مسجد قرطبہ کی تلاش میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح آٹھ بجے تک میں تیار تھا بلکہ ناشتہ بھی کر چکا تھا۔ نیچے لابی میں پہنچ کر جلدی سے چیک آؤٹ کیا۔ ہوٹل انتظامیہ نے فیور کرتے ہوئے میرا سامان امانت کے طور پر رکھ لیا اور میں ہلکا سا بیگ لے کر ٹیکسی میں بیٹھ کر ریلوے سٹیشن کے لئے روانہ ہوا۔ میڈرڈ ریلوے سٹیشن کافی بڑا اور با رونق ہے۔ چار پانچ گاڑیاں پلیٹ فارمز پر لگی ہوئی تھیں۔ قرطبہ جانے والی گاڑی کا معلوم کیا اور سوار ہو گیا۔ اپنی سیٹ کا نمبر چیک کیا اور بیٹھ گیا۔

گاڑی کے اندر صفائی کا معیار بہت اعلیٰ تھا۔ ہمارے ہاں ریل کار کی طرز کی سیٹیں تھیں جس پر مسافر آمنے سامنے بیٹھتے ہیں اور درمیان میں ایک میز ہوتی ہے۔ زیادہ تر مسافر پہلے سے موجود تھے باقی پہنچتے رہے۔ روانگی کے وقت کے مطابق گاڑی حرکت میں آ گئی اور سفر شروع ہوا۔ گاڑی کی حرکت اتنی ہموار اور بے آواز تھی کہ اس کا چلنا محسوس نہیں ہو رہا تھا البتہ باہر کے منظر کی پیچھے کی طرف روانی گاڑی کے چلنے کی شاہد تھی۔

شہر کی حدود کے دلچسپ مناظر پندرہ بیس منٹ تک دلچسپی کا باعث بنے رہے جس کے بعد دیہی علاقوں کی شفاف فضا جو کہ ہر جگہ تقریباً ایک جیسی ہوتی ہے۔ میڈرڈ سے قرطبہ 400 کلومیٹر کا فاصلہ تھا۔ راستے میں چند سٹیشنوں پر گاڑی رکتی رہی۔ مختلف سٹیشنوں پر ایک پلیٹ فارم سے دوسرے پر جانے کے لئے اوور ہیڈ پل کی بجائے زیر زمین راستے بنے ہوئے تھے جس کی وجہ سے سٹیشنز کے ماحول میں کشادگی تھی۔

دوپہر دو بجے کے قریب گاڑی قرطبہ پہنچ گئی۔ قرطبہ سٹیشن پر زیادہ بھیڑ نہ تھی۔ ٹیکسی کے ذریعے شہر پہنچا اور ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ تازہ دم ہو کر باہر نکل پڑا۔ قرطبہ انتہائی صاف اور پر سکون شہر لگا۔ سڑکوں پر ٹریفک بہت کم تھی اور کہیں بھی گہما گہمی نظر نہیں آئی۔ ماضی میں اس خطے کو اندلس کہا جاتا تھا۔ جب طارق بن زیاد نے اس علاقے کو فتح کیا تو قرطبہ کو اندلس کا دارالحکومت بنایا گیا۔ قرطبہ ایک زمانے میں دس لاکھ آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا شہر بھی شمار ہوتا رہا اور مسلمانوں کے دور حکومت میں یہاں یہودی عیسائی اور مسلمان مکمل ہم آہنگی میں سکونت پذیر تھے۔

یہاں عالیشان عمارات تعمیر کی گئیں جن میں سب سے پرشکوہ مسجد قرطبہ تھی جو کہ مسلمانوں کی شکست کے بعد گرجے میں تبدیل کر دی گئی۔ دس صدیوں سے زیادہ عرصہ بیت جانے کے باوجود عمارت کا جاہ و جلال ماند نہیں پڑا۔ قرطبہ میں میری دلچسپی صرف مسجد دیکھنے کی حد تک تھی۔ میں پیدل چلتا رہا۔ میرا خیال تھا کہ مسجد دور سے نظر آ جائے گی۔ کافی گھومنے کے بعد کوئی پتہ نہ چلا تو کچھ لوگوں سے پوچھا لیکن کچھ معلوم نہ ہو سکا۔ شاید وہ میری بات سمجھ نہیں رہے تھے۔

سڑکوں پر ویرانی سی تھی۔ ایک جگہ سے دو تین لوگ نکلے، میں نے سوچا یہ کوئی دکان ہے اور دکانداروں کو معلومات ہوتی ہیں۔ میں دکاندار سے راستہ معلوم کرنے کے لئے دکان میں داخل ہوا۔ وہاں سے مجھے معلومات تو مل گئیں مگر جسے میں دکان سمجھا وہ ایک پب تھا۔ میں سوچ رہا تھا کہ وہ بھی ایک وقت تھا جب مسجد میں اذان ہوا کرتی تو یہاں کے باسی مسجد کی جانب چل پڑتے ہوں گے۔ زمانے کی ستم ظریفی یہ کہ آج کوئی مسجد کا راستہ بتانے والا بھی نہیں اور اگر پتہ بھی چلا تو ایک شراب خانے سے۔

میں جلد مسجد تک پہنچ گیا۔ اس عمارت کو ایک نظر دیکھنے سے اس کی شان و شوکت اور وسعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ مسجد کی چوڑائی تقریباً پانچ سو فٹ اور لمبائی سات سو فٹ سے زیادہ ہے جبکہ چھت کی اونچائی تیس فٹ ہے جسے چودہ سو ستونوں نے اٹھایا ہوا ہے اور ہر دو ملحقہ ستون خوبصورت محرابوں سے جڑے ہوئے ایک مربوط ڈھانچہ بنائے ہوئے ہیں جو چھت کو مضبوط سہارا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک دیدہ زیب اندرونی منظر بھی پیش کر رہی ہیں۔

مسجد کے کل اکیس دروازے ہیں۔ میں جس طرف سے داخل ہوا وہاں پہلے ایک چھوٹے سے باغ میں گزر کر اندر راستہ جاتا ہے۔ زیادہ ستونوں کی وجہ سے اندر ہی اندر راستے بنے لگتے ہیں۔ مسجد کے ایک حصے میں گرجا بنا ہوا ہے جہاں اونچائی پر ایک سٹیج بنا ہے اور نیچے بیٹھنے والوں کے لئے کرسیاں لگی ہیں۔ مسجد کی محراب پر مختلف رنگوں میں خوبصورت قرآنی آیات لکھی ہوئی ہیں۔ محراب اور اس سے ملحقہ کچھ حصے کے گرد زنجیر لگا کر محفوظ کیا گیا ہے۔

مسجد کی تعمیر عبدالرحمن اول نے 785 عیسوی میں شروع کروائی تھی اور بعد میں آنے والے حکمران بھی کام کو آگے بڑھاتے رہے۔ 1246 عیسوی تک یہاں نماز پڑھی جاتی رہی۔ اس کے بعد یہاں گرجا بن گیا۔ اس کے بعد اس مسجد میں تا حال آخری نماز پڑھنے کا اعزاز علامہ اقبال کو ہوا۔ انہوں نے پہلے اذان دی اور پھر نماز ادا کی۔ انہوں نے مسجد کے قریب دریائے الکبیر کے کنارے بیٹھ کر مسجد پر ایک طویل نظم کہی۔ یہ نظم آٹھ بندوں پر مشتمل ہے اور ہر بند میں ایک نیا خیال پیش کیا گیا ہے۔ علامہ صاحب کا ایک مشہور شعر اسی نظم کا آخری شعر ہے

نقش ہیں سب نا تمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر

مسجد سے کچھ فاصلے پر الکزر واقع ہے۔ الکزر فورٹریس یا قلعہ کو کہتے ہیں۔ چلتے چلتے ایک خوبصورت سی پرانی عمارت نظر آئی جس کا بڑا سا گیٹ تھا جو کہ بند تھا اور باہر چوکیدار کھڑا ہوا تھا۔ میرے استفسار کرنے پر وہ کچھ نہ سمجھا اور جو جواب دیا گیا مجھے سمجھ نہ آیا، یوں زبان دانی کا مقابلہ برابر رہا البتہ اس نے گیٹ کھول دیا اور ہاتھ کے اشارے سے اندر جانے کی دعوت بھی دی۔ میں سمجھ گیا کہ کوئی دیکھنے کی جگہ ہے۔

گیٹ کے اندر داخل ہونے پر خود کو ایک خوبصورت باغ کے اندر پایا۔ بڑی جاذب راہداریاں اور رستے بنے ہوئے تھے جن کی اطراف میں پھولوں کی کیاریاں۔ پھولوں کی دوسری طرف سر سبز لان تھے جن میں نفاست سے تراشے ہوئے پودے اور فوارے باغ کی خوبصورتی بڑھا رہے تھے۔ دل میں سوچ رہا تھا کہ باغ دیواروں اور گیٹ سے بند کیوں کیا ہوا ہے۔ اتنے میں اطراف پر نظر پڑی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو رہائش گاہیں نظر آئیں ایک ٹاور بھی بنا ہوا تھا۔

مختلف لیولز پر ہونے کی وجہ سے یہ سب بہت بھلا لگ رہا تھا۔ در اصل یہ ایک کمپلیکس تھا جو عبدالرحمن اول نے اپنی اور گورنرز کی رہائش گاہ اور دفاتر کے لئے بنایا ہوا تھا جیسے آج کل پرائم منسٹر ہاؤس ہوتا ہے۔ اس جگہ کے قریب ہی دریائے الکبیر بہتا ہے جہاں سے اس محل اور باغ کے لئے پانی پہنچانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ عمارت نہ تو اصلی حالت میں تھی اور نہ ہی زیر استعمال البتہ آثار قدیمہ کے طور پر ایک عوامی جگہ تھی۔ اس عمارت کے باتھ روم اب بھی صحیح حالت میں رکھے گئے ہیں۔ میں اوپر ٹاور پر بھی گیا تھا کسی چیز کا سہارا لے کر اس کے روشن دان تک رسائی کر لی جہاں سے باہر کا خوبصورت نظارہ کیا اور دریائے الکبیر پر بنے ہوئے پل کی یادگار تصویر بھی اتاری۔

الکزر سے سیدھا ہوٹل آیا اور اس کے بعد کہیں جانے کو جی نہ چاہا۔ در اصل مسجد کی ویرانی دیکھنے کے بعد طبیعت کچھ مضمحل رہی۔ ملے جلے جذبات و خیالات نے دل و دماغ کو مجروح کیا۔ اگلی صبح تک ہوٹل میں قیام کیا اور نو بجے کے قریب چیک آؤٹ کر کے ریلوے سٹیشن روانہ ہو گیا۔ یورپ میں جب بھی سفر کیا گاڑی کا تاخیر سے پہنچنے کا کبھی اتفاق نہ ہوا۔ غرناطہ کے لئے گاڑی پہنچ چکی تھی۔ دو گھنٹے کا سفر آرام دہ رہا اور ساڑھے گیارہ بجے کے قریب گاڑی غرناطہ پہنچ چکی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •