گھسی پٹی محبت: دوسرا تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے لیے خوابوں کے آسمان کے ساتھ ساتھ زمین پر بسنے والے گھر بھی خود ہی بنانے پڑتے ہیں۔ اب کوئی شہزادہ کسی بھی گلی محلے میں پلنے والی لڑکی کے لئے آسمان سے تارے توڑ کے نہیں لاتا۔ میں نے زندگی میں بہت پہلے سے صرف ایک ہی بات سیکھی تھی اور سکول کے لیول سے ہی اپنے اردگرد سب کو نہ صرف سمجھاتی تھی بلکہ ہر طرح مدد بھی کرتی تھی اور وہ تھی تعلیم اور کرئیر! ہر لڑکی کی زندگی میں ایک مکمل تصور ہونا چاہیے کہ اسے اپنا کرئیر بنانا ہے، ہاتھ پہ ہاتھ دھر کے اچھے اور مالدار لڑکے کے رشتہ لانے کا انتظار نہیں کرنا۔

اس وقت بھی میرے پاس اگر کوئی بھی لڑکی کسی بھی طرح کی مدد کے لئے آتی ہے، میری پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ اس کی ہر قسم کی فضولیات سے جان چھڑا کر اس کا فوکس تعلیم اور کرئیر پہ دلواؤں اور ہر ممکن کوشش کر کے اسے کسی بھی طرح کسی کام میں یا تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف کروں، کسی جاب یا کرئیر کو جوائن کرنے کے لیے اسے مکمل اخلاقی، ممکنہ مالی مدد دوں اور ہر قدم پر اس کی نگرانی کرنے کی کوشش بھی کرتی ہوں، اکثر نتائج اچھے آ جاتے ہیں، کم ازکم کوشش ضرور شروع ہو جاتی ہے اور اصل میں کوشش ہی درکار ہے۔

”گھسی پٹی محبت“ کی آخری قسط میں سامعہ کی اپنے کام سے محبت اور لگن کو جس طرح زندگی کے تمام برے تجربوں کے بعد سامنے لایا گیا، بہت ڈھارس بندھی کہ اتنی ناکامیوں کے باوجود وہ زندگی کے اچھے گمان، مثبت سوچ اور محنت سے پیچھے نہیں ہٹی۔ اس نے کسی کے جھوٹے عشق میں خودکشی یا جوگ لینے جیسی انتہائی مایوس کن حرکتیں نہیں کیں۔ وہ زندہ بھی رہی اور اپنی شان، اپنے اصولوں اور اپنی ہمت کے ساتھ سر اٹھا کے محنت کرتی رہی۔

مرد بھی تو تین یا چار شادیاں کرتے ہیں، ان کے کردار پر حرف تک نہیں آتا۔ میں ایک ایسے شخص کو جانتی ہوں جس نے انتہائی کم وقفے میں یکے بعد دیگرے تین شادیاں کیں۔ دو بیویاں چھوڑ کے گئیں مگر اس کی صحت پہ تو کوئی فرق نہیں پڑا تو پھر ہمارا معاشرہ عورت کا جینا کیوں حرام کر دیتا ہے، اسے دوسروں کے غلطیوں کی پاداش میں ساری عمر طعنے سہنے پڑتے ہیں۔ اور کچھ نہیں بدل سکتا تو کم ازکم سوچ ہی بدلنی چاہیے۔ جلن، حسد اور بے سر پیر کے سوپ کی بجائے وومن امپاورمنٹ کے حوالے سے لوگوں کو مثبت مواد دکھانا بہت ضروری ہے۔

یہ تو طے ہے کہ زندگی، ہر ایک کے لیے کامیابیوں اور مسرتوں سے بھرا آسمان وا کیے بہت کم نظر آتی ہے بلکہ ہر کوئی اپنی جگہ ایک مستقل اور تھکا دینے والی جنگ میں الجھا ہوا نظر آتا ہے۔ یہ جنگ خود اپنے آپ سے بھی ہوتی ہے، اردگرد لوگوں سے بھی ہو سکتی ہے اور معاشرے سے بھی۔ ہم خود سے کی جانے والی سرد جنگ میں جب سرخرو اور فاتح بن کے خود سے نکلتے تو بہت پاس رہنے والے اپنے رشتے ہی ہمارے اندر چلنے والی کشمکش اور توڑ پھوڑ کے ساتھ ہونے والے واقعات کو تسلیم نہیں کرتے۔

”گھسی پٹی محبت“ میں ہر بار سامعہ نے وہ کیا جو اسے اس صورت حال میں ٹھیک لگا۔ اپنی طرف سے اس نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ اصولوں کی پاسداری اپنے دل کے سکون کے لیے نہ صرف ضروری ہے بلکہ اپنی بقا اور ہمیشگی کے لیے کسی چیز کا آپ میں ہونا آپ کو دوسروں سے سراسر مختلف کر دیتا ہے، اس مختلف ہونے میں کبھی لفظ ملیں نہ ملیں مگر عملی شکل ہر جگہ مل جاتی ہے۔

ویسے بھی زندگی میں کب ہر کوئی ہمیں پرفیکٹ ہی ملتا ہے کہ نتیجہ پرفیکٹ آنے کی امید رکھی جائے۔ امپرفیکشن اور یہ ادھورا پن ہی زندگی ہے اصل میں۔ اپنی تمام کوششوں کے باوجود سامعہ اپنا گھر نہیں بسا سکی۔ ہمارے معاشرے میں عورت کا گھر نہ بسا سکنا اس کی سب سے بڑی ناکامی تصور کی جاتی ہے لیکن کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ گھر بسانے کی ذمہ داری مرد پہ بھی اتنی ہی عائد ہوتی ہے جتنی کہ ایک عورت پر۔ عورت کو صرف شادی کے لیے تیار کیا جاتا ہے اور مرد کو کمائی کے لیے۔ چونکہ دونوں کو ہی ہر طرح کے متوقع حالات سے آگہی مہیا نہیں کی جاتی سو اپنی اپنی محدود عائد کردہ ذمہ داریوں کو انجام دینے میں بھی دونوں ہی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو پاتے۔

زندگی کا سب سے بڑا فیصلہ محض ایکسائٹمنٹ، وقتی توجہ یا ضرورت اور کسی خاص وجہ کے تحت کیا جائے تو نتائج سوائے بے چینی کے علاوہ اور کسی صورت نظر نہیں آتے۔ اکثریت تو اس بے چینی کی وجہ سمجھ ہی نہیں پاتی۔

سامعہ کے ساتھ بھی یہی ہوا کہ اس کے ہر شوہر نے شادی اس سے محبت میں نہیں کی تھی بلکہ وقتی جذبات یا ضرورت کے تحت کی تھی۔ سبزی لینے کے لیے لوگ ہمیشہ اپنے اعتماد والی جگہ پر جاتے ہیں پھر شادی کرتے ہوئے ایڈونچر کیوں کرتے رہتے ہیں۔ ایک دوسرے کو، ایک دوسرے کی عادتوں، رویوں اور ضرورتوں کو سمجھ کر اگر کسی کو زندگی میں شامل کیا جائے تو نتائج یقیناً مختلف ہوں گے، کیا ہی اچھا ہو کہ پھر محبت بھی ہو اور ساتھ نبھانے کا پیمان بھی۔

محبت کو آج کے دور میں شادی سے یکسر الگ کر دیا گیا ہے، ایسے لگتا ہے ایک ہی ٹرین کے دو ڈبے ہیں مگر ایک دوسرے پہ بند ہیں لیکن کوشش کی جائے تو کھل بھی سکتے ہیں۔ سامعہ کا آخری پڑاؤ ایسا ہی تھا جہاں مرد کو یہی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اسے محبت ہوئی بھی ہے کہ نہیں کہ خالی خولی کرش۔

خلیل الرحمٰن قمر کے فرسودہ لقب ”دو ٹکے کی عورت“ کے بعد فصیح باری نے ”بناسپتی گھی جیسے مرد“ کا لقب پیش کر کے عورتوں کے طبقے کا بدلہ بھی لے لیا۔ کیسا شدید تھپڑ ہے یہ لقب، بس محسوس کرنے کی بات ہے۔ جدھر دیکھتے ہیں ادھر ہی بناسپتی گھی کی طرح پگھلنے والے یہ مرد عورت سے غیر مشروط وفا مانگتے ہیں، جس کے نام تک سے خود ناواقف ہیں۔

ڈرامے کا ہر پہلو مثبت اور تعمیری سوچ لیے ہوئے تھا۔ ایسا لگتا تھا یہ کردار کوئی بلکہ ہمارے اندر بسنے والے مختلف لوگ ہیں جو جینا چاہتے ہیں مگر بار بار گرتے ہیں اور سنبھل کے دوبارہ چلنے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ محنت کرنے کی ٹھان لیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •