اقلیتوں کے لیے محفوظ پاکستان کب بنے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کمزور معیشت، سیاسی عدم استحکام اور مذہبی عدم رواداری جیسے بڑے مسائل سے نبرد آزما ہے۔ تکنیکی ماہرین نئی پالیسیوں، ترقیاتی منصوبوں اور اقدامات کو نافذ کر کے معاشی نمو اور سیاسی استحکام تو لا سکتے ہیں لیکن معاشرتی نقطہ نظر میں بہتری صرف اجتماعی کوشش سے ہی ممکن ہے جس سے پر امن اور روادار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے ، جہاں اقلیتوں کو زبانی طور پر نہیں بلکہ عملی طور پر احترام کے ساتھ قبول کیا جائے، مساوی حقوق دیے جائیں اور خاص طور پر انہیں مذہبی اختلاف رائے کا حق حاصل ہو۔

پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارمز جن کا مقصد پاکستانیوں کو آگاہی اور تعلیم دلانا ہے وہ مؤثر طریقے سے مذہبی رواداری کو فروغ دے سکتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ امن سے زندگی بسر کرنے کا ماحول پیدا کر سکتے ہیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کیونکہ ہمارے معاشرے میں مذہبی عدم رواداری جڑ پکڑ رہی ہے، جس سے اقلیتوں کو خوف، تشدد اور خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

پچھلی چار دہائیوں میں، تحریک طالبان پاکستان، تحریک لبیک پاکستان، ملی مسلم لیگ (حافظ سعید) سپاہ صحابہ اب ملت اسلامیہ، جیش محمد، لشکر جھنگوی جیسے مذہبی انتہا پسندوں نے پاکستان کی ایک پرتشدد شکل پیش کی ہے اور پاکستان میں عدم رواداری کو فروغ دیا ہے جس کا نتیجہ اکثر مذہبی اقلییتوں کے قتل کی صورت میں ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے ان معاملات میں اکثر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں کچھ نہیں کر سکتیں۔ مذہبی، ثقافتی، معاشرتی امور پر عدم رواداری کے پیغام کے ہمارے اور دنیا کے بہت سارے خطوں کے لئے دور رس نتائج برآمد ہوئے ہیں۔

مذہبی انتہا پسند عناصر امن، انصاف اور انسانی وقار کی ہماری مشترکہ اقدار کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں۔ احمدی، شیعہ اور عیسائی اقلیتوں کو مذہبی انتہاپسند ہراساں کرتے ہیں اور دھمکیاں دیتے ہیں۔ مذہبی انتہاپسند سب سے اطاعت چاہتے ہیں۔ اسی طرح انسانی حقوق کے کارکنوں کو مشکلات اور سنگین خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ توہین مذہب کے قوانین کا غلط استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں، عیسائیوں اور سیکولرز کے خلاف مقدمات چلائے گے اور ان کو ہراساں کیا گیا۔

توہین رسالت کے قوانین کے نفاذ اور توہین رسالت کے الزامات سے منسلک تشدد کی بہت مثالیں موجود ہیں جہاں توہین رسالت کے الزامات پر متعدد افراد کو اکثر جیل بھیجا گیا۔ احمدیہ اقلیت کو انتہا پسند تنظیموں کی طرف سے دشمنی اور ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور انہیں حکومت کی طرف سے تحفظ حاصل نہیں ہے۔

بد قسمتی سے احمدیوں کے خلاف تشدد کی مثالیں تلاش کرنا مشکل نہیں ہے۔ حال ہی میں پشاور میں ایک 82 سالہ احمدی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جو حالیہ مہینوں میں اقلیتی گروپ کے ممبر کی چوتھی مبینہ ٹارگٹ کلنگ ہے۔ اس کے علاوہ توہین مذہب کے ملزم طاہر احمد کو عدالت میں گولی مارنے کا واقعہ افسوس ناک ہے۔

اگرچہ یہ پچھلی تین دہائیوں میں پہلا واقعہ نہیں ہے۔ مذہبی انتہا پسندوں نے خالد خان [جس نے توہین مذہب کے ملزم طاہر احمد کو عدالت میں گولی مار دی] کو ہیرو بنا دیا اور ہمارے ملک کے لوگ اس غیر مسلح بزرگ کے وحشیانہ قتل پر متحرک نظر نہیں آئے۔ بہت دکھ کی بات ہے،  کتنی دیر تک یہ عدم برداشت اور ظلم کا سلسلہ جاری رہے گا، یہ ایک غور طلب سوال ہے؟

ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں جہاں اقلیتوں کو شدت پسند تنظیموں کی طرف سے ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں پولیس سے تحفظ نہیں ملا۔ 2010 میں تحریک طالبان کے کارکنوں نے لاہور کی مسجد میں نماز جمعہ کے دوران 86 احمدی نمازیوں کو بے دردی سے ہلاک کیا۔ 2013 میں ٹی ٹی پی نے پشاور میں 127 عیسائیوں کو مار دیا۔

2014 میں گوجرانوالہ میں ٹی ٹی پی کے ہمدردوں نے مبینہ طور پر توہین آمیز فیس بک پوسٹ کرنے پر احمدی آباد گاؤں میں متعدد گھروں کو جلا دیا تھا، جس میں ایک بوڑھی عورت اور اس کی دو پوتیوں سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔ جب ٹی ٹی پی اور اس سے وابستہ افراد نے احمدیوں اور عیسائیوں کا قتل عام کیا، تو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ احمدی اور عیسائی کافر ہیں جو اسلام کی توہین کرتے ہیں۔ اسی طرح جب ٹی ٹی پی نے فوجی خاندانوں کے بچوں کا قتل عام کیا تو اس نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ ان کے والدین کی امریکی ڈرون حملوں کی حمایت پر ٹی ٹی پی کی ناراضی یا غصے کا اظہار ہے۔

پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر اور اقلیتی امور کے وزیر شہباز بھٹی کو قتل کر دیا گیا۔ تاثیر کے معاملے میں قاتل ممتاز قادری کو بہت سے مسلمان علما کی حمایت حاصل تھی اور اس پر گلاب کی پنکھڑیاں نچھاور کی گییں۔ پاکستان میں ایک طالب علم مشعال خان پر توہین مذہب کا الزام لگایا گیا اور ایک ہجوم نے 2017 میں اسے بے دردی سے قتل کر دیا۔

ہمیں خوف پیدا کرنے والے رویوں پر قابو پانے کے لیے اجتماعی کوشش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ان بنیادی اسباب پر قابو پانے کے لیے احتیاطی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے جو افراد کو انتہا پسند گروپوں میں شامل ہونے پر مجبورکرتے ہیں تاکہ ہم ایک پرامن، روادار اور ترقی پسند معاشرے کی تعمیر کے اہل ہوں جہاں لوگ بلا خوف و خطر اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
وسیم رضا، لاہور کی دیگر تحریریں