بر عظیم کے مسلمانوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ پہلی خاتون مسلم حکمران کا سہرا ان کے سر ہے۔ وہ چاہے رضیہ ہو یا بینظیر۔ ایک بادشاہانہ نظام حکومت کے تحت حکمران بنیں تو دوسری جمہوری نظام حکومت کے تحت۔ ایک کا پایہ تخت دہلی تو دوسری کا اسلام آباد۔ لیکن دونوں میں دو مماثلتیں تھیں ایک دونوں کو معزول کیا گیا اور دوسرا دونوں کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ دونوں کو قتل کر دیا گیا وہ بھی ایسے موقع پر جب دونوں دوبارہ حکمران بننے کی کوشش کر رہی تھیں۔
چونکہ دونوں کا نظام حکومت مختلف تھا لہذا ایک لشکر کے ذریعہ برسر پیکار تھی تو دوسری کو ووٹ درکار تھے۔ بینظیر بھٹو کو معاصر علما کی مخالفت کا سامنا بھی تھا لیکن کیا رضیہ سلطان کے ساتھ بھی یہی ہوا تھا؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے ضروری ہے کہ ہم سو، دو سو، تین سو یا ہزار سال بعد آنے والے مورخین یا لکھاریوں کو پڑھنے کی بجائے معاصرین کی طرف رجوع کریں کیونکہ تاریخ کا یہ متفقہ قاعدہ ہے کہ ہمیشہ معاصرین کو پہلے اہمیت دی جائے گی اور انہی کو سامنے رکھ کر تاریخ کی اصلاح کی جائے گی الا یہ کہ کوئی ایسی دلیل سامنے آ جائے جو معاصرین کو ناقابل قبول بنا دے۔
Read more