ہائیر ایجوکیشن کمیشن نے تعلیم و تحقیق کا کیا حشر کیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان میں ہائر ایجوکیشن کمیشن نام کی چڑیا مشرف نے ایجاد کی۔ اس کام کے لیے اس نے جامعہ کراچی کے کیمیا کے پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن کا انتخاب کیا۔ عطا الرحمن صاحب نے ایچ ای سی کے ذریعے اس ملک کی تعلیم کو ایٹم بم لگا کر اڑا دیا۔ بعد میں عطا الرحمن صاحب سے تو ایچ ای سی کی جان چھوٹ گئی مگر ایچ ای سی خود ایک بلا بن چکا تھا۔ اس عفریت نے اس ملک میں شعبہ تعلیم کو کیسے نقصان پہنچایا کیا ، اس کا مشاہدہ میں نے اپنی تعلیمی زندگی اور بعد ازاں بحیثیت مدرس مسلسل سترہ برس کیا ہے۔ آپ بھی پڑھیے اور سر دھنیے۔

ایچ ای سی نے اپنی ابتداء میں ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس کے اطلاق کے لیے جامعات پر دھاوا بولا۔ یہ 2002ء کی بات ہے۔ ماڈل یونیورسٹی آرڈیننس سرکاری جامعات سے آرٹس اور دیگر ’غیر اہم‘ سائنسز کو دیس نکالا دینے کی کوشش تھی۔ مشرف کو ملک میں بس اپنی پسند کی سائنس اور ٹیکنالوجی چاہیے تھی۔ تب سبھی سرکاری جامعات میں اس آرڈیننس کے خلاف شدید مظاہرے ہوئے جن کے نتیجے میں ایچ ای سی کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ ایچ ای سی تب ایک نیا ادارہ تھا۔ عطا الرحمن صاحب کو جب لگا کہ وہ اپنے حکم ناموں سے جامعات کو نہیں چلا سکتے تو انہوں نے ایک نیا پینترا بدلا۔ انہوں نے اساتذہ کو مخصوص قسم کی رشوت دے کر ایچ ای سی کے خلاف موجود جذبات کو ختم کرنے کی ٹھانی۔

جامعات کی گرانٹس بڑھا دی گئیں اور تنخواہوں میں اضافہ ہوا۔ جامعات کے اساتذہ کے گریڈ بڑھا دئے گئے اور پھر ’ٹریول گرانٹ‘ کے سلسلے شروع کیے گئے۔ اب جامعات سے اساتذہ نے ہر عجیب و غریب قسم کی کانفرنسوں میں اپنے انتہائی فضول درجے کے پرچے بھیج کر ایچ ای سی سے غیر ملکی سفر کی خوب گرانٹس لیں۔

مجھے یاد ہے اس ’سنہرے دور‘ میں میں جامعہ کراچی کے ’انسٹیٹیوٹ آف کلینیکل سائیکولوجی’ میں ایم فل کا طالب علم تھا۔ تمام ہی اساتذہ نے تب سیکڑوں ملکوں کی مفت سیر کر لی۔ یوں کروڑوں، اربوں روپے ایک انتہائی فضول کارروائی میں اڑائے گئے اور کہا یہ گیا کہ تحقیق کو پروان چڑھایا جا رہا ہے حالانکہ دنیا جہاں میں کانفرنسوں میں پڑھے پرچے یا اس کی‘پروسیڈینگز ’میں چھپی تحقیق کی کوئی اہمیت ہوتی ہی نہیں۔

اب جب ایچ ای سی سے اساتذہ پیسے اور فوائد پکڑ چکے تو ان کی اس کے خلاف مزاحمت کی نفسیاتی قوت بالکل زائل ہو گئی۔ اب ایچ ای سی نے صریح دیوانگی کے انداز میں نت نئی چیزیں جامعات پر تھوپنا شروع کیں۔ ہر بات جو لاگو کی جاتی اس میں عموماً کوئی منطق نہ ہوتی۔ بس اچانک کوئی نئی فرمائش سامنے آ جاتی۔ اگر فرمائش نما حکم پر عمل نہ ہو تو جامعات کی گرانٹ بند کر دی جاتی۔ اساتذہ کے اللے تللے اس قدر بڑھ چکے تھے کہ وہ کوئی مزاحمت کر ہی نہیں سکتے تھے۔

اس دور میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کا زمانوں سے مروج نظام یعنی ’ایم فل لیڈینگ ٹو پی ایچ ڈی پروگرام‘ کو ختم کروانے کے لئے زور ڈالا گیا اور بالآخر ایسا کروا ہی لیا گیا۔ ایم فل یا پی ایچ ڈی کے لئے ETS، USA سے گریجویٹ ریکارڈ اگزام GRE کا ایک خاص ’پرسانٹائل‘ لانا لازم کیا گیا۔ یہ امریکی سرٹیفیکیشن سو ڈالر کی ادائیگی سے ہوتی اور اکثر طلبہ و طالبات اس میں مطلوبہ پرسنٹائل نہ لا پاتے۔ بار بار سو ڈالر کی ادائیگی بھی طلبہ پر بہت بھاری پڑتی۔

پھر ایچ ای سی نے NTSکے ذریعے GRE نما امتحان شروع کروایا۔ اس امتحان کی فیس بہت کم تھی مگر یہ کتنا مستند تھا اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ جن لوگوں کا GRE میں 15 پرسنٹائل آیا تھا ان کا NTS کے GAT میں 70 پرسنٹائل با آسانی آ گیا۔ مگر پھر یہ ٹیسٹ بھی اچانک ہی پی ایچ ڈی اور ایم فل کے pre requisite سے ہٹا دیا گیا۔ کوئی منطق نہ یہ ٹیسٹ نافذ کرتے وقت دی گئی نہ ہٹاتے وقت۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی کو الگ الگ کر دینے والی ایچ ای سی نے تحقیقات کی اشاعت کو بھی جامعات میں اساتذہ کی ترقی کا زینہ بنا دیا۔ اس کے بعد سے کچرا تحقیقات کی ایک لامحدود پیداوار اس ملک میں شروع ہوئی۔ ہر نوع کی جعل سازی نے خوب خوب فروغ پایا۔ کوئی ایسی ’باڈی‘ موجود نہ تھی کہ جو اس بات کی تحقیق کر سکے کہ تحقیقات کا معیار کیا ہے اور اس بات کو لاگو کرا سکے کہ اساتذہ جبراً طلبہ کی تحقیقات میں ’آتھر‘ نہ بنیں۔

ایچ ای سی کی ایم فل اور پی ایچ ڈی کو الگ کر دینے سے ایم فل گریجویٹس کی بے پناہ پیداوار ہو گئی۔ وجہ یہ تھی کہ ایم فل کے یونٹس کم کر دیے گئے تھے اور اس کے مقالے کی جانچ ملکی سطح پر ہی ہوتی تھی۔ یعنی سپروائزر کے احباب ہی مقالے کو جانچتے اور کوئی پرانا کلاس فیلو پروفیسر ہی ’وائیوا‘ لے لیتا اور ڈگری مل جاتی۔ اب جب ٹوکرے بھر بھر کر ایم فل برآمد ہوئے تو ایچ ای سی کے سمجھ نہ آیا کہ ان کو لیپے یا پوتے؟ ایچ ای سی نے جلدی سے یہ قانون لاگو کر دیا کہ اب جامعات کی سطح پر لیکچرار بھی ایم فل سے کم ڈگری کے حامل بھرتی نہیں ہوں گے۔

عجیب بات یہ ہے کہ ایچ ای سی کے نابغے کبھی یہ نہیں سمجھ پائے کہ تحقیق کی قابلیت اگر ہو تو بھی وہ اس بات کی کوئی سند نہیں کہ اس کا حامل اچھا استاد بھی ہو گا۔ جامعات میں اساتذہ کی اولین ذمہ داری پڑھانا ہے ، اس کے بعد تحقیق بھی ایک ذمہ داری ہو سکتی ہے مگر صرف تحقیق کو ہی بھرتی سے لے کر ترقی تک ہر چیز کی بنیاد بنانا کتنی عقلمندی ہے ، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ پھر تحقیقات کے معیار کی جانچ کا کوئی نظام بھی ایچ ای سی کے پاس نہیں۔

بات ہوتی ہے تو بمشکل جرنلز کی کیٹگری کی۔ تحقیق کے اندر کیا ہے؟ اس سے دنیائے علم کو کیا ملا؟ ایچ ای سی کی کرامت ہی ہے کہ اس ملک میں اب ایسے بھی کچھ محققین موجود ہیں کہ جن کی ہزار اور بارہ سو تحقیقات ہیں مگر انہوں نے علمی دنیا کو کچھ بھی نہیں دیا۔ ایچ ای سی کی اس پالیسی کا نتیجہ یہ نکلا کہ اچھے اساتذہ جامعات میں کہیں پس پشت چلے گئے اور بھرتی کی تحقیقات کی طویل فہرست اپنی جیب میں لے کر چلنے والے مگر پڑھانے کے فن سے نابلد اساتذہ کہیں آگے نکل گئے۔ ایچ ای سی نے اساتذہ کی طلبہ کے ذریعے ایویلیویشن کے کسی مربوط نظام کو کبھی بننے ہی نہیں دیا ورنہ اس کے ’عظیم‘ پروفیسرز کی قلعی کھل جاتی۔

ایچ ای سی نے اپنی پیدائش سے آج کے دن تک ان گنت جامعات ’قائم‘ کیں۔ وہ جامعات کہاں واقع ہیں؟ مثلاً ایچ ای سی کے قیام سے قبل کراچی میں ایک اردو سائنس کالج ہوا کرتا تھا۔ ایچ ای سی نے اسے جامعہ اردو بنا دیا۔ جامعہ بننے سے اس میں بس یہ ہوا کہ انٹر کی سطح کی تعلیم منقطع ہو گئی اور پی ایچ ڈی تک کے پروگرام شروع ہو گئے۔ اس کام سے قبل یا اس کے بعد وہاں کے اساتذہ کی کوئی تربیت نہیں کی گئی۔ آج کے دن تک جامعہ اردو اور ایسی سیکڑوں ایچ ای سی کی بنائی ہوئی جامعات دراصل اپنی روح میں کالج ہی ہیں بس ان کے نام بدل کر یونیورسٹی رکھ دیے گئے ہیں۔

ایچ ای سی کے بے تکے فیصلوں اور غیر منطقی اقدامات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایچ ای سی نے حال ہی میں تمام کالجز سے ملنے والی ڈگریز (جیسے بی اے، بی ایس سی، بی کام) وغیرہ کا نام بدل دیا ہے۔ اب وہ گریجویشن نہیں رہیں۔ اتنی عجیب بات ہے کہ ایچ ای سی کے نابغے یہ نہیں سوچ سکے کہ اس ملک میں سرکاری اور نجی شعبے میں آنے والی اکثر نوکریوں میں بیچلرز کی ڈگری ہی مانگی جاتی ہے۔ اس ملک میں مقابلے کے امتحان میں بیٹھنے کے لئے بھی بیچلرز ہی شرط ہے۔ یوں اچانک ایک حکم نامے سے بی اے، بی ایس سی اور بی کام کو عملاً لنگڑا کر دینے سے ملک کے لاکھوں انسانوں پر کیا اثرات پر سکتے ہیں؟

ساتھ ہی اس حکم نامے میں ایم فل اور ایم ایس کو ختم کرنے اور سولہ سالہ ڈگری کے بعد براہ راست پی ایچ ڈی میں داخلہ دینے کا بھی حکم نامہ جاری کیا گیا۔ یہ پالیسی ایم فل اور پی ایچ ڈی کے معاملے میں ان تمام پالیسیز سے تین سو ساٹھ کے زاویے پر مختلف ہے جو کچھ ایچ ای سی سابقہ دو دہائیوں سے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے معاملے میں ’ڈکٹیٹ‘ کراتا آیا ہے۔ مزاحیہ بات یہ بھی ہے کہ اگر ایم فل ختم کر دیا جائے گا تو ایچ ای سی کے اس حکم نامے کا کیا مطلب کے جس کے مطابق جامعات میں لیکچرار بھرتی ہونے کے لئے بھی کم از کم قابلیت ’ایم فل‘ یا ’ایم ایس‘ ہے؟

کیا اب جامعات میں لیکچرار بھرتی نہیں ہوں گے ؟ دوم یہ کہ اگر سولہ سالہ ڈگری کے بعد براہ راست داخلہ پی ایچ ڈی میں ہوگا تو اس کورس ورک کے یونٹس کا کیا کیا جائے گا جو ایم فل میں شامل ہیں یا جو پی ایچ ڈی کے کورس ورک میں شامل ہیں؟ ’ایم فل لیڈنگ ٹو پی ایچ ڈی‘ تو ایچ ای سی پہلے ہی ختم کر چکا ، کیا یہ سمجھا جائے کہ ایچ ای سی نے بہت بڑا یو ٹرن  لے کر اسے بحال کر دیا ہے؟

اس حکم نامے میں سب سے بڑی بات اور مزاحیہ بات یہ ہے کہ پی ایچ ڈی کے لیے دو ترقی یافتہ ملکوں کے پی ایچ ڈی سپروائزرز سے ایویلویشن کی شرط ختم کر دی گئی اور یہ کام اب ہمارے ملک کے پروفیسر ہی کریں گے۔ انا للٰہ و انآ الیہ راجعون۔ یعنی اب پی ایچ ڈی بھی ایم فل کی طرح سپروائزر اور اس کے تین دوستوں کی شرارت بن جائے گا۔ یعنی جو تھوڑی بہت وقعت عالمی محققین کی ’ایویلویشن‘ سے پی ایچ ڈی کو حاصل ہے ، وہ بھی جاتی رہے گی۔

کتنی عجیب بات ہے کہ ایک ہی حکم نامے میں بی اے، بی ایس سی اور بی کام کو کم معیار کا قرار دے کر گریجویشن کی سطح سے گرا دیا جاتا ہے اور اس حکم نامے میں پی ایچ ڈی کو جو کہ کسی بھی علم کی سب سے بڑی ڈگری ہے، گرا کر ایم فل بنا دیا جاتا ہے۔ شاید ایچ ای سی اب اچانک بہت سارے پی ایچ ڈی پیدا کر کے یہ ثابت کر دینا چاہتا ہے کہ اس نے پاکستان میں تعلیم کو چار چاند لگا دیے ہیں۔ چاہے اس کی اس کوشش سے پی ایچ ڈی کا معیار گریجویشن کے برابر ہی رہ جائے۔ مگر ایچ ای سی کو کون سمجھا سکتا ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •