ننھا پنچھی اور امید کی کرن

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کھڑکی کے پردے صبح کی ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے جھوم رہے تھے اور سورج کی ننھی کرنیں کھڑکی سے کمرے میں جھانک رہی تھیں پرندوں کی چہچہاہٹ نے اسے خوابوں کی حسین وادی سے حقیقت کی دنیا میں لا کھڑا کیا۔

لاریب آنکھیں ملتے ہوئے بیدار ہوئی تو تلخ حقیقتوں نے ایک بار پھر اس کے دماغ کو جکڑ لیا اس کے ذہن میں تمام مسائل کی ریل چلنے لگی اور خوشگوار صبح میں اس کے چہرے پہ بارہ بج گئے۔ ابھی وہ سوچوں کے سمندر میں غرق مایوسی کی عمیق گہرائیوں میں ڈوبی ہی ہوئی تھی کہ اچانک اسے کمرے می شوروغوغا سنائی دیا۔

خیالات کو جھٹک کر اس نے جوں ہی گردن اوپر اٹھائی تو کمرے ایک کارنر میں پڑی میز پر چڑیا کا ننھا بچہ دکھائی دیا۔ جو اڑان سیکھنے کی مشق کرتے کرتے وہاں گر گیا تھا۔ وہ ابھی اڑنا سیکھ رہا تھا

پریشانی کے عالم میں ننھا پرندہ کبھی ادھر اڑان بھرتا تو کبھی ادھر پھدکتا۔ چڑا چڑیا بے تابی کے عالم میں کبھی اس کے پاس آتے کبھی واپس روشن دان میں جا کر بیٹھ جاتے اور اپنے نوادر کی اڑنے کی کاوشوں کو سراہتے، حوصلہ اور ہمت دیتے۔

لاریب بڑے انہماک سے یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ ننھی چڑیا کے باہر نکلنے کا واحد راستہ وہ روشن دان تھا جس کے ذریعے وہ غلطی سے کمرے میں آ گیا تھا۔

منزل دور، ننھے پنکھ، بلند حوصلے اور ننھا پرندہ واقعی اس کے لیے دلچسپی کا سبب تھا۔ روشن دان دور ہونے اور اپنے ننھے پنکھ ہونے کے باوجود اس نے ہمت نا ہاری بلکہ جہد مسلسل جاری رکھی۔ اس کے ننھے پنکھ کچھ دیر اسے اڑاتے پھر زمین پہ پٹخ دیتے پر وہ ہمت ہارنے پہ راضی نا تھا۔

اسے دیکھتے دیکھتے لاریب ایک بار پھر سوچوں کے لامتناہی سلسلے میں داخل ہو چکی تھی۔ اس نے ننھے پنکھ، منزل دور ہونے کے باوجود ہمت نا ہاری تو ہم انسان کیوں ذرا سی ناکامی کے بعد سب چھوڑ کے بیٹھ جاتے ہیں؟

اس نے خود سے سوال کیا۔ اگر ہم بھی ذرا سی تکلیف پہ شکوہ کرنے کی بجائے اپنے زور بازو پہ بھروسا کرتے ہوئے کوشش جاری رکھیں تو یقیناً یہ فلک یہ ستارے اور یہ جہاں ہمارے قدموں میں ہوں گے۔ رب کی ذات پہ کامل بھروسا انسان کو ہر آزمائش میں سرخرو کرتا ہے۔

لاریب نے دل سے تہیہ کیا کہ وہ بھی ننھے پرندے کی طرح ہمت نہیں ہارے کی اور کوشش جاری رکھے گی۔ اس ننھے پرندے نے اس کی قوت کو اجاگر کیا اور وہ نئے ولولے کے ساتھ بستر سے اٹھی۔

اسی اثنا میں ننھے پنچھی نے آخری اور کامیاب اڑان بھری اور روشن دان میں بیٹھ کر خوشی سے چوں چوں کرنے لگا۔ لاریب مسکراتے ہوئے ننھے فاتح کو دیکھ رہی تھی جس نے اسے نئی ہمت دی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •