پچھلی یادوں کی چند یادیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم اپنے ماضی کی گزشتہ لہروں سے جو جذبات واپس لانا چاہتے ہیں، ان میں محفوظ وہ جذباتی لمحات ہیں جو شکست و ریخت سے ہوتے ہوئے ابدی حیثیت حاصل کر چکے ہوتے ہیں۔ اس وقت بس صرف سچ ہمارے اندر زندہ رہ جاتا ہے۔ اس سچ سے ہم اپنے تاثرات اور یادوں کے حوالے سے داستانیں بیان کرتے ہیں۔ یہ بالکل ویسے ہی ہے جیسے کسی پینٹنگ میں دھند میں لپٹے ہوئے پہاڑوں کا دھندلایا وجود لا محدودیت اور ابدیت دونوں کی علامت لگتا ہے۔ پھر اس گزر چکی کیفیت کو دوبارہ سے زندگی دینے کے لیے ہمارے ذہنوں میں صرف ایک لکیر سی محفوظ ہو جاتی ہے۔

یوں تو یادوں میں بہت سے افق وقتاً فوقتاً کھلتے رہتے ہیں۔ آج اس وقت میری یادوں میں پرانے آسمان کا روشن افق کھلتا ہے۔ اس آسمان پر بچپن کے جھلملاتے ستارے گو ٹمٹماتے ہیں لیکن میرے دل میں وہ روشنی کا ایک استعارہ ہیں۔ مجھے یاد ہے ریل کی سیٹیاں، ریل کے انجن سے اٹھتا ہوا وہ دھواں اور چلنے کے لیے رینگتے ہوئے پہیوں میں سے چھک چھک کی اونچی نیچی موسیقی کی جھنکار۔ جب بھی ہم لاہور کے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 2 سے جہلم یا دینہ کے لیے سوار ہوتے تھے تو رنگا رنگ آوازیں کانوں میں گونجتی تھیں جن میں ”قلی چاہیے، گرم چائے، گرم انڈے، آج کا تازہ اخبار، سموسے گرم“ وغیرہ شامل تھیں۔

ہماری سیٹیں ہمیشہ پہلے ہی سے بک ہوتی تھیں پاپا ریلوے میں سرکار کی نوکری جو کیا کرتے تھے۔ مجھے ہر صورت کھڑکی کی سائڈ پر بیٹھنا ہوتا تھا۔ ریل کی کھڑکی سے باہر کا بگٹٹ پیچھے کی طرف بھاگتا ہوا منظر دیکھ کر میری آنکھیں چمکنے لگتیں۔ ابھی ایک منظر پردے پر پوری طرح نظر نہیں آتا تھا کہ دوسرا کھل جاتا۔ کبھی سرسوں کے کھیتوں میں پیلے رو پہلے پھول من موجی دوشیزہ کی طرح کھڑے مسکراتے رہتے۔ انہیں دیکھ کر مجھے احساس ہوتا کاش دنیا کی سب لڑکیوں کو یونہی آزادی سے مسکراتی ہوئی اپنی زندگی جینے کی آزادی ہو۔

ابھی میں انہی خیالوں میں ہوتی تو جھٹ پٹ گنے کے کھیت نظر میں آ جاتے۔ وہ گزرتے تو نہروں کا پانی اپنی اہمیت جگانے کو خود ہی دکھائی دے جاتا۔ معلوم ہوتا جیسے پانی کہہ رہا ہو اگر میں نہیں ہوتا تو ہریالی کی یہ بہار بھی نہ ہوتی۔ ریل چلتی رہتی پھر چھوٹے چھوٹے کچے گھروں پر مشتمل کئی دیہات آتے اور گزر جاتے۔ ریل یونہی کھیتوں، ڈیروں، مالٹوں اور امرودوں کے باغوں سے ہوتی ہوئی ریل اونچی نیچی پہاڑیوں اور ٹبیوں کے دامن سے گزرنے لگتی۔

مجھے احساس ہوتا اب ہمارا گھر قریب ہی ہے۔ کھاریاں سے گزرتے ہوئے ریل ایک برطانوی راج کے بنے ہوئے پرانے سے پل کے اوپر سے گزرتی تو اس کی سیٹی مزید سریلی اور دھواں کچھ اور رومانوی سا ہو جاتا۔ سرائے عالمگیر کے اسٹیشن کو پھرتی سے کراس کرتی ہوئی ریل جہلم کے اسٹیشن پر پہنچتی۔ جہاں کی تاریخ میں چناب اور جہلم کے دریاؤں کے درمیان پھیلی ہوئی سلطنت کا راجہ پورس ہوا کرتا تھا۔ میں بے چینی سے وقت گنتی کہ اب پندرہ بیس منٹ میں ریل دینہ پہنچا دے گی۔

دینہ جس کی پہچان کے لیے دو حوالے ہیں ایک منگلا مائی کا قلعہ جو منگلا ڈیم کے کنارے پر واقع ہے۔ دوسرا حوالہ گلزار صاحب کا ہے جو دینہ میں پلے بڑھے اور دینہ کو ہی اپنا وطن کہتے ہیں۔ گلزار صاحب کے لکھنے کا برجستہ اور سیدھا انداز سب کے دلوں میں اتر جاتا ہے۔ میں گلزار صاحب کے گانوں کو دل ہی دل میں گنگنانے لگتی ”مسافر ہوں یا رو نہ گھر ہے نہ ٹھکانہ“ لیکن اتنے میں ہمارا ٹھکانہ آ جاتا یعنی دینہ کا چھوٹا سا، خاموش اور پر امن سفید رنگ اوڑھے ہوئے اسٹیشن آ جاتا۔

ٹرین ایک جھٹکے سے اترتی اور چند مسافر جن میں ہم بھی ہوتے تیزی سے نیچے اتر جاتے کہ چھوٹا اسٹیشن تھا، ریل بھی بس کوئی پل کو ہی رکتی۔ پاپا پہلے ہی سے سامان برتھ سے اتار کر نیچے سیٹ کے پاس رکھ لیتے ہمارا کوئی بیگ رہ نہ جائے۔ جیسے ہی مسافر پلیٹ فارم پر قدم دھرتے ٹرین چھک چھک کرتی ہوئی پٹڑی پر پھر سے رینگنے لگتی، اسے بھی شاید اگلی منزل پر پہنچنے کی جلدی ہوتی۔ ٹرین چلی جاتی تو اسٹیشن پر چھائی خاموشی بھی ہمارے ہمراہ ہو لیتی۔

چھوٹے چچا ہمیں لینے کو پہلے سے ہی وہاں موجود ہوتے۔ ہم ان کی جیپ میں سوار ہو کر گھر کی طرف چل پڑتے۔ اتنے میں سورج اپنے طلوع ہونے کا سفر شروع کر چکا ہوتا۔ میں اگلے دن کے منصوبے آنکھوں میں سجائے سو جاتی کہ حویلی جاؤں گی اور اپنے تایا کے سنگترے کے باغوں میں جا کر سنگترے توڑوں گی۔ کھیتوں کے رستے میں بیریوں کے کئی درخت آتے جن کے بیر میں اور میری کزن مزے سے توڑ توڑ کر کھاتے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ہم دوپہروں میں گھر والوں سے چوری چوری جایا کرتے تھے۔

ظاہر ہے اس زمانے میں عمومی طور پر لڑکیوں کا گھروں سے بے وجہ نکلنا انتہائی ناپسندیدہ عمل تھا۔ لیکن بھلا میں کہاں نچلی بیٹھنے والی تھی۔ میرے منصوبے میں منگلا کینٹ جانا بھی ایک لازم چیز تھی۔ منگلا کینٹ سے ہوتے ہوئے منگلا جھیل اور منگلا مائی کا قلعہ دیکھے بغیر تو یہ سفر مکمل ہو ہی نہیں سکتا تھا۔ جس راستے سے ہم منگلا کینٹ کو جایا کرتے تھے وہ راستہ راجہ پورس کی جاگیر ہوا کرتا تھا۔ راجہ پورس نے اپنی لاڈلی بیٹی منگلا دیوی کے نام سے منگلا جھیل کے کنارے یہ قلعہ تعمیر کیا۔

اسے ”کشمیر کی گزر گاہ“ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ یہاں کے تازہ پانیوں کی مچلتی ہوئی مچھلیاں جب کانٹے میں پھنس جاتیں تو مقامی لوگ اسے تل کر بیچا کرتے۔ کیا لذیذ ذائقہ ہوا کرتا تھا اس مچھلی کا۔ چھوٹے چچا کہانی بتایا کرتے تھے کہ منگلا دیوی صرف منگل کے دن لوگوں کو اپنے درشن دیا کرتی تھی۔ منگلا جھیل کے دوسرے کنارے پر قلعہ رام کوٹ ہے جسے تعمیر تو مسلمانوں نے کی لیکن استعمال سکھوں نے کیا۔ کچھ کہتے ہیں اسی مقام پر سکندر نے پورس سے جنگ کی تھی اور کچھ کہتے ہیں یہاں سے 10 میل دور کھڑی کے مقام پر یہ جنگ ہوئی تھی۔

سکندر نے نہ صرف جہلم کی اس وادی بلکہ یہاں کے لوگوں کے ذہنوں کو بھی فتح کیا۔ منگلا قلعے کی بیرونی اونچی دیوار سے پرے آزاد کشمیر کے چھوٹے چھوٹے گاؤں اور وادیاں بہترین نظارہ پیش کرتیں۔ مجھے ہمیشہ اس دیوار سے نیچے دیکھنا بہت اچھا لگتا۔ یہ الگ بات کہ اونچائی کی وجہ سے میرے جسم میں جھرجھری سی آتی تھی۔

جب ہم واپس آ رہے ہوتے تو ریلوے روڈ سے گزرتے ہوئے جب عاشق فوٹو گرافر کی چھوٹی سی دکان دکھائی دیتی تو ایک نام میرے کانوں میں گونجنے لگتا۔ وہ نام تھا گلزار صاحب کا جن کا اصل نام سمپورن سنگھ ہے۔ میں جب بہت چھوٹی تھی تو انہیں ان کے نام کی وجہ سے مسلمان سمجھتی تھی۔ اس بات پر فخر بھی محسوس کرتی ہوں کہ گلزار صاحب کے دل میں آج بھی بچپن کی محبت کی طرح دینہ کی محبت بستی ہے۔ گلزار صاحب کی تقریباً سبھی کتابیں میرے پاس ہیں۔ ان کی بنائی ہوئی فلمیں تو کسی اور ہی دیس میں لے جاتی ہیں۔ سوچوں کو پنکھ دیتی ہیں۔ اکثر چوری چوری گھر سے کچھ دور جنگلوں کے ٹیڑھے میڑھے رستوں سے ہوتے ہوئے ہم ایک ندی پر جایا کرتے تھے۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ وہ ندی ہمارے لیے اپنے بازو کھول دیا کرتی تھی۔ یقین مانیے میں نے اس ندی میں چمکتا ہوا پانی کچھ اس طرح دیکھا کہ لگتا تھا جیسے چاندی تھوڑی تھوڑی دیر میں اس میں اپنا چابک مارتی۔ قریبی گاؤں کی عورتیں اس ندی میں کپڑے بھی دھویا کرتی تھیں۔ پاس میں ہی بڑے میدان میں گھاس پر اور کچھ خار دار پودوں پر کپڑے سکھانے کو ڈال دیا کرتیں۔ سردیوں کی سنہری دھوپ وہیں بیٹھ جاتی۔ میں آج بھی اس دھوپ میں دوبارہ جانا چاہتی ہوں۔ اس کی سنہری کرنوں پر بیٹھنا چاہتی ہوں۔ کون جانے وہ ندی، وہ گھاس، وہ دھوپ اب بھی ویسی ہوگی!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •