مسائل بڑھتے گئے سیاست ہوتی رہی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عوام کی غالب اکثریت اس نتیجے پر پہنچی ہے کہ اس وقت کوئی ایک بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو مسائل کے حل کا ادراک و فہم رکھتی ہو ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ کسی کے پاس وہ قیادت نہیں جسے لوگوں کے دکھوں کا علم ہو اور وہ انہیں محسوس کر سکتی ہو ، مگر یہ کیسی عجیب بات ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزامات عائد کر کے عوام کے قریب تر ہونے کی کوشش کر رہی ہیں اور یہ ثابت کرنا چاہتی ہیں کہ وہ ان کی ہمدرد و غم گسار ہیں۔

ہم اپنے کالموں میں کئی بار یہ عرض کر چکے ہیں کہ ہمارے حکمران عوامی سوچ سے محروم رہے ہیں۔ اگرچہ وہ عوام عوام کی گردان کرتے چلے آئے ہیں مگر یہ محض دکھاوا تھا، انہیں عوام سے کوئی دلچسپی نہیں تھی ، وجہ اس کی یہی تھی کہ انہیں جب بھی اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنا ہوتا، اس کے لیے آشیر باد کسی بڑی طاقت کی لینا ہوتی۔ یہ طے ہوتا کہ اس طاقت کے مفادات کو تحفظ بہرصورت دیا جائے گا۔

پھر ہمیں اپنی معیشت چلانے کے لیے شروع دن سے عالمی مالیاتی اداروں کا محتاج ہونا پڑا، انہوں نے آج تک بنیادی ترقی نہیں ہونے دی ، صنعت کاری کے عمل کا آغاز ہونے نہیں دیا گیا ، ایسے منصوبے نہیں منظور کرنے دیے گئے جن سے ملک خود کفالت کی منزل کے قریب پہنچتا ، افسوس اس بات کا ہے کہ حکمرانوں میں بھی دم خم نہیں تھا کہ وہ انہیں مجبور کر سکتے کہ ہم ہمیشہ اپنا معاشی نظام قرضوں سے نہیں رواں رکھ سکتے۔ایسا وہ اس لیے نہیں کہہ سکتے یا کر سکتے تھے کہ وہ مشروط اقتدار حاصل کرتے رہے۔

آج صورت حال ابتر ہو چکی ہے۔ موجودہ حکومت قرضوں پر قرضے لے رہی ہے ، نہ لے تو اقتصادی حالت نازک ہو جائے۔ ہاں اگر وہ ملک سے جانے والا پیسا جو اربوں ڈالرز میں ہے ، اس کا ایک بڑا حصہ بھی واپس لانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو حالات تھوڑے بہتر ہو سکتے ہیں مگر ایسا شاید ممکن نہیں ہو گا کیونکہ جنہوں نے اپنی تجوریاں بھری ہیں۔انہوں نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں۔

حالات بے قابو ہوتے جا رہے ہیں ، قرضہ دینے والے اپنے مقررہ وقت پر اس کی واپسی کا تقاضا کرتے ہیں ، نتیجتاً قسطوں کی ادائی کے لیے عوام کی ”خدمات“ حاصل کی جاتی ہیں جو اب تک اپنا بہت سا خون دے کر بھی سرخرو نہیں ہو سکے۔ آئے روز ان کی روز مرہ استعمال کی اشیا کو مہنگا کر دیا جاتا ہے ، ستم تو یہ بھی ہے کہ انہیں یہ اشیا فروخت کرنے والے اپنی طرف سے دو تین گنا بڑھا دیتے ہیں ۔ یوں عوام پر ہر کوئی ظلم ڈھا رہا ہے ، اس کے باوجود ہر سیاسی جماعت چاہتی ہے کہ وہ اس کے جلسوں اور جلوسوں کی رونق بنیں۔ان پر مزید کڑا وقت آئے تو اسے بھی برداشت کریں۔

مگر اب عوام کی غالب اکثریت حکمران طبقات کو جان چکی ہے کہ وہ ان سے مخلص نہیں ، انہوں نے انہیں دھوکا دیا ، خود عیش و عشرت کی زندگی بسر کرتے چلے آئے ہیں ۔ ان کے دنیا بھر میں محل اور جائیدادیں ہیں اور عوام کو اندھیرے میں رکھتے ہوئے بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا ہے ، تعلیم ، صحت اور انصاف مفت اور آسانی سے نہیں فراہم کر سکے لہٰذا وہ کیوں ان سے توقعات وابستہ کر کے خود کو مزید برباد کریں؟

سیدھی بات یہ ہے کہ بگاڑ سماجی ہو یا معاشی اپنی آخری حد کو چھو رہا ہے مگر حیرت یہ ہے کہ ذمہ داران عوام کا کچومر نکالنے پر تلے نظر آتے ہیں ۔ بدعنوان عناصر اور مافیاز پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتے ہیں کہ جنہوں نے لوگوں کی جمع پونجی کو ہتھیا کر انہیں کہیں سے کہیں پہنچا دیا۔ لگتا یہ ہے کہ سبھی اس حمام میں ننگے ہیں اور مل کر بے بس و لاچار عوام کو بے وقوف بنا رہے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ جب اس ملک کے خزانے کو اپنا سمجھ کر سمیٹا جا رہا تھا تو باخبر حلقے اس سے آگاہ کیوں نہیں تھے ، اب جب سکینڈل در سکینڈل سامنے آ رہے ہیں تو حیران ہوا جا رہا ہے ، خیر جو ہو چکا سو ہو چکا ، جو رقوم جس کسی نے بھی جہاں کہیں بھی منتقل کر لیں وہ دوبارہ نہیں آ سکتیں لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں شور مچانے کے بجائے کوئی راستہ ڈھونڈیں جو ہمیں بحرانوں سے نکالتا ہو۔

صورت حال ہر گزرتے دن کے ساتھ خراب ہوتی جا رہی ہے جسے ٹھیک کرنے کے لیے حزب اقتدار کے پاس ایک ہی فارمولا ہے کہ ٹیکس لگا دو اور حزب اختلاف اس حوالے سے کہتی ہے کہ حکومت کو گرایا جائے تاکہ عوام کی حالت بہتر ہو سکے۔ اگر حکومت خزانے کو لوٹ رہی ہے تو اس کے لیے عدالت کا رخ کیا جائے ، آٹا چینی مہنگا کرنے والوں کو تقریروں سے کچھ فرق نہیں پڑنے والا ، انہیں باضابطہ طور سے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے مگر اس سے بھی کیا ہو گا۔ قانون تو مکڑی کا جالا ہے جس میں طاقتور نہیں پھنستا۔جب تک دلوں میں عوام کی خدمت کا جذبہ پیدا نہیں ہوتا یہ پکڑ دھکڑ اور شکنجے بے معنی ہیں۔

یہاں ہم یہ بھی عرض کر دیں کہ ملک پر جو قرضہ چڑھا دیا گیا ہے وہ آسانی سے اترنے والا نہیں ، آج مہنگائی اور بے روزگاری نے چیخیں نکلوا دی ہیں تو کل کیا ہو گا ، لہٰذا حکومت گراؤ اور ہمیں لاؤ کے پروگرام سے ہٹ کر غور کیا جائے۔

میڈیا کا فرض بنتا ہے کہ وہ سیاستدانوں کی خامیوں کے بجائے انہیں صحت مندانہ اقدامات کے لیے ذہنی طور سے آمادہ و تیار کرے ، ان کو بتائے کہ عوام کی حالت جو بدتر ہوئی ہے ، وہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہوئی ، ان کی عدم توجہی سے ہوئی ۔ اب اگر آپ اپنے اندر تبدیلی لاتے ہیں تو درپیش مسائل میں پچاس فیصد کمی آ سکتی ہے۔

حرف آخر یہ کہ عوام کی توجہ ان کی پریشانیوں اور مشکلات سے ہٹانے کے لیے طرح طرح کی تراکیب نہ سوچیں۔ ان کی زندگی کیسے خوشحال ہو سکتی ہے، اس سے متعلق بتایا جائے اور یہ صرف حکومت کا ہی نہیں حزب اختلاف کا بھی فرض ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •