توکل

انسانی زندگی ان گنت تجربات اور لامحدود کوششوں سے عبارت ہے۔ انسان کو پیدائش سے لے کر آخری دم تک بہت سی باتیں فقرے نصحیتیں اور تجربات سننے کو ملتے ہیں لیکن کسی بھی بات کا بھید تب کھلتا ہے جب وہ انسان پہ بیتتی ہے یا انسان اس سے تب آشنا ہوتا ہے جب وہ بات تمام تر رازوں کو لیے خودبخود آپ کے سینے میں اتر کر آگہی کے ان گنت پردوں کو چاک کرتی ہے۔ ہر تجربہ

Read more

تذکرہ مہ و سال

گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ساہیوال ایک ایسا تاریخی دانش کدہ ہے جس نے نا جانے کتنے ذہنوں کی فکری سماجی اور اخلاقی آبیاری کی ہے۔ اس کی فضاوٴں میں عجب ترنم ہے جو اس سے محبت کرنے والوں کو محسوس ہوتا ہے۔ اس سے منسوب ہر فرد اس کا طالب علم ہونے پہ فخر کرتا ہے۔ یہ ایسا ادارہ ہے جو ہر نئے آنے والے کو اپنی پہچان بنانے کا جذبہ دیتا ہے۔ یا پھر شاید صرف ان کو جو

Read more

لاڈو کی گڑیا

جون کی سخت گرمی اپنے جوبن پہ تھی۔ سورج کی سنہری کرنیں پھول جسے چہروں کو سیاہ کر رہی تھیں۔ محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی جوالا مکھی پھٹ گئی ہو اور ہر شے کو اپنی لپیٹ لے رہی ہو۔ سڑکے کے کنارے درختوں کی لمبی قطار کسی فرشتے کا پر معلوم ہوتی تھی جس نے اپنے پر کے نیچے سینکڑوں جانداروں کو گرمی کی شدت سے بچا رکھا ہو۔ اس قطار میں برگد کے درخت کے نیچے سکول کی دیوار کے ساتھ ایک بارہ تیرہ برس کا ننھا آدھ کھلا پھول اپنی چھوٹی سی دنیا سجائے بیٹھا تھا۔

Read more

انسانوں کی طرح لڑنے والے پرندے

باہر جا کر دیکھا تو پنجرے میں بند آسٹریلین طوطے یوں لڑ رہے تھے گویا صدیوں سے دشمن ہوں۔ بہت کوشش کے بعد ان کو چھڑانے میں کامیاب ہوئی تو دیکھا کہ ایک کے سر سے خون کا فوارا ابل رہا تھا۔ مرتی کیا نہ کرتی بجھے دل کے ساتھ مرہم پٹی کرنے لگی ہی تھی کہ ڈور بیل نے متوجہ کر لیا۔ ننھی بسمہ نے اندر آتے ہی چلانا شروع کر دیا۔ یہ پھر لڑے ہیں، یہ کتنا لڑتے ہیں؟ بالکل انسانوں کی طرح لڑتے ہیں۔

اس آخری فقرے نے چند لمحات کے لیے میری سانسیں روک لیں۔ ششدر و پریشان بچی کو تکتی رہی پھر ہمت جمع کر کے سمجھایا کہ نہیں انسان ایسے نہیں لڑتے ہیں۔ بچی بضد تھی کہ انسان اس سے زیادہ برے طریقے سے لڑتے ہیں۔ ثبوت کے لیے اس کے پاس چند خبریں تھیں جو اس نے گزشتہ شب سن کر اپنے دماغ کے نہاں خانوں میں انسانوں کو ظالم اور سفاک تصور کیا تھا۔

Read more

سوشل میڈیا پر مردوں اور عورتوں میں نوک جھونک

جب بھی سوشل میڈیا کھولا، بہت سی پوسٹ اور کمنٹس پہ نظر پڑی۔ کہیں مرد کی سفاکی کا دکھ تھا تو کہیں عورت کی بے وفائی کا رونا تھا۔ کہیں عورتوں پہ طعنہ زنی کا بازار گرم ہوتا ہے تو کہیں مردوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہوتا ہے۔ خواتین کے مسائل اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے تو مرد حضرات پتھر مار کے اڑائی جانے والی شہد کی مکھیوں کی طرح ڈنک مارتے نظر آتے ہیں۔ تو کہیں مرد

Read more

ابن آدم اور طمع

سورج کی چندھیا دینے والی کرنیں بدن میں آگ لگا رہی تھیں۔ چلتے چلتے سانس پھولنے لگی تو رحمان چاچا اور ننھے یاور نے کچھ دیر سستانے کا فیصلہ کیا اور پگڈنڈی کے سامنے لگے درخت کے جانب چل دیے۔ اس درخت سے بہت سی تلخ یادیں منسوب تھیں۔ جگر چھلنی کر دینے والا واقعہ ان کی آنکھوں میں کسی بلیک اینڈ وائٹ فلم کی طرح گھوم رہا تھا۔ نگاہ اٹھا کے درخت کو دیکھا جو تمکنت سے آج بھی

Read more

تعلیم برائے نوکری کو نصب العین بنانے والے

پو پھٹتے ہی ہر طرف رونق لگ گئی ، کاروبار زندگی کا آغاز ہو گیا۔ ہر کوئی اپنے اپنے کاموں پہ جانے کی جلدی میں ہے۔ کچن میں برتنوں کی آواز ، صحن میں چڑیوں کا چہچہانا ، ہر طرف غل مچا ہوا ہے۔ اتنے میں بیڈ روم میں ماں کی آواز آئی۔ جو اپنے بیٹے کو نیند کی وادی سے حقیقت کی دنیا میں لانے کے جتن میں مصروف ہے۔ اٹھ جائیے بیٹا! سکول سے دیر ہو رہی ہے۔

Read more

خواجہ سراؤں کو جینے کا حق مل سکے گا؟

سرمئی شام آنگن میں اتر رہی تھی۔ پرندے شور مچاتے اپنے گھونسلوں کی جانب رواں دواں تھے۔ ہر شے پہ سکوت چھانے کو تھا سوائے آنگن کے کونے میں بیٹھی ماہ نور کے۔ لبوں پہ خاموشی لیے وہ اپنے دماغ میں اٹھنے والے طوفان کو شانت کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ نین کنارے احساس و مروت کے سبب تر تھے۔ خود کو رونے سے روکے وہ کسی حل کی تلاش میں تھی۔ حساس انسانوں کا یہی مسئلہ رہا ہے

Read more