ایک سو سڑسٹھ روپے انچاس پیسے کی قومی ترقی

وسعت اللہ خان - تجزیہ کار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوسری جماعت میں ہم بچے پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کا منظور شدہ جو قاعدہ پڑھتے تھے اس میں پاکستان کی سرحدوں، صوبوں اور قیامِ پاکستان کی آسان زبان میں وجوہات بتانے کے ساتھ ساتھ صدرِ مملکت کا بھی تعارف مندرجہ ذیل الفاظ میں کروایا گیا تھا۔

’ہمارے صدر کا نام جنرل آغا محمد یحیی خان ہے۔ وہ ایک بیدار مغز شخصیت ہیں۔ انہیں ہر وقت ملکی تعمیر و ترقی کا خیال رہتا ہے۔ پاکستان ان کی قیادت میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔‘

تین برس بعد دوسری جماعت کا یہ قاعدہ تو نہ بدلا البتہ ایک نام بدل گیا کہ ’ہمارے صدر کا نام ذوالفقار علی بھٹو ہے۔ وہ ایک بیدار مغز شخصیت ہیں۔ انہیں ہر وقت ملکی تعمیر و ترقی کا خیال رہتا ہے۔ پاکستان ان کی قیادت میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔‘

اس کے بعد سے میں نے دوسری جماعت کا قاعدہ تو نہیں دیکھا۔ البتہ اگر آج بھی یہ قاعدہ مروج ہے تو یقیناً اس میں لکھا ہوگا ’ہمارے وزیرِ اعظم کا نام عمران خان ہے۔ وہ ایک بیدار مغز شخصیت ہیں۔ انہیں ہر وقت ملکی تعمیر و ترقی کا خیال رہتا ہے۔ پاکستان ان کی قیادت میں مسلسل ترقی کر رہا ہے۔‘

اس بھیڑ چالی درسی قاعدے سے قطع نظر ہر حکومت کی طرح موجودہ حکومت کی بھی نیت صاف ہے منزل بھلے آسان نہ ہو۔

جب خان صاحب جولائی دو ہزار اٹھارہ میں برسرِاقتدار آئے تب تک سابق حکومتیں پاکستان کی فلاح و بہبود کے لیے نوے بلین ڈالر کے غیر ملکی قرضے لے چکی تھیں۔ پچھلے ڈھائی برس میں گذشتہ غلط پالیسیوں کو ڈھا کے نیا پاکستان بنانے کے لیے مزید چوبیس ارب ڈالر کا قرضہ لیا جا چکا ہے۔ یعنی قومی بجٹ میں کل ملا کے سود سمیت تقریباً گیارہ ارب ڈالر سالانہ ان قرضوں کی واپسی کے لیے مختص کرنا پڑ رہے ہیں۔

گویا تمام قومی بجٹ سود، دفاع اور انتظامی اخراجات کی مد میں کم و بیش برابر ہو جاتا ہے۔

اس شیطانی چکر سے نکلنے کے لیے موجودہ حکومت سرتوڑ کوششیں کر رہی ہے۔ گیس اور بجلی پر سبسڈی مسلسل کم کی جا رہی ہے۔ ٹیکس نیٹ میں زیادہ سے زیادہ کمپنیوں اور افراد کو لانے کی کوشش ہے۔ بیمار اور خسارہ زدہ اداروں کو ختم کیا جارہا ہے یا آپس میں ضم کیا جارہا ہے تاکہ اخراجات کم سے کم ہو سکیں۔

سٹیل ملز اور پی آئی اے جیسے سفید ہاتھیوں کو بھی کاون ہاتھی کی طرح کسی خدا ترس کو سونپنے کے لیے کسی سرمایہ کار کی تلاش جاری ہے۔

موجودہ حکومت سے پہلے بھٹو تا نواز شریف ادوار کے چھیالیس برس میں سرکاری اور کمرشل بینکوں نے چار سو سے زائد نجی کمپنیوں، اداروں اور افراد کو دباؤ، سفارش اور واقفیت کی بنیاد پر دیے گئے ادھار میں سے لگ بھگ پانچ سو ارب روپے کے قرضے دادا جی کا مال سمجھ کر رائٹ آف کر دیے۔

اچھی بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت قرضے رائٹ آف کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا نہیں۔ بلکہ نیب پہلے کے مقابلے میں زیادہ جارحانہ طریقے سے کرپشن اور اقربا پروری کے دودھ پر پلنے والوں کے پیچھے پڑا ہوا ہے۔ نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ پاکستان بھی چوری اور لوٹ کے مال کا تعاقب سرگرمی سے جاری ہے۔

بیرونِ ملک پاکستانیوں کے پیسے کو راغب کرنے کے لیے روشن پاکستان ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور نیا پاکستان انویسٹمنٹ سرٹیفکٹس کے اجرا جیسی سکیمیں بھی کامیاب بتائی جا رہی ہیں۔

اگر یہ تمام منصوبے کامیاب ہو گئے تو انشااللہ اتنا پیسہ ضرور جمع ہو جائے گا کہ ہماری ریاست قرضوں کے سود، دفاعی و انتظامی اخراجات سے بچ جانے والی رقم سے پی آئی اے کے بیرونِ ملک ضبط ہونے والے کسی بھی طیارے نیز روز ویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکائب ہوٹل نیویارک کو قرقی سے نکال سکے۔

ریکوڈک تانبے کے زخائر کے معاہدے کو منسوخ کرنے پر ٹیتھیان کمپنی کو چھ ارب ڈالر کا جرمانہ بھر سکے۔

جس اصلی براڈ شیٹ کمپنی نے نیب کے ساتھ قانونی ہاتھ کر کے بذریعہ عدالت انتیس ملین ڈالر ہتھیا لیے ہیں ، اور ایک اور جعلی براڈ شیٹ نے ڈھائی ملین ڈالر پہلے ہی جیب میں ڈال لیے، اس سب غفلتی نقصان کا خسارہ پورا ہو سکے۔

مفرور الطاف حسین کو پاکستان لانے کی کوششوں میں غیر ملکی وکلا کو پچھلے تین برس میں ایک سو پینتیس ملین روپے ادا ہو چکے ہیں اور مزید ادا ہونے ہیں۔ ان موجودہ اور ممکنہ قانونی اخراجات کی بھرپائی ہو سکے گی۔

نیز بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں سے پوری بجلی نہ خریدنے کے باوجود انہیں ان کی کل پیداوار کی مکمل ادائیگی کا جو طوق تئیس سو ارب روپے کے گردشی قرضے کی شکل میں سرکار کے گلے میں ڈلا ہوا ہے، مالیاتی ریکوری اور اصلاحات کے نتیجے میں امید ہے کہ اس طوق کا بوجھ بھی کم ہو پائے گا۔

ان تمام مدوں اور بقایاجات کو کلئیر کرنے کے بعد سرکاری خزانے میں جو ایک سو سڑسٹھ روپے انچاس پیسے بچ جائیں گے وہ یقیناً عوامی ترقی اور معیارِ زندگی کو بہتر کرنے پر سو فی صد خرچ ہوں گے۔ انشااللہ۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •