پی ڈی ایم اور سویلین سپریمیسی کا فریب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے ملک کے ایک ثقہ مؤرخ ( افسوس کہ ایسوں کی تعداد نہایت قلیل ہے اس وقت) ، محترم شجاع نواز صاحب نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا:

“When out of power, political parties decry the military’s role. When in power, they fall over themselves in trying to curry favor with the military via a system of entitlements and prerogatives. The current government is operating under the illusion of a partnership, but this partnership is unequal and unlikely to last if the civilian side fails to govern successfully or to meet the economic and pandemic challenges.”

ویسے تو محترم کی بات ہر کوئی سمجھ سکتا ہے لیکن اگر کسی کو سمجھ نہیں آئی تو اسے بتاتا چلوں کہ محترم کہنا چاہتے ہیں کہ جب ہمارے سیاست دان اقتدار سے باہر ہوں تو ”ووٹ کو عزت دو“ لیکن جب اقتدار میں ہوں تو ”بوٹ کو عزت“ دو پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ محترم نے یہاں پر حکومت کے اس خیال کہ ”محافظ ان کے ساتھ ہے“ کو ایلوژن کا نام دیا ہے۔ یعنی ”نظر کا دھوکہ“ ۔ مطلب یہ ہے کہ حکومت کو یہ غلط فہمی ہے کہ ”محافظ“ ان کے ساتھ ہیں۔ اسی کا تقریباً ہم معنی لفظ ہے ڈیلوژن۔

دونوں میں فرق یہ ہے کہ ایلوژن میں ایک چیز موجود ہوتی ہے اسے صرف سمجھنے میں غلطی ہو جاتی جیسے ”دور سے دیکھا تو انڈے ابل رہے تھے۔ پاس جا کر دیکھا تو گنجے اچھل رہے تھے“ ۔ جب کہ ڈیلوژن سراب ہوتا ہے۔ اس میں ایک ایسی چیز انسان مان رہا ہوتا ہے جو وجود ہی نہیں رکھتی۔ ڈیلوژن زیادہ خطرناک ہے کیونکہ ایلوژن میں مسئلہ فہم کا ہوتا ہے، اگر آپ معاملہ سمجھ جائیں تو ٹھیک ہونے کی امید ہے جبکہ ڈیلوژن میں جس چیز کو مانا جا رہا ہوتا، اس کا وجود ہی نہیں ہوتا۔ پی ڈی ایم کا سویلین سپریمیسی کا بیان ( کچھ لوگ اسے بیانیہ کہتے ہیں جو کسی مذاق سے کم نہیں ) بھی ایک ڈیلوژن ہے۔

ویسے تو سویلین سپریمیسی کا مطلب ہے ”تمام قوت و اختیار کا سویلین کے ہاتھوں میں ہونا“ ۔ یہ اصطلاح ان ملکوں میں عام ہے جہاں طاقت کا سرچشمہ ”محافظ“ ہوتے ہیں۔ ہر فیصلہ وہی کرتے یہاں تک کہ حکمران کو بھی ہمت نہیں ہوتی اس کے خلاف جانے کی۔ چونکہ پاکستان میں بھی یہی صورتحال ہے لہٰذا یہاں بھی وقتاً فوقتاً یہ اصطلاح استعمال کی جاتی ہے، لیکن استعمال کرنے والے وقت اور حالات کا خاص خیال رکھتے ہیں۔ اگر وہ حکومت میں ہوں تو نہ انہیں سویلین سپریمیسی یاد آتی اور نہ ہی اس نام کی کسی چیز کا وہ ذکر کرتے لیکن جیسے ہی اقتدار سے رخصت ہوتے پھر ”اپنی حدود میں رہو“ شروع ہو جاتا ہے۔

ماضی میں اس کی بہترین مثال عمران خان تھے، کیا کمال باتیں کرتے تھے۔ ”محافظوں“ کو جس طرح لتاڑتے تھے اس کی مثال نہیں ملتی۔ پھر وہ اقتدار میں آ گئے اور اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ کل کو جب رخصت ہوں گے تو پھر ”حدود، حدود“ کی گردان کریں گے۔ فی الحال یہ کام اپوزیشن کے اتحاد نے سنبھال رکھا ہے۔

یہ اتحاد جو پی ڈی ایم کے نام سے قائم ہے، روزانہ صبح شام ایک ہی رٹ لگائے ہوئے ہے کہ ”محافظوں“ کو ان کی حدود میں بھیجنے کا وقت آ پہنچا ہے، لیکن سوائے کھوکھلی تقریروں کے اب تک کچھ خاص کارنامہ اس اتحاد نے انجام نہیں دیا اور نہ ہی یہ دے سکتے ہیں۔ اس حوالے سے مجھے ایک کارٹون کی یاد آتی ہے۔ اس کا نام ہے ”KUNG FU PANDA“ اس کارٹون میں ایک مقام پر ماسٹر ”اوگوے“ اپنے شاگرد ”شیفو“ کو جو پانڈا پر بھروسا کرنے کو تیار نہیں کہتا ہے :

”But no matter what you do that seed will grow to be a peach tree you may wish for an apple or an orange but you will get a peach“

تو جس طرح آڑو کے بیچ سے سیب یا کینو نہیں اگ سکتے، اسی طرح مفاد کی سیاست کرنے والے سویلین سپریمیسی نہیں لا سکتے۔

یہ زیادہ پرانی باتیں نہیں، ماضی قریب کا قصہ ہے کہ کس طرح میاں صاحب نے وزیراعظم کے منصب کو آخری حد تک ذلیل کیا، خود کو بچانے کے لیے ہر حد تک گئے لیکن جب پوری طرح ناکام ہو گئے تو پھر ”حدود، حدود“ کی گردان شروع کر دی۔ حالانکہ جب میاں صاحب حکومت میں تھے تب ”محافظوں“ کی عزت کی اتنی فکر تھی کہ مشرف پر مقدمہ چلانے کو بھی تیار نہ تھے۔ صحافیوں پر حملے ہوئے، لوگ لاپتہ ہوئے لیکن مجال ہے میاں صاحب کچھ بولے ہوں، اب ان کی غصے کے عالم میں کی گئیں تقریریں سن کر اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میاں صاحب کوئی سویلین سپریمیسی لائیں گے تو اسے کیا کہا جا سکتا ہے؟

یہی باقی جماعتوں کی حالت ہے۔ مولانا صاحب کے متعلق سب جانتے کہ کیسے وہ ’ان‘ کے لیے کیا کیا کرتے رہے۔ اب جب ’ان‘ نے ان کی ”خدمات“ کا صلہ دینے کی بجائے ان کے دشمن کے ساتھ ہاتھ ملا لیا تو وہ آگ بگولہ ہو گئے۔ اب معاملہ صاف ہے جب تک ان کو صلہ نہیں ملتا وہ آگ بگولہ رہیں گے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی کے تو کیا ہی کہنے۔ اب یہ تمام جماعتیں صبح شام تقریریں کر رہی ہیں کہ بس بہت ہو گیا اب ”محافظوں“ کو حدود میں لائیں گے۔

اس ڈیلوژن کا شکار کارکنان سے تو شکوہ نہیں لیکن کچھ صحافی حضرات کا عمل حیران کن ہے۔ وہ بھی ڈیلوژن کا شکار ہو گئے ہیں حالانکہ وہ انہیں قریب سے دیکھ چکے ہیں۔ ماننا پڑے گا جس طرح عمران خان ڈیلوژن کی بنیاد پر حکمران بن گئے، اسی طرح پی ڈی ایم بھی لوگوں کو یہ ڈیلوژن دینے میں کامیاب ہو چکی ہے کہ وہ سویلین سپریمیسی کی کوشش کر رہی ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ جو ”محافظ“ 1971 میں ملک تڑوا کر بھی اتنے مضبوط تھے کہ چھ سال میں اقتدار دوبارہ سنبھال لیا، کیا وہ صرف چند کھوکھلی تقریروں سے اپنی حد میں چلے جائیں گے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •