فلسفہ وجودیت اور دانائی کی مختلف روایات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فلسفہ وجودیت انیسویں اور بیسویں صدی میں ظہور پذیر ہوا ، سب سے پہلے اس اصطلاح کو جسے existentialism کہتے ہیں فرینچ کیتھولک فلاسفر Gabriel Marcel نے 1940ء کے درمیان متعارف کروایا تھا ، اس کے بعد 1945ء میں بیسویں صدی کے ایک عظیم فرانسیسی فلاسفر ژاں پال چارلس سارتر نے اس اصطلاح کو عملی طور پرمتعارف کروایا اور پارس کے کلب مینٹی نیٹ ہال میں فلسفہ وجودیت پر ایک تفصیلی لیکچر بھی دیا تھا۔

فرانس کے اس عظیم فلسفی کو 1964ء میں نوبل پرائز کے لیے منتخب کیا گیا تھا مگر سارتر نے یہ کہہ کر پرائز لینے سے انکار کر دیا تھا کہ ”میں اپنی ذہنی کاوشوں کو کسی کا غلام نہیں بنا سکتا اور میں اپنا کام آزادانہ طریقے سے کرنا چاہتا ہوں“ فلسفہ وجودیت کی بنیاد تین اصولوں پر کھڑی ہوتی ہے۔

1. EXISTENCE 2. PRECEDE 3. ESSENCE

یعنی جو ہمیں اتفاقی حیات ملی ہے ، اس کے کوئی معنی نہیں ہیں بلکہ یہ ایک مضحکہ خیز (absurd) چیز ہے۔ اس حیات کو معنی خیز بنانے کے لیے انسان کو خود تگ و دو کرنا ہو گی اور وہ ایسا کرنے میں بالکل آزاد ہے، کسی بھی بنے بنائے طے شدہ اصول کے ماتحت نہیں ہے۔ مذہبی یا روایتی فلسفے میں وجودیت کی یہ تینوں اقسام reverse فارم اختیار کر لیتی ہیں یعنی essence، precede، existence ، روایتی فلسفہ میں ایک نظام حیات مقدس الہامی کتابوں کی صورت میں پہلے سے موجود ہوتا ہے۔ پس ہمیں ان پہلے سے موجود تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر اپنی زندگی میں معنویت پیدا کرنی ہوتی ہے جبکہ فلسفہ وجودیت کے مطابق پہلے سے کچھ بھی موجود نہیں ہوتا بلکہ ہمیں خود اپنے تجربات اور علم کی بنیاد پر اپنا فلسفہ حیات خود تشکیل دینا ہوتا ہے اور اپنے اعمال کی ذمہ داری خود لینا پڑتی ہے۔

وجودیت ایک فلسفہ ہے خود کو خود جاننے کا اور خود زندگی کے معنی تلاش کرنے کا اور ہر انسان اپنی مرضی، اختیار اور ذاتی ذمہ داری سے زندگی کے معنی کھوج سکتا ہے ، وہ اپنی ذاتی زندگی کے تجربات سے یہ اخذ کر سکتا ہے کہ ”میں کون ہوں اور میں کیا کر سکتا ہوں“ ۔ فلسفہ وجودیت کے علاوہ دنیا میں بے شمار روایات موجود ہیں اور انسانوں نے دانائی کل کو پانے کے لیے مختلف راستوں کا انتخاب کیا جن میں ادیان کے علاوہ بھی لوگوں نے آزادانہ طور پر کاوشیں کی ہیں اور یہ سفر آج بھی جاری ہے۔

1۔ دانائی کی پہلی روایت: (Zoroastrianism)

یہ دنیا کا قدیم ترین مذہب ہے ، اس مذہب کے بانی کا نام زرتشت تھا ، ان کو پارسی یا آگ پرست بھی کہا جاتا ہے۔ یہ (Monotheistic) مذہب تھا اور سب سے پہلے زرتشت نے ہی ایک خدا کا تصور دیا تھا۔ یہ روایت ایران سے شروع ہوئی ان کی روحانی کتاب کا نام Gathas ( گاتھاز) ہے۔ یہ روایت ایران کے علاوہ مشرق وسطٰی میں بھی مقبول ہوئی اور اس کے اثرات کو بڑے بڑے مذاہب نے بھی قبول کیا۔ زرتشت نے نیکی بدی، حیات بعد از موت، جنت اور جہنم کے تصورات بھی پیش کیے۔ دھات کے زمانہ میں ایرانی polytheistic تھے یعنی لا تعداد خداؤں پر یقین رکھتے تھے۔

2۔ دانائی کی دوسری روایت: (بدھا Buddaha )

اس روایت کا آغاز ہندوستان سے ہوا اور اس روایت میں دو شخصیات کے نام آتے ہیں کیونکہ یہ دونوں شخصیات آوا گون یا areincarnation پر یقین رکھتی ہیں۔ ان کے مطابق مرنے کے بعد انسان کے کئی جنم ہوتے ہیں اور روح بار بار زمین پر آتی رہتی ہے۔ ان کے خیال میں روح زندگی کے دائرے میں روحانی منازل طے کرتی ہے اور دانائی کل سے جاملتی ہے۔ اس روایت کے راہنما بدھا اور مہا ویرا ہیں۔ مہاویرا کو جین ازم کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ ان روایتوں میں خالق خدا کا تصور موجود نہیں ہے لیکن جسم سے علیحدہ روح کا تصور موجود ہے۔ بدھ ازم کے تصورات میں سب سے اہم اصول ”کرما“ ہے یعنی انسان جو کرتا ہے وہی بھرتا ہے۔

3۔ دانائی کی تیسری روایت : (کنفیوشس اور لاؤزو )

اس روایت کا آغاز چین سے ہوا اور یہ ایک سیکولر روایت ہے۔ اس میں خدا اور جسم سے علیحدہ روح کا تصور موجود نہیں ہے۔ اس روایت کا بانی کنفیوشس ہے اور دوسرے لاؤزو ہیں جنہیں تاؤازم کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ یہ روایت فطرت سے جڑنے پر زور ڈالتی ہے اور انسانوں کو ایک بہتر انسان بننے کی تلقین کرتی ہے۔ لاؤزو ایک فطرت پسند انسان اور شاعر تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ فطرت کے قریب رہ کر ہم ایک خوشگوار زندگی گزار سکتے ہیں۔ کنفیوشس نے انسانیت کو ایک سنہری اصول سے نوازا جسے بعد میں بہت سارے مذاہب نے بھی اپنایا۔ ان کا کہنا تھا ”ہمیں دوسروں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرنا چاہیے جیسا کہ ہم اپنے ساتھ چاہتے ہیں“

4۔ دانائی کی چوتھی روایت: (بقراط، سقراط، افلاطون اور ارسطو)

یہ سائنسی روایت ہے اور یونانی فلاسفروں نے فلسفے اور سائنس کی روایتوں کو جنم دیا۔ ان فلسفیوں پر یہ الزام تھا کہ یہ یونانی خداؤں کے منکر ہیں اور نوجوانوں کو سوچنے پر اکساتے ہیں جن کا نتیجہ یہ ہے کہ نوجوان گمراہ ہوتے جا رہے ہیں بلکہ اپنے سچ کو بیان کرنے کی خاطر سقراط کو زہر کا پیالہ پینا پڑ گیا تھا۔

انسانی سوچ میں تغیر و تبدل شروع دن سے چلتا آ رہا ہے کیونکہ ہر انسان دانائی کل کو کھوجنا چاہتا ہے اور یہی کھوج و جستجو انسان کو مزید سے مزید جاننے پر اکسائے ہوئے ہے اور اسی تجسس نے ہی انسان کے سوچنے کے لیے بے حساب دروازے کھول دیے ہیں۔ مختلف فلسفے، مذاہب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انسان بہت کچھ کھوج چکا ہے اور کھوج کے اس سفر کا تسلسل ابھی بھی جاری ہے۔ آج سوچ کے اتنے زیادہ در کھل چکے ہیں اور اتنی زیادہ چوائسز موجود ہیں کہ آج کا انسان جس در میں چاہے داخل ہو سکتا ہے۔

آج کے انسان کے شعور نے آسمان کی بجائے زمین کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے اور اسے اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ اس کے تمام مسائل کا حل اسی زمین پر موجود ہے اور وہ خود ہی اس زمین کو جنت بنا سکتے ہیں ۔ ضروت اس امر کی ہے کہ ہمیں آگاہی و شعور کے دریافت ہونے والے ان نئے راستوں پر تنگ نظری کا پہرہ نہیں بٹھانا چاہیے بلکہ وسیع النظری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہمیں آج کی نسل کو اپنا راستہ خود چننے کے لیے آزاد کر دینا چاہیے تاکہ سوچوں کے تسلسل میں آگاہی کے پھول زیادہ سے زیادہ کھل سکیں۔ بدھا نے دنیا سے رخصت ہوتے وقت اپنے پیروکاروں کو ایک نصیحت کی تھی جو کہ بہت ہی قابل غورہے اس کا کہنا تھا کہ

”Enlighten yourself and don ’t follow me“
یعنی خود کو روشن کرنے کے لیے اپنا راستہ خود چننا اور میری پیروی مت کرنا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •