ایجاد ضرورت کی ماں ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پڑھا تھا ضرورت ایجاد کی ماں ہے لیکن سرمایہ دارانہ معاشی دور میں سوچنا پڑھتا ہے کہ ایجاد ضرورت کی ماں ہے۔ اب دن کے آغاز اور اختتام پر دانت صاف کرنے کے لیے ٹوتھ پیسٹ اور پلاسٹک کے برش استعمال کریں۔ دانت صاف کرنے کے لیے پہلے پیسٹ تیار ہوئی یعنی ایجاد ہوئی، پھر اسے ضرورت بنانے کے لئے کچھ ایسی مارکیٹنگ کی گئی کہ مردوں کو یقین ہو جائے کہ خوبصورت خاتون جناب کے قریب سے تب ہی مسکراتی ہوئی گزرے گی، جب مخصوص پیسٹ سے روزانہ دو مرتبہ دانت صاف کیے جائیں گے اور دیکھتے دیکھتے یہ ایجاد ہر انسان کی ایک اہم ضرورت بن گئی۔

یعنی سوچا جائے کیا دو سو سال پہلے کے انسان دانت نہیں رکھتے تھے یا ان کے دانت کمزور تھے؟ لیکن صدیوں پرانے فوسلز تو دانتوں کی کمزوری کی گواہی نہیں دیتے۔ پھر یہ سفر یہاں نہیں رکا بلکہ سفید چمک دار دانتوں کے ٹی وی اشتہارات نے تو ایک چوہا دوڑ ہی لگا دی، نت نئے برانڈز اور ان کے ذریعے جادوئی مسکراہٹ کا دعویٰ، نسوانی حسن اور مردوں کی لمبی قطار جو حسینہ کی ایک سفید چمک دار مسکراہٹ پر مٹنے والی ہو۔ برتن مانجھنے والا صابن ہو یا لیٹرین صاف کرنے والا مائع صابن نما، سب کا ایک ہی وعدہ ’رکھے سفید چمک دار‘ اور ان کے مسلسل بڑھتے خریدار۔

پھر ایک ’کولائی دور‘ آیا۔ کوئی سوا سو سال پہلے حادثاتی طور پر ایک دوائی پوری دینا کا مقبول ترین مشروب بن گئی اور تیز کھانے عرف فاسٹ فوڈ کا اور اس کا چولی دامن کا ساتھ ٹھہرا، لیکن کسی نے یہ سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی کہ اس چولی کے پیچھے کیا ہے اور اس بوتلی کھانے کے مقاصد کیا ہیں۔ بوتل اور برگر ساتھ ہونا ناگزیر ہے، اس ایجاد کو بھرپور اشتہارات کے ذریعے روزمرہ کا حصہ بنا دیا گیا اور یہ مشروب دنیا میں اس جگہ بھی فروخت ہو رہا ہے جہاں پینے کا پانی نایاب ہے۔

اسی سے حوصلہ پکڑتے ہوئے سادہ پانی کو بوتل میں قید کر کہ فروخت کرنے کا سرمایہ دارانہ خیال آیا۔ اور پھر منرل واٹر یعنی بوتل میں قید پانی کا منافع بخش دور آیا۔ اب پانی بیچنے والے ایک چینی تاجر کا دنیا کے دولت مند ترین افراد میں شمار ہوتا ہے۔ عام نلکے سے آنے والے پانی کے خلاف بھرپور مہم چلائی گئی۔ اس پر بڑی کمپنیوں کی اجارہ داری قائم کی گئی، سب سے زیادہ سب کے لیے میسر قدرتی شے یعنی پانی کو فروخت کرنے کے لیے کنٹرول کیا گیا اور اب یہ غریب آدمی کی پہنچ سے دور بوتل میں فروخت ہوتا ہے۔ بوتل والا پانی اسٹیٹس سمبل بن گیا ہے۔

ایک دن انٹرنیٹ ایجاد ہوتا ہے اور تیزی سے دنیا پر پھیل جاتا ہے اور ڈبلیو ڈبلیو ڈبلیو کا جادو تیزی سے ارتقائی منازل طے کرتا ہوا اب فیس بک، یوٹیوب اور واٹس ایپ کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ایسا جادو چلا کہ ان ڈیجیٹل ایپس پر اپنا پتہ بنانا سماجی زندگی کا اہم فریضہ ٹھہرا، بلکہ یہ نیا ڈیجیٹل سماج پرانا حقیقی سماج ہی نگل گیا۔

اس دور میں جو انہیں استعمال نہیں کرتا اس کا شمار ان پڑھ جاہلوں میں ہونے لگا۔ کیا عجب ڈیجیٹل دنیا ہے جس کا پیٹ ڈیٹا کی شکل میں آدمی بھرتا ہے، آدمی پڑھتا ہے، آدمی لڑتا ہے، آدمی ہی پھنستا ہے۔ اس آدمی ہی کا ڈیٹا کمپنی دوسری کمپنی کو بیچ کر منافع کماتی ہے اور آدمی کی سوچ کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔ آدمی کی سوچ کو قابو کر کے نئی ایجاد کرتی ہے اور اسمارٹ فون اس جن کا طوطا ہے جس کے قبضے میں اسے استعمال کرنے والا ہے۔ ہے ناں جدید دنیا کی جدید ترین شکل؟

آج کیپٹل ازم ترقی کرتے کرتے ہائپر کنزیومر ازم میں داخل ہو چکا ہے اور آدمی بھی ایک جنس بازار بن چکا ہے۔ یعنی ایک شے جس کے وجود، جس کے خیالات کی ایک قیمت ہے۔ اس ’جدید دنیا‘ میں نئی ایجاد کی ضرورت ایک خود کار نظام کے تحت پیدا کی جاتی ہے۔

سوئس چاکلیٹ، سوئس لان، سوئس پیسہ، سوئس اکاؤنٹس (جہاں منی لانڈرنگ کا پیسہ محفوظ کیا جاتا تھا) یہ تو تھے ہی، اب پیش ہے سوئس ہوا۔ جی ہاں! آج تازہ ہوا بھی فروخت ہو رہی ہے۔ جو سوئس پہاڑوں سے جار میں بند کر کے فروخت کی جا رہی ہے۔ کیسا دور ہے، سانس لینے کے بنیادی حق کے لیے ہوا بھی خریدنا پڑے۔

کیا اب کبھی کوئی ایجاد نفع و نقصان کے ہو گی، جس میں انسانی ہمدردی اور ضرورت بنیادی اصول ہو۔ فی الحال کورونا ویکسین کی تیاری اور فروخت نے یہ موقع بھی گنوا دیا۔ اب شاید آدمی کو نفع و نقصان کے عدسوں والی عینک اتارنے کے لیے ایک اور وبائی سانحے کی ضرورت ہے؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •