گاڑی کو چلانا بابو ذرا ہلکے ہلکے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایک بہت پرانا گیت ہے۔
” گاڑی کو چلانا بابو، ذرا ہلکے ہلکے۔ کہیں دل کا جام نہ چھلکے“

تیز رفتاری دل ہی کا نہیں، آپ کی زندگی کا جام بھی لڑھکا سکتی ہے۔ اسٹیرنگ ہو یا اولاد، ایک مرتبہ ہاتھ سے نکل جائے تو مشکل ہی سے قابو میں آتے ہیں۔ شاہراہوں پر اکثر ڈرائیور کسی دھن میں اندھے ہو کر یوں اندھا دھند گاڑی چلاتے ہیں کہ کسی نہ کسی دوسری گاڑی یا درخت میں گھس کر ہی بریک لگتی ہے۔ کچھ تو شاید گاڑی چلاتے ہی اسی لیے ہیں کہ اپنے ساتھ ساتھ دوسری گاڑیوں ، درختوں یا کھمبوں کی مضبوطی چیک کریں۔

ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا ”یہ نیا ڈرائیور انتہائی برے طریقے سے گاڑی چلاتا ہے ، میں دو دفعہ مرتے مرتے بچی ہوں۔ اس کو فارغ کر دیں“ ۔ ”جلد بازی نہ کرو بیگم!“ شوہر نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا ”میں اسے ایک موقع اور دینا چاہتا ہوں۔“

دنیا بہت تیز رفتار ہو گئی ہے۔ سفر کے دورانیے مہینوں یا برسوں سے سمٹ کر منٹوں گھنٹوں تک پہنچ گئے ہیں۔ کاریں، بلٹ ٹرین، جیٹ ہوائی جہاز، سبھی فاصلوں کو سمیٹ رہے ہیں۔ یعنی ہر چیز بہت فاسٹ ہو گئی ہے حتیٰ کہ کھانا بھی۔ اگر میرے بیٹے نے مجھے فاسٹ فوڈ کا اصل مطلب نہ بتایا ہوتا تو میں اب بھی اس کا مطلب روزوں میں چھپ چھپ کر کھانا ہی سمجھتا لیکن جوں جوں بیٹا بڑا ہوتا گیا، مجھے عقل آتی گئی۔

تیز رفتاری کے معاملے میں ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ اپنی سڑکوں پر ہی دیکھ لیں ہر شخص یوں گاڑی بھگا رہا ہے کہ جیسے مقروض، قرض خواہ کو دیکھ کر بھاگتا ہے۔ گاڑی کی بات چھوڑیں، موٹر سائیکل سوار بھی اپنی سواری کو ٹینک سے کم نہ سمجھتے ہوئے بے خطر بڑی گاڑیوں سے بھڑ جاتا ہے ۔ ظالم ایسی کٹ مارتا ہے کہ گاڑی کی بریک نہ لگے تو کار موٹر سائیکل سے ٹکرا کر پاش پاش ہو جائے۔

کسی سڑک پر ایک طوطا اچانک گاڑی کے سامنے آ گیا ، ڈرائیور نے بریک لگائی مگر طوطا ونڈ سکرین سے ٹکرا کر بے ہوش ہو گیا۔ ڈرائیور نے نیچے اتر کر اسے اٹھایا اور گھر لے جا کر طوطے کو ایک پنجرے میں ڈال دیا۔ پاس ہی کچھ امرود اور پانی رکھ دیا تاکہ جب ہوش میں آئے تو بھوکا نہ رہے۔ تھوڑی دیر بعد طوطے کو ہوش آیا تو خود کو پنجرے میں دیکھ کر حیرت سے بولا۔ ”یاخدا! میں جیل میں؟ کار کا ڈرائیور تو یقیناً مر گیا ہو گا“ ۔

آپ اس بات سے ضرور اتفاق کریں گے کہ موٹر سائیکل چلانے کے ضابطوں کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ انتہائی غیر محفوظ سواری ہے۔ ذرا بھی توازن بگڑا تو موٹر سائیکل فٹ پاتھ پہ اور بندہ ہسپتال میں۔ بچنے کا چانس ہیلمٹ اور تقدیر پر ہے۔ بنا ہیلمٹ سر پر ہلکی سی چوٹ بھی بسا اوقات انتہائی خطرناک ہوتی ہے اور اچھا بھلا انسان ذرا سی غفلت سے ”سائیں جی“ بن سکتا ہے یا پیرالائز (Paralyse) ہونے کی صورت میں تا عمر وہیل چیئر کے مزے لوٹ سکتا ہے۔

لیکن بھلا ہو ہمارے جوانوں کا (خدا انہیں حادثوں سے محفوظ رکھے ) اتنے سمجھ دار ہو کر بھی اسپائیڈر مین یا سپرمین ہونے میں یقین رکھتے ہیں اور بغیر ہیلمٹ کے یک پہیہ موٹر سائیکل پر ایسے ایسے کرتب دکھاتے ہیں کہ ماں باپ بیچارے دیکھ لیں تو وہیں پھڑ پھڑا کر گر پڑیں۔ ان نوجوانوں کو کون سمجھائے کہ سپرمین کی طاقت ایک علامت ہے کردار کی پختگی، انسانیت کی خدمت اور معاشرے کا کار آمد فرد ہونے کی۔ موٹر سائیکل سے گر کر سر پھڑوانے، ہڈیاں تڑوانے یا انتقال کر جانے کی نہیں!

ہم لوگ یا تو بہت فارغ ہیں یا انتہائی مصروف۔ بلکہ ہم مصروف ہی تب ہوتے ہیں جب ہم بالکل فارغ ہوں۔ ایسے ویلے مصروف حضرات ہر کام جلدی جلدی میں کرتے ہیں۔ صبح اٹھ کر باتھ روم جانا۔ کموڈ پر بیٹھے بیٹھے فیس بک یا ٹویٹر کی ہر پوسٹ پر کمنٹ کرنا۔ پھر باتھ روم سے نکلنے ہی اچانک گھڑی پر نظر پڑتی ہے تو جیسے جسم میں کرنٹ دوڑ جاتا ہے۔ تیز رفتاری سے کپڑے بدلنا۔ جلدی جلدی ناشتہ کرنا، توس کی جگہ بچے کا نیپکن منہ میں ڈال لینا اور تیزی سے موٹر سائیکل یا توفیق ہو تو کار میں بیٹھ کر اسے اڑا دینا۔

کبھی سائیکل والے کو کَٹ ماری، کبھی موٹر سائیکل کو سائیڈ کرائی اور کبھی بائیں جانب سے اگلی کار کے سائیڈ مرر کو ٹچ کرتے ہوئے اوورٹیک کیا۔ دور سے چوک میں سگنل کی بتی زرد ہوتے دیکھی تو رفتار بڑھا دی کہ سرخ بتی جلنے سے پہلے ہی چوراہا کراس ہو جائے۔ ادھر گاڑی سٹاپ لائن کے قریب پہنچی ادھر بتی سرخ ہوئی لیکن بریک کی بجائے ایکسیلیٹر پر دباؤ بڑھ گیا۔ دوسری جانب کا سگنل کھلتے ہی گاڑیاں چوک میں داخل ہو گئیں اور کار کسی نہ کسی کی بغل میں جا گھسی ( اگر موٹر سائیکل ہو تو پھر بائیک سوار کا اللہ ہی حافظ) ۔

چنگ چی رکشہ میں بیٹھنے کا اتفاق بہت سوں کو ہوا ہو گا۔ یہ ایک نوکیلی تھری وہیلر گدھا گاڑی نما رکشا ہے جس میں آٹو گدھا یعنی موٹر سائیکل جوتا جاتا ہے ۔ فرنٹ سے باریک ہونے کی وجہ سے اس کا اگلا حصہ گزر جائے تو پچھلا حصہ مع سواریوں کے اپنے آپ کھنچا چلا آتا ہے بلکہ ایک دو راہگیروں کو بھی ساتھ کھینچ لاتا ہے۔ اس کا ڈرائیوراگلے حصے ہی کو مکمل گاڑی سمجھتے ہوئے پچھلا حصہ خدا اور سواریوں پر چھوڑ دیتا ہیں۔ یہاں ہاتھی الٹا ہو جاتا ہے اور چنگ چی محاورہ یوں بنتا ہے ”دم نکل گئی بس ہاتھی رہ گیا“

کبھی کسی ”قصباتی ہائی وے“ پر کسی وین یا دیسی لاری میں سفر کیا ہو تو آپ یقیناً سمجھ سکتے ہوں گے کہ موت سامنے بھاگتی نظر آئے تو کیسا محسوس ہوتا ہے۔ اس کا ڈرائیور بھی گاڑی کی رفتار بڑھا کر ایکسیلیٹر سے پاؤں اٹھانا بھول جاتا ہے اور یہ بھی بھول جاتا ہے کہ گاڑی میں ایک عدد بریک بھی ہوتی ہے جو دبا کر گاڑی روکنے کے کام آتی ہے۔

مست سانڈ کی طرح بھاگتی ہوئی لاری ہر گاڑی کو ہارن کی پم پوں، اسٹیرنگ کی کٹ اور فحش دشنام طرازی کے ذریعے کراس کرنے کی کوشش کرتی ہے جو ناکام ہونے کی صورت میں آٹھ دس سواریوں کے فوری جنت داخلے کا بہانہ بھی بن سکتی ہے۔ ایسے سفر کے دوران جتنے خلوص سے آیتیں اور دعائیں پڑھی جاتی ہیں اتنے خلوص سے تو زکوٰۃ کا پیسہ اور بیوہ کا پلاٹ بھی ہڑپ نہیں کیا جاتا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •