جو دے اس کا بھلا، جو نہ دے اس کا بھی بھلا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پرانے زمانے میں ایک رواج یہ تھا کہ شہر کا بادشاہ مر جاتا تو لاٹری سکیم کے تحت نیا بادشاہ چنا جاتا۔ لاٹری سکیم کا ایک طریقہ تو یہ ہوتا کہ شہر کے سب لوگ ایک میدان میں جمع ہو جاتے اور ہما نامی کسی پرند کا انتظار کرتے۔ یہ پرند جس کے بھی سر پر بیٹھ جاتا اسے بادشاہ بنا لیتے۔ بعد میں غالباً کسی محلاتی سازش یا اندھا دھند شکار کے نتیجے میں یہ پرند ناپید ہو گیا اور آج ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ یہ مذکر تھا یا مونث۔

بہرحال اس کے بعد بادشاہ چننے کے لیے نیا طریقہ سوچا گیا۔ اب بادشاہ مرتا تو سب لوگ شہر کا دروازہ بند کر کے بیٹھ جاتے۔ اگلی صبح جو شخص بھی سب سے پہلے شہر میں داخل ہوتا اسے بادشاہ بنا دیتے۔

یہ تحقیق نہیں ہو پایا کہ شہر والے احساس کمتری میں مبتلا تھے اور امپورٹڈ سامان کے علاوہ امپورٹڈ حکمران کو بھی ترجیح دینے لگے تھے یا پھر وہ اس حد تک ایک دوسرے کے کردار سے واقف تھے کہ کہتے تھے کہ ان سب سے بہتر ہے کہ باہر سے کوئی حکمران آ جائے خواہ وہ شیطان ہی کیوں نہ ہو۔ بہرحال جو بھی وجہ ہو، ہونے یہ لگا کہ کبھی تو کوئی جلاوطن شہزادہ اس شہر کا حکمران بن جاتا، کبھی کوئی سوداگر، اور کبھی کوئی عالمی مہاجنوں کا کارندہ۔

لیکن ایک مرتبہ ایک شہر کی قسمت ایسی پھوٹی کہ ایک جلاوطن شہزادہ شہر میں سب سے پہلے داخل ہونے کو تھا کہ باہر بیٹھا ایک گدا اس کے دامن سے ویسے لپٹ گیا جیسے کوئی منحوس مکھی کچھ اچھا کھاتے بندے سے چپک جاتی ہے۔ لاکھ ہاتھ جھٹکو، برا بھلا کہو، مارنے کو دوڑو، کم بخت جان ہی نہیں چھوڑتی۔ ایک طویل جد و جہد میں مشغول رہتی ہے۔ پلٹ کر جھپٹتی اور جھپٹ کر پلٹتی ہے اور بندے کا لہو گرم کر کے رکھ دیتی ہے۔

یہ گدا بھی شہزادے کو ایسے ہی چپکا۔ شہزادے کے راستے میں دھرنا دے کر بیٹھ گیا۔ شہزادے نے لاکھ جان چھڑانے کی کوشش کی، منع کیا، برا بھلا کہا، آخر تنگ آ کر اس نے تلوار اٹھائی اور گدا کو مارنے کو دوڑا۔ اب چشم فلک نے یہ منظر دیکھا کہ گدا آگے آگے یوں اندھا دھند دوڑ رہا تھا جیسے وہ ایک سب رفتار گدھا ہو، اور شہزادہ تلوار لہراتا پیچھے پیچھے تھا۔

اچانک فضا میں مبارک سلامت کی صدا گونجنے لگی۔ پھول برسنے لگے۔ امیر وزیر اور سپہ سالار آگے بڑھے اور رواج کے مطابق شہر کے دروازے میں سب سے پہلے داخل ہونے والے کے سر پر تاج رکھ دیا۔

گدا تو اپنی جان بچا کر دوڑ رہا تھا۔ اس کے سان گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ماجرا پیش آئے گا اور وہ بادشاہ بن جائے گا۔ اس نے فوراً اپنا پہلا حکم جاری کیا اور شہزادے کو شہر سے باہر نکال دیا۔

اب ہوا یہ کہ گدا بادشاہ کو پیسہ کمانے کے نام پر نہ صنعت و حرفت کا علم تھا، نہ تجارت جانتا تھا۔ اس کی پالیسیوں کے نتیجے میں یہ سب کام ٹھپ ہوئے۔ خزانہ خالی ہوتا تو جو واحد طریقہ اسے آتا تھا، اسی سے خزانے کے کا پیٹ بھرتا۔ مقامی مہاجنوں سے قرضہ لینے کے بعد اس نے پاس پڑوس اور پھر دور دراز کے عالمی مہاجنوں سے بھی قرضہ لیا۔ انہوں نے بیاج کا تقاضا کیا اور نیا قرض دینا بند کیا تو پھر شاہ گدا نے زبردستی ایسے انداز میں شہریوں سے پیسہ لینا شروع کر دیا جیسے یہ اس کا حق ہو۔ پشت پر اس کے سپہ کھڑی تھی اس لیے کسی شہری کی چوں چرا کرنے کی جرات نہ تھی۔

کوئی شہری تنگ دستی کی شکایت کرتا تو شاہ گدا اسے سبز باغ دکھا کر خیالی پلاؤ کھلاتا۔ بلند بانگ دعوے کرتا کہ بس چند دن انتظار کرو پھر میلہ لگے گا اور میں ایسی دھمال ڈالوں گا کہ دوسرے شہروں کے لوگ یہاں بھیک مانگنے آیا کریں گے۔ پھر شاہ گدا اپنا کشکول اسے دکھا کر دھمال ڈالنے کا کہتا اور بتاتا کہ سکھ اسی میں ہے کہ کوئی دوسرا کمائے اور بندہ کھائے اور پیٹ بھرے تو دھمال ڈالے۔ وہ بھوکے کو سرکاری لنگر کا پتہ بتاتا اور کہتا ”سرکاری لنگر جاؤ وہاں حلوہ ملے گا، میں خود وہیں سے حلوہ لاتا ہوں اور جی بھر کر کھاتا ہوں۔“ برسوں مختلف درگاہوں کے چکر کاٹنے کے بعد شاہ گدا کا خیال تھا لنگر موجود ہو تو کوئی بھوکا نہیں رہ سکتا اور لنگر کھا کر جو خمار چڑھتا ہے اسے وہ روحانیت کا فیضان سمجھتا۔

اب ہوا یہ کہ کاروبار بند ہوا۔ تجارت ٹھپ ہوئی۔ جو شرفا شہر چھوڑ کر جا سکتے تھے، وہ دوسرے شہروں میں جانے لگے۔ مہاجنوں نے بھی قرض دینا بند کر دیا۔ نتیجہ یہ کہ سپہ کو دینے کے لیے بھی خزانے میں پھوٹی کوڑی نہ رہی۔ یہ دیکھ کر غنیموں کے حوصلے بلند ہوئے۔ انہوں نے شہر پر لشکر کشی کر دی۔

شہر والے شاہ گدا کے دربار میں حاضر ہوئے اور اس سے درخواست کی کہ وہ سپہ کی قیادت کرے اور غنیم کو شکست دے۔ شاہ گدا نے یہ سنا کہ دشمن کا ایک بڑا لشکر شہر پناہ کے باہر چھاؤنی جمائے بیٹھا ہے تو اس کی آنکھ میں چمک پیدا ہوئی۔

اس نے اپنا عصا تھاما اور شہر پناہ کے دروازے کی سمت چلا۔ شہری پیچھے دوڑے کہ ہمارا بادشاہ اب لشکر کی قیادت کرے گا اور دشمن کو شکست دے گا۔ شاہ گدا دروازے سے باہر نکلا، مڑ کر شہریوں کی طرف دیکھا اور کہا ”مجھے ویسا شہر ہی نہیں ملا جیسا میں چاہتا تھا۔ اب میرے بعد کل صبح تم شہر کا دروازہ کھول دینا اور جو پہلے اندر آئے اسے اپنا بادشاہ بنا دینا۔ میں دعا کروں گا کہ شہر میں آنے والا لشکر تمہیں خوب نوازے، مت بھولو کہ سکون تو صرف قبر میں ہے“

پھر اس نے جھولی سے اپنا کشکول نکالا اور غنیم کے لشکر کی طرف بڑھتے ہوئے کہنے لگا ”جو دے اس کا بھلا، جو نہ دے اس کا بھی بھلا“ ۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1361 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar