مَردوں کا استحصال اور کچھ آپ بیتیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک اداس زمانے کی بات ہے کہ جب ہمارا آفس ساحل سمندر کے پاس واقع تھا۔ اس زمانے میں ساحل کنارے ایک پارک میں ایٹ فیسٹیول لگتا تھا۔ طرح طرح کے کھانے ہوں اور ہم نہ ہوں یہ تو کوئی بات نہ ہوئی۔ ایک دن خبر ملی کہ آج اس فیسٹیول کا آغاز ہے اور پھر ہم نے پر تول لیے کہ بھئی جانا ہے اس فیسٹیول میں اور زبان کو چار چاند لگانا ہے۔

بٹوے کو نئے نئے نوٹوں کی خوشبو سے معطر کیا اور پھر ایک دوست کے ہمراہ منزل کی جانب روانہ ہوئے۔ منہ پانی سے بھر گیا تھا اور ہم اندر جانے کے لیے پر تول رہے تھے کہ ہمیں بتایا گیا کہ صرف فیملیز کا داخلہ ہو سکتا ہے، ہم جیسے معصوم اور شریف لڑکوں کا نہیں۔

ادھر ادھر غور کیا تو وہاں پر فیملیز کے علاوہ سب تھے یعنی دو لڑکیاں بھی فیملی تھی اور ایک لڑکی بھی فیملی تھی اور ایک خاتون اور ایک لڑکی بھی فیملی تھی مگر دو لڑکے فیملی نہیں تھے۔ حیرت تو ہوئی پر اس دن ہمیں مردوں کے استحصال کا ایک نیا رخ معلوم ہوا۔

مطلب یہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ تو کہلاتا ہے مگر اسی معاشرے میں مردوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کی کوئی بات نہیں کرتا، بات تو درکنار اس بارے میں سوچا بھی نہیں جاتا۔ لیکن ہم جیسے لوگ جو برابری کے قائل ہیں اور اس معاملے میں سرگرم بھی رہتے ہیں۔

اکثر مواقع پر خود اس برابری کے پرخچے اڑتے دیکھتے ہیں مگر آواز اٹھانے سے بھی گریز کرتے ہیں کہ کہیں ہم ہی نشانے پر نہ آ جائیں۔ جی آپ حیران نہ ہوں اور جانیے ان مقامات کے بارے میں جہاں مردوں کی حق تلفی ہوتی ہے اور خواتین صنف نازک ہونے کا فائدہ اٹھاتی ہیں۔

ارے ہاں اس تحریر کو ہنستے ہنستے پڑھیے گا اور سوچیے گا مگر لکھنے والے پر غصہ نہ کیجیے گا کیونکہ وہ بھی اس کا شکار کئی بار ہوا ہے۔

تندور کی دکان پر 20 منٹ تک کھڑے رہنے کے بعد جب ہمارا نمبر آیا تو ایک خاتون آئی اور 20 روٹیاں لے کر نکل گئی اور ہم نے 4 روٹیوں کی خاطر اپنا 5 منٹ کا وقت جلایا۔ واہ رے تندور والے۔

پیٹرول کی لائن میں بائیک میں پیٹرول تو مرد ہی ڈلواتے ہیں مگر اگر بائیک پر عورت بھی ساتھ سوار ہے تو بھئی ایندھن سب سے پہلے اسی بائیک میں انڈیلا جاتا ہے اور دوسرے مرد سوار کو اس ایندھن سے غائبانہ جلایا جاتا ہے۔

اے ٹی ایم کارڈ ہولڈر اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے جاتا ہے۔ کراچی کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہوشیار شہری اس اے ٹی ایم کا رخ کرتے ہیں جہاں رونق زیادہ ہو۔ اس رونق کی وجہ سے کچھ اے ٹی ایم پر ہمیشہ چاند رات کا سماں ہوتا ہے مگر اس پر رونق مقام پر جہاں مرد حضرات اپنی اپنی محنت کی کمائی نکالنے کے درپے ہوتے ہیں، ایسے میں خواتین کو اس مقام پر فضیلت دی جاتی ہے اور وہی ہمیشہ کی طرح پیسوں کی پہلی حق دار ٹھہرتی ہیں اور یہاں بھی لیڈیز فرسٹ کی صدا کے ساتھ مردوں کی فرسٹریشن بڑھ جاتی ہے۔

یہ ہی نہیں بلکہ یوٹیلٹی بلز کی طویل لائن پر بھی اکثر اوقات مردوں کو ان کی اوقات یاد کرائی جاتی ہے، جب تیز دھوپ اور بلز کی آگ لگاتی شرح مردوں کو جلا رہی ہوتی ہیں عین اسی وقت خاتون ٹھاٹھ سے آگے بڑھ کر بلز جمع کرا کے ان مردوں کو مزید تپا جاتی ہیں۔

یہ تو چند مقامات ہیں جن کا تذکرہ ہوا، ورنہ مقامات تو بے شمار ہیں اور مشاہدات بھی بے حساب۔ مگر احتیاط کا دامن تھامے رکھنا ہے، ورنہ معاملات سنگین رخ کی جانب بڑھ سکتے ہیں۔
کیا آپ اس غیر امتیازی سلوک پر آواز اٹھانے کے لیے تیار ہیں اور اگر تیار ہیں تو خاموشی سے دل میں تیاری پکڑیں ورنہ آس پاس موجود خواتین کے طنز و طعنے کا شکار ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •