بھارتی یوم جمہوریہ اور بی جے پی سرکار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ملک 72 واں یوم جمہوریہ منا رہا ہے۔ دو سو سال سے زیادہ عرصہ تک برطانوی حکمرانی سے آزادی حاصل کرنے کے بعد یہاں 26 جنوری 1950ء کو آئین ہند نافذ ہوا۔ وطن عزیز ہندوستان کو دنیا کے دیگر ممالک پر یہ امتیازی خصوصیت حاصل ہے کہ یہاں کے رہنے والے متعدد مذاہب کے پیروکار اور مختلف تہذیبوں کے امین ہیں۔ آئین ہند حقوق انسانی کا سچا علم بردار ہے۔ آج کا دن ملک کے تمام شہریوں میں اتحاد، برابری اور مساوات کے جذبے سے اپنی وابستگی کی توثیق کرنے کا دن ہے۔

آج کا دن ہماری آزادی کی جدوجہد کی یاد دلاتا ہے اور یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ کس طرح ہمارے ملک کے عظیم مجاہدین آزادی نے ہمیں انگریزوں کی غلامی کی زنجیروں سے مکمل آزادی دلانے کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ ان مجاہدین آزادی کی جدوجہد کا نتیجہ ہے کہ آج ہم ایک ایسے جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں جہاں ہر شہری کو حق مساوات، حق آزادی، مذہب کی آزادی، ثقافتی اور تعلیمی حقوق، جائیداد کا حق، یہاں تک کہ آئینی اعتبار سے ملک کے ہر ایک شہری کو کسی بھی معاملے میں دستوری چارہ جوئی کا پورا پورا حق دیا گیا ہے۔

ایک منصفانہ اور شفاف عدالتی نظام کسی بھی جمہوریت کی اساس کی نمائندگی کرتا ہے۔ لیکن یہاں یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ بی جے پی حکومت ریاستی طاقت کو اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ ساتھ نقادوں کو ڈرانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ اس رجحان کی پہلی جھلک اگست 2019ء میں اس وقت سامنے آئی جب حکومت نے رشوت اور بدعنوانی کے الزام میں حزب اختلاف کانگریس پارٹی کے سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کی گرفتاری اور انہیں نظربند کرنے کے لیے سی بی آئی کو تعینات کیا تھا۔ یقیناً ملک میں بدعنوانی پھیل چکی ہے لیکن بی جے پی نے ابھی تک اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ خاص طور پر چدمبرم پر کیوں شکنجہ کسا گیا تھا؟

بہرحال یہ تو بہت پرانی بات ہوئی ، اب تو اس طرح کے واقعات کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے۔ مرکزی حکومت نے انسداد دہشت گردی کے قوانین کے استعمال سے سیاسی اختلاف رائے کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ خاص طور پر غیر قانونی سرگرمیوں سے بچاؤ کا ایکٹ (یو اے پی اے )، جس کی مدد سے ریاست افراد کو بغیر کسی ٹھوس بنیاد کے دہشت گرد قرار دے سکتی ہے۔ گزشتہ سال اسی خطرناک یو اے پی اے کے تحت بائیں بازو کے متعدد دانشوروں اور کارکنوں کو حراست میں لیا گیا تھا، ان میں سے اکثر آج بھی ملک کی مختلف جیلوں میں قید ہیں۔

مرکزی حکومت کی پالیسیاں آئین کے منافی ہیں۔ اس نے آئین ہند کے بنیادی اصولوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک تأثر یہ ہے کہ حکومت کا تنقیدی آوازوں کو دبانے اور انہیں دھمکانے کا رویہ تیزی سے عام ہوا ہے۔ پھر چاہے وہ مہینوں تک کشمیر کو مؤثر انداز میں لاک ڈاؤن کرنا رہا ہو یا این آر سی اور سی اے بی کو نافذ کرنے کی تگ و دو ہو، اس حکومت نے اپنے سیاسی مقاصد کے لیے مخصوص شہریوں کو بنیادی شہری حقوق سے محروم رکھنے کے لیے ریاست کی طاقت کو استعمال کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ ‎ یہ اقدات جمہوریت کی بقاء کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

فیصل فاروق، ممبئی، انڈیا

فیصل فاروق ممبئی، اِنڈیا میں رہائش پذیر کالم نِگار اور صَحافی ہیں۔

faisal-farooq has 27 posts and counting.See all posts by faisal-farooq