ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی مکمل داستان حیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے ایک طالب علم نے سوال کیا کہ کامیابی حاصل کرنے کا سب سے بڑا راز کیا ہے؟ اس پر انہوں نے جواب دیا کہ کامیابی حاصل کرنے کے لیے چار باتیں بہت اہم ہیں۔ جو بھی انسان ان چار چیزوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے، بڑی سے بڑی کامیابی اس کے قدموں میں آ گرتی ہے۔

کامیابی کے لئے سب سے بڑی اہم چیز ہے کہ عظیم مقصد کی تعمیر کی جائے۔ اس کے بعد اس مقصد کے لئے جتنا ممکن ہو سکے علم حاصل کیا جائے۔ علم حاصل کرنے کے بعد اس مقصد کو پانے کے لئے سخت سے سخت محنت کی جائے۔ اور آخری بات یہ کہ انسان مقصد کے حصول تک پیچھے مڑ کر کبھی نہ دیکھے اور نہ ہی شکست کا خیال اپنے دماغ میں لائے۔ وہ کہتے تھے کہ زندگی ایسے جیو کہ آپ کے مرنے کے بعد بھی دنیا آپ کو ہمیشہ یاد رکھے۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام 15 اکتوبر 1931 کو بھارتی ریاست تامل ناڈو کے شہر رامیش ورم میں پیدا ہوئے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام غریب مسلمان فیملی میں پیدا ہوئے تھے۔ اسکول کے زمانے میں ایک بار ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنی کلاس کی پہلی صف میں کسی امیر زادے کے بیٹے کے ساتھ بیٹھ گئے۔ ماسٹر نے کہا کہ کیسے ایک مسلمان بچہ پہلی صف میں بیٹھ سکتا ہے۔ ماسٹر نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو اس گستاخی پر تھپڑ دے مارا اور حکم دیا کہ آخری صف میں جا کر بیٹھ جاؤ۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام پیچھے جا کر بیٹھ گئے اور اپنے آپ سے کہا میں پیچھے بیٹھ کر دنیا کو بدلوں گا۔ اپنی آٹو بائیو گرافی میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ایک جگہ پر لکھا ہے کہ دنیا کا بہترین دماغ کلاس روم کی آخری صف میں بیٹھ کر بھی دنیا کو بدل سکتا ہے۔ ایک تو غریب فیملی دوسرا ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے دس بہن بھائی تھے۔ اس لئے بچپن میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اخبار بیچ کر اپنا خرچہ پورا کرتے تھے۔ بچپن ہی سے انہیں پڑھنے لکھنے کا بہت شوق تھا۔

اسی زمانے میں کسی نے ان سے کہا کہ یہاں سے کچھ میل دور ایک استاد ہیں جو مفت تعلیم دیتے ہیں۔ استاد کی مفت تعلیم دینے کی شرط یہ تھی کہ وہ اسی بچے کو مفت تعلیم دیں گے جو صبح نہا دھو کر چار بجے ان کے گھر پہنچے گا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نہا دھو کر کئی میل دور اس استاد کے پاس پڑھنے کے لئے پہنچ جایا کرتے تھے۔ بچپن میں رات کے وقت مٹی کے تیل سے جلنے والے لالٹین سے پڑھتے تھے۔ رات کی تعلیم کا اختتام اس وقت ہوتا جب لال ٹین میں مٹی کا تیل ختم ہو جاتا اور اندھیرا چھا جاتا۔ محنت پر یقین رکھنے والے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کہتے ہیں کہ چھوٹا مقصد بنانا جرم ہے، زندگی میں کچھ پانے کے لے ہمیشہ عظیم مقصد کو ہر انسان کو اپنا خواب بنانا چاہیے۔

ہائی اسکول کی تعلیم انہوں نے رام ناتھ کے ایک ہائی سیکنڈری اسکول میں مکمل کی۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنی آٹو بائیو گرافی میں کہتے ہیں کہ اگر کوئی انسان سورج کی طرح چمکنا چاہتا ہے تو اس سے پہلے اسے سورج کی طرح جلنا ہو گا۔ بچپن ہی سے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو آسمان کی بلندیوں پر اڑنے کا شوق تھا ، اس لیے انہوں نے بھارت کے شہر مدراس کے ایک کالج میں داخلہ لیا۔ اس کالج کا نام تھا مدراس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی۔

ایروناٹیکل انجینئرنگ میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے داخلہ لیا تھا۔ بہن نے بھائی کے داخلے کے لئے اپنے زیور بیچ دیے تھے تب جا کر ان کا داخلہ ہوا تھا۔ کالج میں انہیں ہوائی جہاز کا ماڈل بنانے کا پروجیکٹ ملا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ہوائی جہاز کا ماڈل تو بنا لیا لیکن کالج انتطامیہ کو وہ ماڈل پسند نہ آیا۔ کالج انتظامیہ نے کہا کہ اگر تین دنوں میں انہوں نے ہوائی جہاز کا بہتر ماڈل نہ بنایا تو ان سے اسکالر شپ چھین لی جائے گی۔

یہ بات سن کر ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام پریشان ہو گئے۔ لیکن انہوں نے ہمت نہ ہاری اور تین دنوں میں ہوائی جہاز کا ایک اور ماڈل بنا کر کالج انتظامیہ کے سامنے پیش کر دیا۔ کالج انتظامیہ کے پروفیسرز  نے جب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا نیا ماڈل دیکھا تو حیران رہ گئے۔ اس کے بعد ایم آئی ٹی کا امتحان ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ ناکامی کو دل میں اور کامیابی کو دماغ میں کبھی گھسنے نہیں دینا چاہیے۔

تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہیں نوکری کی دو آفرز ہوئیں، ایک مسٹری آف ڈیفنس سے اور دوسری ائیر فورس سے۔ ڈیفنس کی نوکری کی آفر دلی سے ہوئی تھی اور ائیر فورس کی نوکری کی آفر بھارت کے شہر ڈیرہ دون سے ہوئی تھی۔ یہ ائیر فورس میں جانا چاہتے تھے اس لیے ڈیرہ دون چلے گئے۔ دیرادون میں 25 طالب علم انٹرویو دینے آئے تھے۔ 25 لوگ تھے اور ائیر فورس کی نوکریاں تھی آٹھ ۔ انٹرویو میں یہ نویں نمبر پر رہے۔ اس طرح ائیر فورس کی نوکری انہیں نہ مل سکی۔

اس ناکامی کے بعد ٹرین میں بیٹھ کر دلی کے لئے روانہ ہوئے اور راستے میں ایک علاقے رشی کیش میں ایک روحانی استاد سوامی شیوانند سے ملاقات کے لیے اتر گئے۔ سوامی کو انہوں نے اپنی ناکامی کی کہانی سنائی تو اس پر سوامی شیوانند نے کہا کہ بیٹا جو تم نے سوچا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ ناکامی سے گھبرانے کی ضرور نہیں۔ اس کے بعد وہ ٹرین میں بیٹھ کر دلی پہنچے اور منسٹری آف ڈیفنس میں ڈی آر ڈی او کی نوکری کر لی۔

1963 میں ڈاکٹر عبدالکلام کو بھارتی حکومت کی طرف سے ناسا بھیجا گیا۔ اب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام چھ ماہ کی تربیت کے لئے ناسا پہنچ چکے تھے۔ ناسا انتظامیہ نے جب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کے ٹیلنٹ کو دیکھا تو حیران ہو گئے۔ ناسا والوں نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو کہا کہ وہ انہیں امریکا کی مستقل شہریت دینا چاہتے ہیں۔ ناسا والوں نے بے شمار سہولیات دینے کی آفر کی اور کہا وہ دوبارہ بھارت نہ جائیں اور یہیں رہ جائیں۔

ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے کہا انہیں دولت اور امریکی شہریت نہیں چاہیے ، وہ تربیت لینے کے بعد اپنے ملک ہندوستان واپس جائیں گے ، اس طرح ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام واپس ہندوستان آ گئے۔ بھارت میں اسرو (Indian Space Research Organisation)جوائن کر لیا۔ اسرو میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ہمت نہ ہاری اور تمام مشکلات کو کامیابی میں بدل دیا۔ 1963 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے انڈیا کا پہلا ساؤنڈنگ راکٹ لانچ کیا۔

اب بتیس سال کے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اپنے کام میں اتنا مشغول ہو گئے کہ شادی کرنا بھول گئے۔ کئی بار ان کی شادی کی تاریخ مقرر ہوئی لیکن یہ اپنی شادی پر نہ پہنچ سکے۔ 1969 میں انہیں اسرو کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ 1969 سے 1979 تک یہ اسرو کے ڈائریکٹر رہے اور جی جان سے کام کیا۔ ہر روز بیس گھنٹے کام کرتے تھے۔ ان دس سالوں میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے صرف دو دن چھٹی کی۔ ایک بار والد کے انتقال پر اور دوسری بار ماں کے انتقال پر۔

دس سال سے اسرو کے جس پروجیکٹ پر کام کر رہے تھے وہ ناکام ہو گیا۔ میڈیا نے واویلا مچایا کہ اس شخص نے بھارت کے کروڑوں روپے ضائع کر دیے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اب بہت گھبرا گئے۔ اس کے بعد مزید ایک سال محنت کی اور اپنے پروجیکٹ slv 3 کو کامیابی میں بدل دیا۔ ایس ایل وہ تھری پروجیکٹ کا تجربہ کامیاب ہو گیا۔ اس کامیابی کے بعد اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام سے ملاقات کی اور کامیابی پر مبارکباد دی۔

اس کے بعد ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام میزائل بنانے کے پروجیکٹ پر لگ گئے۔ 1981 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو پدما بھوشن ایوارڈ دیا گیا۔ 1982 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو ڈیفنس آرگنائزیشن کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ اب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے گائیڈڈ میزائل پروگرام تیار کیا۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے اینٹی گائیڈڈ میزائل ماڈل تیار کیا۔ اس کے بعد ڈاکٹر انہوں نے کئی طراح کے جدید میزائل بنائے۔

1983 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے تریشول میزائل لانچ کیا۔ 1988 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے پرتھوی میزائل لانچ کیا۔ بہت سے میزائل لانچ کرنے کے بعد اگنی لانچ کیا لیکن ناکام ہو گئے۔ کئی مرتبہ اگنی میزائل لانچ کرنے میں ناکامی ہوئی تو میڈیا والوں نے ان پر سوال اٹھانا شروع کر دیے۔ 1989 میں اگنی میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کر دیا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی وجہ سے ہندوستان میزائل کی دنیا میں چھٹے نمبر پر آ گیا۔ دو ہزار سترہ میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی وجہ سے ہی بھارت نے ایک سو چار سیٹلائیٹ ایک راکٹ سے لانچ کیے ۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی کوششوں کی وجہ سے ہندوستان ایٹمی ملک بنا ہے۔ 1997 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو بھارت رتن ایوراڈ سے نوازا گیا تھا۔ 1999 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ریٹائرڈ ہو گئے۔

اس دور میں واجپائی بھارت کے وزیراعظم تھے۔ واجپائی چاہتے تھے کہ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام وزیر بن جائیں لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور اس کے بعد ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام ساؤتھ واپس چلے گئے اور کالج میں پڑھانے لگے۔ 2002 میں ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام یونیورسٹی میں پڑھا رہے تھے ، ان کے آفس میں اس دور کے وزیراعظم واجپائی کا فون آیا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے فون اٹھایا، دوسری طرف واجپائی تھے انہوں نے کہا کلام اب انکار نہ کرنا۔ہم آپ کو بھارت کا صدر بنانا چاہتے ہیں۔ کلام نے کہا سر ایک گھنٹے کا وقت دے دیں۔ ایک گھنٹے کے بعد ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے ہاں کر دی۔

اس طرح ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام بھارت کے صدر بن گئے۔ دو سوٹ کیسز کے ساتھ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام صدر ہاؤس میں داخل ہوئے۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کی مرتے وقت کل جائیداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ ایک گاؤں کا وہ چھوٹا سا گھر جو ان کے والد نے بنایا تھا۔ اس کے علاوہ ہزاروں کتابیں ان کے کمرے میں موجود تھی۔

اس کے علاوہ ان کی ایک گھڑی تھی۔ اور ایک سی ڈی پلئیر تھا جس میں وہ گانے سنا کرتے تھے۔ چھ شلوار قمیض تھے اور ایک لیپ ٹاپ تھا۔ ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام مسلمان تھے لیکن گوشت نہیں کھاتے۔ جانوروں کے قتل کے خلاف تھے۔ وہ ایک پکے اور سچے سبزی خور تھے۔ ستائیس جولائی دو ہزار پندرہ بروز پیر شیلانگ میں ایک تقریب کے دوران سابق بھارتی صدر ڈاکٹر عبدالکلام کو اچانک دل کا دورہ پڑا جس سے وہ وہیں گر پڑے اور انہیں انتہائی تشویشناک حالت میں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکے اور دم توڑ دیا۔ عبدالکلام 83 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالکلام نے انیس سو چوہتر میں بھارت کا پہلا ایٹمی تجربہ کیا تھا جس کے باعث انہیں ’میزائل مین‘ بھی کہا جاتا ہے۔

بھارت کے گیارہویں صدر کے انتخاب میں انھوں نے 89 فیصد ووٹ لے کر اپنی واحد حریف لکشمی سہگل کو شکست دی۔ عبدالکلام کے بھارتی صدر منتخب ہونے کے بارے میں کسی کو کوئی شبہ نہیں تھا، ووٹنگ محض ایک رسمی کارروائی تھی۔ عبدالکلام بھارت کے تیسرے مسلمان صدر تھے۔ انہیں ملک کے مرکزی اور ریاستی انتخابی حلaقوں کے تقریباً پانچ ہزار اراکین نے منتخب کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ خواب وہ نہیں ہے جو آپ نیند میں دیکھیں، بلکہ خواب وہ ہے جو آپ کو نیند نہیں آنے دیں۔ اگر تم سورج کی طرح چمکنا چاہتے ہو سورج کی طرح جلنا سیکھو۔ کامیابی کے بارے میں کلام کتے ہیں کہ جس دن ہمارے دستخط آٹو گراف میں بدل جائیں، مان لیجیے آپ کامیاب ہو گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •