے سوچیں: کوئی شخص سات ارب انسانوں کی خوشی کی سطح کو کیسے جان سکتا ہے؟ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی، یقینی طور پر سائنسی نقطہ نظر سے تو نہیں۔

یہ سب ایک برطانوی اخبار کے ایک مضمون سے شروع ہوا تھا جو وسکونسن میں رچرڈ ڈیوڈسن کی نیورو سائنس لیبارٹری میں کی گئی تحقیق کی بنیاد پر لکھا گیا تھا اور اس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ مجھ جیسے لوگ جو طویل عرصے سے مراقبہ کر رہے ہیں (اس مطالعے میں حصہ لینے والوں میں 15 افراد شامل تھے) وہ دماغ کے کچھ حصوں میں ایک احساس جگاتے ہیں جو ہمدردی پر مبنی ہے (خوشی پر نہیں!) اور اب تک نیورو سائنس میں اُس کی اِس سے اونچی سطح نہیں دیکھی گئی ہے۔

تو یہ ’دنیا کے سب سے بڑے لطیفے‘ کی طرح ہے ، لیکن یہ بار بار سامنے آتا رہتا ہے۔

Ricard.

Getty Images

آپ کے نزدیک خوشی کیا ہے؟

خوشی محض خوشگوار احساسات کا ناختم ہونے والا سلسلہ نہیں ہے، یہ تو تھکا دینے والے ایک نسخے کی طرح لگتا ہے۔

بلکہ یوں کہیے کہ یہ زندگی گزارنے کا ایک عمدہ طریقہ ہے جو بہت ساری بنیادی خوبیوں کا مجموعہ ہے جیسا کہ جذبہ ایثار، ہمدردی، اندرونی آزادی، پختگی، جذباتی توازن، اندرونی توازن، اندرونی امن اور دیگر کئی خوبیاں۔

خوشی کے برعکس ان تمام خصوصیات میں ایسی صلاحیتیں ہیں جو ذہنی مشق اور تربیت کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہیں۔

کیا آپ خود کو ایک خوش انسان سمجھتے ہیں؟

اگر میں ’دنیا کا سب سے خوش شخص‘ نہ بھی ہوں تب بھی جو وجوہات میں نے ابھی بیان کی ہیں اُن کی بنا پر میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں ناخوش ہوں۔

میں نے ایک زبردست زندگی گزاری ہے جس کے دوران میں زیرک مردوں اور خواتین سے ملا ہوں جو میرے روحانی اساتذہ ہیں۔

میں اس لیے بھی ٹھیک ہوں کیونکہ میں بہت آسانی سے مطمئن ہو جاتا ہوں۔ میں نے اپنی کتابوں اور تصویروں سے حاصل ہونے والی تمام رقم انسانیت کی فلاح کے لیے عطیہ کی ہے۔

20 سال پہلے میں نے ایک انسان دوست تنظیم ’کارونا شیچن‘ کی بنیاد رکھی، جو اب ہر سال صحت، تعلیم اور سماجی خدمات کے شعبے میں تین لاکھ سے زیادہ افراد کی مدد کرتی ہے خاص طور پر انڈیا، نیپال اور تبت میں اور جلد ہی فرانس میں بھی ایسا کیا جائے گا۔ اور یہ میرے لیے اطمینان کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

روحانی مشق کی بدولت، میں ذاتی طور پر زندگی کے ہر لمحے سے لطف اندوز ہوتا ہوں اور دوسروں کی خدمت میں حاضر رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔

اور خوشی کا راز کیا ہے؟

سخاوت اور ہمدردی۔

خوشی کی تلاش میں خود غرضی کام نہیں آتی، یہ ایک ہارنے والی صورتحال ہے۔ آپ اپنی زندگی کو بھی مشکل بنا دیتے ہیں اور دوسروں کی زندگی بھی خراب کر دیتے ہیں۔

جبکہ جذبہ ایثار کامیاب ہونے کی صورتحال بنا دیتا ہے۔

اس کا مقصد یہ ہے کہ دوسروں کو خوشی ملے اور ان کے دکھوں کا ازالہ کیا جا سکے، اور بدلے میں انسان نیک اور مہربان بن کر بڑی خوشی محسوس کرتا ہے۔

آپ مجرد رہے ہیں، اور 30 سال کی عمر سے ہی جنسی تعلقات قائم نہیں کیے ہیں اور آپ کے پاس دولت بھی نہیں ہے، آپ جو بھی کماتے ہیں وہ خیرات میں دے دیتے ہیں۔ جدید ثقافت کی دو سب سے نمایاں علامت ہیں سیکس اور پیسہ۔ ان دونوں میں برائی کیا ہے؟

کوئی غلط بات نہیں ہے۔ یہ جنسی خواہشات اور دولت کی خواہش نہیں جو تکلیف کا سبب بنتی ہے، بلکہ ہماری ان سے وابستگی ہے۔

جس لمحے آپ پر دولت سمیٹنے اور بٹورنے کا جنون سوار ہوجائے تو یقین کریں کہ تکالیف میں اضافہ ہو گا۔

دولت کو اپنے پاس رکھنا مسئلہ ہے، ہمیں اس کی لت لگ جاتی ہے۔

Dalai Lama y Ricard.

Getty Images

اب آپ کی شخصیت کے دوسرے رُخ، یعنی ماہر حیاتیات کے لیے ایک سوال: کیا افسردگی ایک ایسا احساس ہے جسے ہم اپنے دماغ میں پیدا کرتے ہیں یا معاشرہ ہمیں ناخوش کرتا ہے؟

متعدد مطالعات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر ذہنی توجہ بٹی ہوئی ہو تو ایسا دماغ خوش نہیں ہوتا، ہر وقت غور و فکر میں مشغول ذہن خوش نہیں ہوتا اور اپنی اہمیت کا ضرورت سے زیادہ احساس بھی خوشی کا باعث نہیں بنتا۔

کیا آج کی دنیا میں بدھ بھکشو بنے بغیر خوش رہنا ممکن ہے؟

بلکل! یہ تو افسوس کی بات ہو گی کہ خوشی صرف بدھ مت کے ماننے والوں یا راہبوں تک ہی محدود رہے!

صرف نرم مزاجی، ہمدردی، دوسروں کے لیے دل کھلا رکھ کر، اور آسانی سے بیرونی حالات سے مطمئن ہو کر دنیا میں کوئی بھی عورت یا مرد سب سے زیادہ خوش ہو سکتا ہے۔

کیا آپ ہمیشہ خوش رہتے ہیں یا اس حالت تک پہنچنے کے لیے آپ نے بہت طویل سفر طے کیا ہے؟

وہ دوست جو مجھے نوعمری سے جانتے ہیں (کچھ اب بھی زندہ ہیں) کہتے ہیں کہ میں ایک چڑچڑا نوجوان تھا۔

لہذا میرا اندازہ ہے کہ میں نے تھوڑی سی پیشرفت کی ہے، حالانکہ ابھی مجھے بہت طویل سفر طے کرنا ہے۔

کیا خوشی کا دارومدار جینیات پر ہے، جس کے ساتھ آپ پیدا ہوئے ہیں، یا یہ وہ چیز ہے جسے آپ سیکھ سکتے ہیں؟

ہم سب کے جینیاتی ورثے کی وجہ سے قدرتی طور پر ہمارے مختلف رجحانات ہوتے ہیں۔ لیکن ان کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

ہم تولیدی مطالعات کی وجہ سے یہ علم رکھتے ہیں کہ بیرونی حالات کی وجہ سے ہماری جینیات کے کچھ پہلوؤں کا اظہار ہو بھی سکتا ہے یا نہیں۔

دماغی نیوروپلاسٹسٹی کی بدولت ہم دماغی علوم کے ذریعے یہ بھی جانتے ہیں کہ تربیت کے ذریعے تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں۔

اور ہم نظریاتی روایات کے ذریعے یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر ہم ایک لمبے عرصے تک ان بنیادی انسانی خوبیوں کا، جن کا میں نے ذکر کیا، خاص طور پر جذبہ ایثار دکھائیں تو ہم مستقبل کے لیے ضرور بدل سکتے ہیں۔

Matthieu Ricard.

Getty Images

کیا دنیا کا سب سے خوش آدمی غمگین بھی ہوتا ہے؟

بلاشبہ، دنیا میں قتل و غارت گری، ناانصافی، امتیازی سلوک، زیادتی، معاشرتی ناانصافی، بہت زیادہ غربت، جانوروں کا بےجا استحصال وغیرہ کے عالم میں غمزدہ ہونا ایک عام سی اور جائز بات ہے۔

لیکن اس اداسی کو ہمدردی کا باعث بننا چاہیے تاکہ لوگوں کی تکلیفوں کے بارے میں کچھ کیا جا سکے۔

اداسی مایوسی نہیں ہے، یہ حقیقی طور پر پھلنے پھولنے کے ساتھ ہم آہنگی رکھتی ہے۔

آپ نے اپنی تازہ کتاب ویووا لا ایل ریئڈوم میں اس بات کی عکاسی کی ہے کہ اندرونی آزادی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ لیکن یہ اندرونی آزادی کیا ہے؟

اندرونی آزادی ذہنی خصلتوں، خیالات میں گم ہونا اور ذہنی پیش گوئیوں سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے جو آخر کار مایوسی اور تکالیف میں بدل جاتی ہیں۔

Matthieu Ricard.

Getty Images

اگر ہم اندرونی آزادی حاصل نہیں کرتے ہیں تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم غلام ہیں؟ اور ہم کس کے غلام ہیں؟

’غلام‘ شاید ایک اہم لفظ ہے، لیکن جب نفرت، خواہشات، مستقل طور پر حسد اور تکبر و غرور ہم پر مکمل طور پر حاوی ہو جاتے ہیں تو ہم کسی نہ کسی طرح اپنی ذہنی خرافات کے غلام بن جاتے ہیں۔

اس صورت میں ہمارا ذہن آزادی سے بہت دور ہو جاتا ہے اور اندھا دھند دلکشی اور نفرت کی پیروی کرتا ہے اور اس سوچ کے ساتھ ایک قسم کا ٹھوس وجود منسوب کر لیتا ہے اور یوں ہم یقین کر لیتے ہیں کہ کچھ لوگ پسند کے قابل ہیں اور کچھ سے نفرت کی جا سکتی ہے لیکن دراصل ایسا ہوتا نہیں ہے۔

کیا ہر کوئی اندرونی آزادی حاصل کر سکتا ہے؟

کیوں نہیں؟ آخر یہ ہمارا اپنا ذہن ہے۔

بیرونی حالات پر ہمارا قابو محدود اور مختصر اور اکثر غیر یقینی ہوتا ہے، لیکن ہم صبح سے رات تک اس سے نمٹنے کے لیے اپنے دماغ سے کام لے سکتے ہیں۔

ہمارا ذہن ہمارا بہترین دوست یا ہمارا بدترین دشمن ہو سکتا ہے۔ یہ ذہن ہی ہے جو بیرونی حالات کو خوشی یا غم میں بدل دیتا ہے۔

لہذا اگر ہم اس بگڑے ہوئے بچے یعنی اپنے سوچ کی تربیت کر لیں اور اس پر تھوڑا سا قابو پا لیں تو یہ ہمارے بہت سے رجحانات جن کے ہم عادی ہو چکے ہیں اور خودکار افکار سے خود کو آزاد کرنے کے لیے کافی مددگار ہو سکتا ہے اور یوں ہم زیادہ خوش ہوں گے۔

Matthieu Ricard.

Getty Images

اندرونی آزادی کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ کیا ہے؟

بہت ساری رکاوٹیں ہیں، جن میں تکلیف کا عادی ہونا، اپنی تمام تر ذہنی حالتوں کی آنکھیں بند کر کے پیروی کرنا، اور ہم سب کے اندر موجود تبدیلی کے امکان کو تسلیم کرنے میں ناکام رہنا شامل ہیں۔

لیکن بنیادی رکاوٹ ذہنی الجھن، سمجھداری اور دانائی کی کمی ہے۔

اگر آپ اندرونی آزادی حاصل کرنے کے لیے صرف ایک مشورہ دے سکتے ہیں تو وہ کیا ہو گا؟

کوئی ایک حربہ نہیں ہے۔ اس میں وقت اور ثابت قدمی کی ضرورت ہوتی ہے لیکن یہ زندگی کی سب سے متاثر کن مہم ہے۔

ایک چیز یقینی ہے: ہمیں خود غرضی سے چھٹکارا حاصل کرنا ہو گا اور احسان، فلاح اور ہمدردی کا احساس پیدا کرنا ہو گا۔

کیا ہمارا دماغ اندرونی آزادی کے حصول کے لیے بنایا گیا ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو اسے حاصل کرنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

ہمارا دماغ کسی ایک طرح سے ڈیزائن نہیں کیا گیا ہے۔

دماغ حسب منشا ڈھل جاتا ہے اور اس صفت کی بدولت، یہ ویسا ہی ہو جاتا ہے جس کی ہم اسے عادت ڈالتے ہیں: اگر ہم ہر وقت غصے میں رہتے ہیں تو اسی طرح کے خیالات کی ترویج کرنے والے حصے تقویت پائیں گے۔

اگر ہم جذبہ ایثار اور جذباتی توازن کی عادت ڈالیں تو اسی طرح کے خیالات کی ترویج کرنے والے حصوں کو تقویت ملے گی۔

تمام نیورو سائنسی مطالعات سے یہ ظاہر ہوا ہے کہ توجہ، ہمدردی اور خود کو جنونی خیالات سے آزاد کرنا دماغ میں عملی طور پر اور اس کی ساخت میں تبدیلیاں پیدا کرتا ہے۔

آپ ایک مولیکیولر بائیولجسٹ اور بدھ راہب ہیں۔ داخلی آزادی حاصل کرنے کے لیے آپ نے حیاتیات اور بدھ مت سے کیا سیکھا؟

یہ واقعی بہت اچھا موضوع ہے۔

سائنس نے مجھے حقیقت کے بارے میں سخت نقطہ نظر سے متعارف کروایا جو اندھے عقیدے کے برعکس ہے۔

سائنس نے مجھے ہر طرح کی دیوانہ وار چیزوں پر یقین کرنے سے آزاد کیا، جو کہ ان دنوں زیادہ سے زیادہ ہوتا ہے۔

جہاں تک بدھ مت کی بات ہے تو، اس نے مجھے اندرونی آزادی کی کنجی دی ہے جو زندگی بھر کی مشق کے ذریعہ حاصل کی جا سکتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17968 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp